مثنوی : ایک تعارف
مثنوی: ایک وسیع اور وقیع صنف کی تفصیل اردو شاعری کی اصناف میں مثنوی کو ایک نمایاں اور وقیع مقام
Read Moreیونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
مثنوی: ایک وسیع اور وقیع صنف کی تفصیل اردو شاعری کی اصناف میں مثنوی کو ایک نمایاں اور وقیع مقام
Read Moreنظم کے لفظی معنیٰ پرونا ، لڑی ، کلامِ موزوں یا شعر کے ہیں۔ نظم یا شاعری اس کلام کو کہتے
Read Moreیہ نظم مثنوی کی ہیئت میں لکھی گئی ہے۔ نظم کے تین حصے ہیں۔ اس میں ایک کہانی بیان کی گئی ہے۔ ایک مسلم نوجوان چرچ میں داخل ہوتا ہے اور ایک خوبصورت عیسائی لڑکی پر نظر پڑتے ہی وہ اسے دل و جان دے بیٹھتا ہے۔ اس کے حسن و رعنائی کا اسیر ہوجاتا ہے۔ اس حصے میں شاعر نے اس عیسائی لڑکی کی ناز و ادا، اس کی خوبصورتی اور دلفریبی کو بیان کیا ہے۔ دوسرے حصے میں مسلم نوجوان اس سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے:
Read Moreاقبال کی نظم ’’جبریل وابلیس‘‘ کی مثال عالمی ادب میں بھی مشکل سے ملے گی۔ ابلیس مغربی ادب میں بہت سی نظموں اور ڈراموں کا موضوع رہا ہے۔ لیکن اقبال کی اس نظم کی برابری کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی۔ ایسا لگتا ہے کہ گوئٹے،ورلین، برنارڈ شاہ وغیرہ نے اپنے ڈراموں کے ذریعے شیطان کے متعلق جو کچھ کہنا چاہا ہے اس سے کہیں زیادہ اور کہیں گہرا اقبال نے اپنی نظم میں سمودیا ہے۔ معنی کے لحاظ سے یہ نظم سمٹا ہوا صحرا ہے۔ صدیوں پر پھیلے ہوئے اساطیر، عظیم مذاہب کے عقائد اور اسرار کائنات اور رموزحیات سے متعلق بڑے فلسفیانہ تصورات، تکوینی فکر کی ایک ایسی کرن میں بدل گئے ہیں جو نظم کے ہر لفظ کو ایک نئی بصیرت سے منور کرتی ہے۔پوری نظم کا ڈکشن تلمیحی لفظوں پر مشتمل ہے مثلاً ہمدم دیرینہ، جہان رنگ و بو، انکار، مقامات بلند، چشم یزداں، فرشتوں کی آبرو، افلاک، عالم بے کاخ و کو، تقنطو لا تقنطو، خیروشردل یزداں، قصہ آدم، اللہ ہو۔
Read More’’اعمال نامہ‘‘ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آپ بیتی کم جگ بیتی زیادہ ہے۔ کیوں کہ انھوں نے اس کتاب میں ملکی سیاست، ہندی اردو نزاع، علی گڑھ کے تعلیمی دور کے علاوہ مختلف سیاسی اور معاشرتی موضوعات کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ یہ کتاب کل چودہ ابواب پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے مشمولات سے اندازہ ہوتا ہے کہ
Read Moreانارکلی اردو ڈرامہ نگاری کی تاریخ کا ایک لازوال المیہ ہے جسے امتیاز علی تاج نے 1922 میں تحریر کیا۔ یہ نہ صرف اپنے دور کا مقبول ترین ڈرامہ تھا بلکہ آج بھی اردو ادب کے بہترین کلاسیکی ڈراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس ڈرامے نے اردو تھیٹر کو ایک نیا وقار دیا اور مغلیہ دور کی ایک رومانوی اور المیہ داستان کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
Read Moreاندر سبھا اردو کے مشہور ڈراموں میں سے ایک ہے، جسے امانت لکھنوی (اصل نام سید آغا حسن امانت) نے لکھا تھا۔ یہ اردو کا پہلا باقاعدہ اسٹیج ڈرامہ سمجھا جاتا ہے اور اردو ادب میں اس کی ایک تاریخی حیثیت ہے۔
Read Moreفہرست(عنوان پر کلک کرکے سبق کی PDF ڈاؤن لوڈ کریں) کتاب کی مکمل PDF یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں) ویڈیو
Read Moreفہرست(عنوان پر کلک کرکے سبق کا PDF ڈاؤن لوڈ کریں) کتاب کی مکمل PDF یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں ویڈیو کے
Read Moreفہرست(عنوان پر کلک کرکے سبق کی PDF ڈاؤن لوڈ کریں) کتاب کی مکمل PDF یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں ویڈیو
Read More
Users Today : 35
Users Yesterday : 30
Users Last 7 days : 228
Users Last 30 days : 843
Users This Month : 532
Users This Year : 2711
Total Users : 22430
Views Today : 89
Views Yesterday : 185
Views Last 7 days : 568
Views Last 30 days : 1688
Views This Month : 1105
Views This Year : 4812
Total views : 53427
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.110
Server Time : 18/04/2026 1:34 PM