تاریخ تحقیق تنقید

تاریخ تحقیق تنقید

اردو زبان کا  آغاز و ارتقا

زبان سماجی زندگی میں اظہار و ترسیل کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ ضروریات زندگی نے زبان پیدا کی۔ زبان نے تہذیبی عمل کو ایک خاص سمت مہیا کی ۔ ہر جغرافیائی علاقے میں کوئی نہ کوئی زبان ضرور پروان چڑھی اسی لیے ایک ہی ملک میں کئی زبانیں اور بولیاں وجود میں آئیں ۔ ہندوستان میں چھوٹی بڑی تقریباً 600 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ چنانچہ ہندوستان کو زبانوں کا گھر بھی کہا جاتا ہے۔ کوئی بھی زبان یکا یک وجود میں نہیں آتی۔ اس کے بننے کے پیچھے صدیوں کا تاریخی اور تہذیبی عمل کارفرما ہوتا ہے۔ جس طرح کوئی تہذیب بے میل نہیں ہوتی اسی طرح دنیا کی کسی زبان کو بے میل نہیں کہا جا سکتا۔ اردو زبان بھی مخلوط یا ملی جلی زبان ہے ۔ دوسری زبانوں کی طرح اردو زبان بھی صدیوں میں بنی ہے اور اس کی بناوٹ میں کئی بولیوں اور زبانوں نے حصہ لیا ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی سے دسویں اور گیارھویں صدی عیسوی تک جو مسلمان ہندوستان آئے ، اُن کا تعلق مختلف علاقوں سے تھا۔ ان میں عرب، ایرانی، افغانی اور ترکی تھے جن کی زبانیں الگ الگ تھیں۔ ایک ہی مذہب کے پیروکار ہونے کے باوجود فکر و خیال اور آداب زندگی کے لحاظ سے ان میں کافی فرق تھا۔ مسلمانوں کی آمد کے وقت یہاں پراکرت زبانیں بولی جاتی تھیں۔ سنسکرت اعلیٰ طبقے تک محدود ہوگئی تھی ۔ پراکرتوں نے عوامی میل جول کی زبان کا درجہ حاصل کر لیا تھا۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں جو پراکرتیں مقامی بولیوں کے طور پر رائج تھیں، انھی نے آگے چل کر ایک یا ایک سے زیادہ محکم زبانوں کی شکل اختیار کی۔ انھی میں ایک اردو بھی ہے۔

Read More

Our Visitor

0 2 3 3 3 7
Users Today : 14
Users Yesterday : 9
Users Last 7 days : 198
Users Last 30 days : 972
Users This Month : 515
Users This Year : 3618
Total Users : 23337
Views Today : 18
Views Yesterday : 12
Views Last 7 days : 353
Views Last 30 days : 2187
Views This Month : 1015
Views This Year : 6725
Total views : 55340
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.10
Server Time : 17/05/2026 4:41 PM
error: Content is protected !!