داستان کا فن | ابن کنول
کہانی اصناف ادب کی کئی قسموں میں منقسم ہے۔ داستان ، قصہ ، حکایت، ناول، مختصر افسانہ۔ سب کہانی کی ہی مختلف شکلیں ہیں۔ ہر ایک کے اندر کوئی کہانی یا کوئی واقعہ ضرور ہوتا ہے۔ کہانی کی ایک قدیم صنف داستان ہے اور ارتقائی اصناف میں ناول اور مختصر افسانہ شامل ہیں۔ داستان، ناول اور افسانہ کا بنیادی فرق طوالت اور اختصار بھی ہے۔ داستان کہانی کی طویل اور نسبتا پیچیدہ صنف ہے۔ کہانی قصہ در قصہ ہو کر داستان بنتی ہے، بقول کلیم الدین احمد ”داستان کہانی کی طویل اور پیچیدہ بھاری بھر کم صورت ہے “ (۱) اس کے بر عکس ناول اور مختصر افسانہ میں اختصار اور سلجھے پن کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اس میں کہانی کی نسبتا سادہ اور غیر پیچیدہ صورت ہوتی ہے۔
داستان کی ابتدا بھی ان چھوٹی چھوٹی حکایتوں اور روایتوں سے ہوئی جن کا جنم انسانی تہذیب کے ساتھ ہوا۔ اس وقت آدمی کو لکھنا نہیں آتا تھا، اس نے تصویر کا فن بھی شاید نہیں سیکھا تھا ، اس وقت کا انسان جنگلوں اور غاروں میں زندگی گزارتا تھا، اس کا شعور بھی نو عمر تھا۔ لیکن قصہ کہنے اور سننے کا شوق اس میں موجود تھا۔ اس شوق کی تکمیل داستان کی ابتدا ہے۔ لیکن داستان فن کی حیثیت سے بقول ڈاکٹر اجمل اجملی ” جاگیر دارانہ عہد میں وجود میں آئی جب زندگی میں استحکام پیدا ہو چکا تھا، انسان نے ایک مضبوط سیاسی اور سماجی تنظیم بنائی تھی۔ تہذیب کافی آگے بڑھ آئی تھی “(۲)۔ ڈاکٹر جملی کی یہ بات اس وجہ سے قابل قبول ہے کہ داستان کا فن فرصت کے اوقات چاہتا ہے اور فیوڈل ایج میں نہ صرف عیش پسندی کا تمام سامان مہیا تھا بلکہ بعض صورتوں میں داد عیش دینے کے لیے وقت اور اطمینان بھی نصیب تھا۔ داستان بھی تفریح اور دل بہلانے کا ذریعہ بن گئی۔
غالب نے حدایق انظار کے دیباچہ میں لکھا ہے :داستان طرازی منجملہ فنون سخن ہے، سچ یہ ہے کہ دل بہلانے کے لیے اچھافن ہے۔ (۳)
انسان کی یہ فطری خواہش اور معاشرتی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ دنیا کے آلام و مصائب سے دور کسی فردوس میں رہ کر تمام شادمانیوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لے اور ڈاکٹر گیان چند کے الفاظ میں زندگی میں جن آسائشوں اور لذتوں کا ارمان تھا، افسانے میں وہ سب مہیا کر لیں ۔ “ (۴) در اصل داستان ایسی ذہنی آسودگی کا نام ہے جو پریشانیوں کے احساس کو ختم کر کے نیند کی پُر سکون وادی میں پہنچا کر حسین خوابوں کے جھرو کے کھول دیتی ہے، خوابوں کے یہ جھرو کے بالخصوص اس جاگیر دار طبقہ کے لیے تھے جن کے در میان داستان کو زیادہ فروغ حاصل ہوا۔ اسی طبقہ نے اس صنف ادب کی سر پرستی کی۔ یہی سبب ہے کہ داستانوں کی معاشرت جاگیردارانہ معاشرت اور نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ داستانوں کے بنیادی کردار فیوڈل ایج کے افراد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ داستانوں کا ہیرو ہمیشہ کوئی شاہزادہ ہوتا ہے، جس سے وابستہ ایک بڑی سلطنت اور ایک بڑی فوج ہوتی ہے۔ پوری کہانی اس کے گرد طواف کرتی ہے۔ دراصل یہ ہیر و وہ بادشاہ ہے جس نے داستان کی سر پرستی اپنے ذمہ لی اور اپنے لیے تفریح و تسکین کا سامان فراہم کیا۔ کیونکہ وہ خود داستان کا ہیرو ہے اس لیے ہیرو کی فتح پر اُسے اپنی فتح و کامرانی کا احساس ہوتا ہے۔ سننے والا ہیرو کی شکست برداشت نہیں کر سکتا۔ شکست داستان سے حاصل ہونے والے احساس برتری کو مجروح کرتی ہے۔ ڈاکٹر گیان چند نے صحیح لکھا ہے کہ ”داستان گو صرف وہی کچھ بیان کرتا تھا جو اس کے سر پرست کو خوش آئے۔ “(۵)
داستان کے فن کا بنیادی عنصر اس کی طوالت ہے، ہم پیشتر کہہ چکے ہیں کہ داستان اس ماحول کی پیداوار ہے جہاں لوگوں کے پاس فرصت اور اطمینان کی افراط تھی۔ غم روزگار سے بے نیاز تھے ، فکرِ آخرت سے آزاد تھے۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں وقت گزارنے کے لیے عورت اور شراب کے علاوہ سب سے زیادہ دلچسپ مشغلہ داستان سننا ہو سکتا تھا جس کے سننے سے عورت کی ہم آغوشی کی لذت اور شراب کا نشہ دونوں بیک وقت حاصل ہو جاتی تھیں جس میں دو آتشہ کا مزہ ہو ، اس کی تمنا کون نہیں کرے گا اور زیادہ سے زیادہ وقت اس ماحول میں گزارنے کا خواہاں ہو گا۔ اسی لیے داستان گو ایک کہانی میں بہت سی کہانیاں شامل کر کے داستان کو طول دینے کی کوشش کرتا تھا لیکن ہر کہانی بنیادی قصہ کا حصہ معلوم ہوتی تھی۔ داستان گو دوسری کہانی اس فنکارانہ حسن کے ساتھ شریک داستان کرتا تھا کہ وہ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں معلوم ہوتی تھیں۔ بات میں سے بات اس طرح پیدا کی جاتی تھی کہ سننے والے کو بے ربطی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔
داستان کی طوالت اور سامعین کے اشتیاق کا اندازہ ان واقعات سے لگایا جا سکتا ہے جو لکھنو کی داستان گوئی کے بارے میں مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ لکھنو کے کسی امیر کے یہاں ایک داستان گو قصہ گوئی کے لیے ملازم تھا۔ وہ ایک داستان بیان کر رہا تھا کہ جس میں کسی شاہزادے کی بارات کا ذکر تھا کہ بارات سسرال کے دروازے تک پہونچ چکی ہے ، اس دوران داستان گو کو کسی اشد ضروری کام سے باہر جانا پڑ گیا۔ امیر کے کہنے پر داستان گوداستان سنانے کے لیے اپنے شاگرد کو مقرر کر گیا اور اس سے کہہ گیا کہ میں جلد واپس آؤں گا تم داستان کو سنبھالے رکھنا۔ داستان گو پندرہ دن بعد جب لوٹ کر آیا تو معلوم ہوا کہ بارات ابھی وہیں کھڑی ہے جہاں وہ چھوڑ کر گیا تھا یعنی شاگرد نے پندرہ دن بارات کی شان و شوکت اور سرال والوں کے خیر مقدمی کے انتظامات میں گزار دیئے۔ شاگرد کے پندرہ دن کے بیان کے بعد استاد نے مزید پندرہ دن بارات کی آرائش کو بیان کر کے بارات کو دروازے پر کھڑا رکھا۔ (۶) اسی طرح کا ایک واقعہ ڈاکٹر گیان چند نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ (۷) داستان میں اس طرح کی طوالت کو غیر ضروری نہیں کہا جاتا تھا کیونکہ اس سے سامعین اکتاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ داستان گو کے بیان میں تکرار نہیں ہوتی، وہ اپنی قوت متخیلہ سے نئے نئے مضامین پیدا کرتا ہے۔ داستان کے حسن کا انحصار ہی داستان گو کی قوت متخیلہ پر ہے۔ خواجہ امان نے داستان کے فن کا ذکر کرتے ہوئے اولیت طوالت ہی کو دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
مطلب مطول و خوشنما جس کی بندش میں توارد مضمون اور تکرار بیان واقع نہ ہو اور مدت دراز تک اختتام کے سامعین مشتاق ہیں۔ “ (۸)
امان نے طوالت کے علاوہ داستان گوئی کی دوسری خصوصیات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے مثلاً انہوں نے کہا ہے کہ بجز مدعائے خوش ترکیب اور مطلب دلچسپ کوئی عبارت سامع خراشی و ہزل نہیں ہونی چاہیے۔“ یہ خوبی داستان کے لیے لازمی بھی ہے کیونکہ سامعین کی دلچسپی اور اشتیاق کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ داستان میں کوئی ایسا مضمون یا ایسی عبارت بیان نہ کی جائے جسے سن کر اکتاہٹ محسوس ہو۔ ورنہ داستان جیسی طول طویل صنف قابل قبول نہیں ہو گی، دلچسی مضامین کے ساتھ ساتھ امان نے لطافت بیان اور سریع الفہمی پر بھی زور دیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی کہی ہے کہ قصہ کو اس طرح بیان کیا جائے کہ تواریخ گزشتہ کا لطف آئے۔ ڈاکٹر گیان چند نے اس بات کے کچھ اور معنی لیے ہیں اور کہا ہے کہ ” یہ داستان کی خصوصیت نہیں داستان اور تاریخ ایک دوسرے کی ضد ہیں “ (۹) جبکہ خواجہ امان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ داستان میں اس قدر مبالغہ سے کام نہ لیا جائے کہ وہ حقیقت سے بالکل دور ہو جائے بلکہ ایسے مضامین بیان کرنے چاہئیں کہ ان پر حقیقت کا شائبہ ہو اور ایک اچھے فن پارے کی خوبی ہے کہ وہ کسی عہد کا عکاس معلوم ہو۔
داستان کی دنیا کو حقیقی دنیا ظاہر کرنے کے لیے داستان گو اپنے اور داستان کی دنیا کے عہد میں دوری پیدا کر دیتا ہے ، وہ نہ اپنے زمانہ کے افراد کو داستان کے کردار بناتا ہے اور نہ اپنے قرب وجوار میں آباد جانے پہچانے شہروں کو داستان میں شامل کرتا ہے ، اپنے سامنے کی چیزیں بیان کرنے سے داستان کا حسن ختم ہو جاتا ہے داستان میں موجود زندگی اگر چه داستان گو کے عہد کی زندگی ہوتی ہے لیکن داستان گو انداز بیان سے یہ ظاہر کرتا ہے جیسے صدیوں پہلے کا کوئی قصہ بیان کیا جارہا ہے۔ داستان ہمیشہ اس طرح شروع کی جاتی ہے کہ بہت پہلے کی بات ہے فلاں ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ زماں و مکاںکا فاصلہ پیدا کر کے داستان گو سامعین کا اشتیاق بڑھاتا ہے۔ صدیوں پہلے کسی دور دیس میں کہہ کر داستان گو کو بہت کچھ کہنے کا موقع مل جاتا ہے۔ وہ ہر نا قابل یقین بات کو زمان و مکان کے فاصلے کی کی آڑ میں حقیقت کا روپ دے کر بیان کر سکتا ہے اور داد تحسین پاسکتا ہے کیونکہ اگر داستان گو نے یہ کہا کہ سو سال پہلے دہلی شہر میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا، اس کا دشمن ایک خونخوار دیو تھا کہ جس کا قد پانچ سو گز کا تھا یادتی میں رہنے والے ایک شاہزادے کو پریاں اٹھا کر لے گئیں تو ایسی باتیں سن کر سامعین بجائے تحسین و آفریں کے داستان گو کا مذاق اڑائیں گے کہ کیا ہڈل اور بے ہودہ بکتا ہے۔ ہم نے تو کبھی کسی ایسے بادشاہ کے بارے میں نہیں سنا۔ اس لیے داستان میں دور دراز ممالک کے نام لیے جاتے ہیں مثلا ختن، چین، یمن، روم، دمشق، شام وغیرہ۔ یہ علاقے اس زمانے میں جب داستانیں لکھی جارہی تھیں بہت دور سمجھے جاتے تھے اور اس عہد کے لوگ آج کی طرحدوسرے ملکوں کے حالات سے واقف نہیں تھے۔ اس لیے دوسرے ملک کی ہر بات ان کے لیے قابل یقین ہوتی تھی اور یہ بات داستان کے فن کی خوبیوں میں ہے کہ فرضی اور بے بنیاد قصہ بھی حقیقت کا لطف دے۔
طوالت، بے ربطی اور پیچیدگی کی موجودگی میں داستان سے یہ توقع رکھنا کہ اس میں کوئی مربوط پلاٹ ہو گا ، عجیب سی بات لگتی ہے۔ پلاٹ کو دو قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک سادہ اور دوسرا پیچیدہ۔ سادہ پلاٹ کا مطلب ہے کہ کہانی سیدھے سادے انداز میں بیان کر دی جائے یعنی کہانی کی ابتدا ہو ، ایک درمیان اور پھر اختتام لیکن پیچیدہ پلاٹ میں ابتدا اور اختتام تو ہوتا ہے لیکن درمیان میں کہانی ادھر اُدھر بھٹکتی رہتی ہے۔ بیشتر داستانوں کا پلاٹ پیچیدہ ہوتا ہے۔ داستان گو ایک خاص طے شدہ آغاز و انجام کو سوچ کر داستان شروع کر دیتا ہے لیکن درمیان میں قصے پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں اور داستان ایک وسیع دائرہ میں پھیل جاتی ہے۔ ایک کہانی میں کبھی کبھی سینکڑوں کہانیاں شامل ہو جاتی ہیں اور ہر کہانی کا تعلق داستان کی بنیادی کہانی سے ہوتا ہے ” بوستان خیال“ اس کی واضح مثال ہے کہ جس میں بے شمار ضمنی کہانیاں شامل ہیں۔
داستان میں پیچیدہ پلاٹ کی موجودگی اس میں فنی حسن پیدا کرتی ہے۔ اگر داستان گو صرف اتنا بیان کر دے کہ ایک شاہزادہ تھا۔ چودہ برس کی عمر میں اس نے خواب میں ایک شاہزادی کو دیکھا یا کسی شاہزادی کی تصویر دیکھی ، عشق کا جذ بہ بیدار ہوا، تلاش یار ا میں اپنے وطن سے نکل پڑا، کچھ دن کے سفر کے بعد شاہزادی مل گئی، شاہزادی نے جس گھڑی شاہزادے کو دیکھا بے اختیار عاشق ہو گئی۔ دونوں مل گئے داستان ختم ہو گئی۔ جس طرح انہیں وصال نصیب ہو ا خدا سب کی امیدیں بر لائے اس میں بات پوری تو ہو جاتی ہے لیکن داستان نہیں بنتی۔ داستان مدت دراز کے بعد اختتام چاہتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شاہزادے کے اوپر آفات زمانہ نازل کی جاتی ہیں، اسے راہِ عشق میں حیران و پریشان دکھلایا جاتا ہے۔ اس صحر انور دی میں نئے نئے قصے جنم لیتے ہیں جس سے داستان کے پلاٹ میں پیچیدگی پیدا ہوتی ہے اور پیچیدگی داستان میں دلچسپی اور فنی حسن پیدا کرتی ہے۔ مختصر یہ کہا جا سکتا ہے کہ داستان میں ایک بے ترتیب اور بے قاعدہ پلاٹ ہوتا ہے جسے داستان گو کہانی کے ساتھ ساتھ مرتب کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ داستان گو قوت متخیلہ پر منحصر ہے کہ وہ اسے کتنا محدود کر سکتا ہے اور کتنی وسعت دے سکتا ہے۔
داستان کے پلاٹ کی بے ربطی اس ماحول کی پیداوار ہے جس میں داستانیں لکھی گئیں، وہاں داستان گو کو یہ خیال نہیں ہوتا تھا کہ وقت کتنا گذر گیا اور نہ سننے والوں کو وقت کی کمی اور اس کے گذر جانے کا احساس ہو تا تھا یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ داستان لکھنے یا پڑھنے سے زیادہ سنانے اور سننے کا فن تھا۔ داستان گو قوت متخیلہ کی جس قدر جولانیاں کہنے میں دکھا سکتا تھا، جتنے زبان و بیان کے نشیب و فراز زبانی بیان میں پیش کر سکتا تھا، اس قدر لکھنے میں نہیں۔ رقم کرنے میں زبان کی پابندیاں عنان تخیل کو آزاد نہیں چھوڑتیں پھر بھی داستان نگاروں نے اپنی قوت متخیلہ کے جو ہر صفحات قرطاس پر دکھائے ہیں۔ اردو میں داستانِ امیر حمزہ اور بوستان خیال اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔
داستان کا بنیادی مقصد گر چه مشق کی داستان کا بیان ہو تا ہے لیکن داستان گواس ایک رومانی قصے کے ارد گرد دیگر واقعات اور کہانیاں شامل کر کے داستان کے ایک خاص فنی پہلو یعنی طوالت کو بر قرار رکھتا ہے۔
داستان کو طول دینے کے لیے اس میں مافوق الفطرت عناصر کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اگر داستانوں میں سے مافوق الفطرت عناصر کو نکال دیں تو داستان کی عمارت ہی ڈھے جائے گی۔ یہ بات بڑی حد تک صحیح ہے۔ فوق الفطرت عناصر کی موجودگی داستان میں صرف داستان کا حجم بڑھانے کے لیے ہی نہیں ہوتی بلکہ حیرت و استعجاب کی فضا پیدا کرتی ہے، اجنبی مخلوق کے بارے میں بیان کر کے سامعین کا اشتیاق بڑھایا جاتا ہے۔ آج کے مقابلہ میں پچھلی صدیوں کے لوگ نسبتا زیادہ تو ہم پرست تھے۔ دیو ، بھوت، پریت اور پریوں پر بہت کچھ یقین تھا اور اس یقین کی وجہ مذہبی اور معاشرتی اعتقادات تھے۔ ہر مذہب میں فوق الفطرت مخلوق کا تصور موجود ہے اس لیے ہر ملک کے ابتدائی ادب میں فوق الفطرت عناصر ملتے ہیں۔
داستانوں میں فوق الفطرت مضامین کی شمولیت بارگراں نہیں گزرتی کیونکہ اس کے شامل کرنے میں داستان گو بیشتر اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ وہ اس خوبصورتی سے ایسے مضامین شامل کرتا ہے کہ غیر حقیقی ہونے کے باوجود حقیقت معلوم ہوتے ہیں۔ مبالغہ کا احساس نہیں ہوتا اور نہ داستان کے حسن بیان کو مجروح کرتا ہے۔ بقول فرمان فتحپوری مافوق سے داستانوں میں پھیکا پن نہیں بانکپن پیدا ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ انسان کے مادہ تجسس اور تخیل کے لیے تازیانے کا کام کرتا ہے دوسری طرف وہ داستان میں پیچیدگی، بو قلمونی اور دلچسپی کا سامان فراہم کرتا ہے۔“ (۱۱)
داستانوں کے موضوعات محدود ہوتے ہیں۔ پوری داستان کا انحصار ایک شاہزادے اور ایک شاہزادی کے معاشقے پر ہوتا ہے لیکن انہیں دو کرداروں کے واسطے سے داستان نگار بے شمار مضامین پیدا کر لیتا ہے یہاں تک کہ ہر سننے والے کے مذاق و دلچسپی کا سامان ایک ہی داستان میں فراہم ہو جاتا ہے۔ داستانوں کے فن کی تکنیک میںبنیادی عنصر قوت بیان ہے کیونکہ تمام داستانوں میں ایک ہی کہانی ہوتی ہے جسے بار بار هر داستان گودہراتا ہے لیکن یہ داستان گو کی قوت بیان پر منحصر ہے کہ وہ داستان میں کس قدر جدت و تنوع پیدا کر سکے۔ زور بیان ہی سے داستان کی چھوٹی سے چھوٹی کہانی وسعت پاتی ہے۔ داستان کے فن کی مثال ایک پرانے بر تن پر قلعی چڑھانے کے فن کی سی ہے۔ بر تن پرانا ہو تا ہے لیکن یہ قلعی کرنے والے کا کمال ہے کہ وہ اسے کتنا چھکاتا ہے ، کتنا اس میں نیا پن پیدا کرتا ہے۔ داستان کا موضوع بھی پرانا اور روایتی ہو تا ہے اس کو تازگی بخشنا اور نئے حسن سے آراستہ کر ناداستان گو کے ہاتھ میں ہے۔ یہ فنکار کی فنی پر کچھ ہوتی ہے کہ وہ اس موضوع کو نئے سانچے میں ڈھال کر اس طرح پیش کرے کہ اس کے پرانے ہونےکا احساس ختم ہو جائے اور سننے والا بالکل نیا سمجھ کر سنے۔
پروفیسر ابن کنول (مرحوم) سابق صدر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی، دہلی
(ماخوذ: داستان سے ناول تک)
حواشی
(1) فن داستان گوئی از کلیم الدین احمد، صفحہ 14۔
(۲) اردو کے افسانوی ادب میں عوامی زندگی کی عکاسی از ڈاکٹر اجمل اجملی ، صفحہ 11(قلمی)
(۳) بوستان خیال ( حدائق انظر ) از محمد تقی خیال مترجم خواجه امان دهلوی، پیک ۲۔
(۴) اردو کی نثری داستانیں از ڈاکٹر گیان چند جین ، صفحہ ۱۸۔
(۵) ایضاً، صفحہ ۷۷۔
(۶)اردو کے افسانوی ادب میں عوامی زندگی کی عکاسی ، صفحہ ۱۶۔
(۷) اردو کی نثری داستانیں، صفحہ ۵۶۔
(۸) بوستان خیال (حدائق انظر) پ۔
(۹) اردو کی نثری داستانیں، صفحہ ۵۷۔
(۱۰) اردو کی منظوم داستانیں از ڈاکٹر فرمان فتحپوری، صفحہ ۶۰۔

Users Today : 5
Users Yesterday : 42
Users Last 7 days : 209
Users Last 30 days : 979
Users This Month : 497
Users This Year : 3600
Total Users : 23319
Views Today : 7
Views Yesterday : 65
Views Last 7 days : 428
Views Last 30 days : 2207
Views This Month : 992
Views This Year : 6702
Total views : 55317
Who's Online : 0