نظم گوئی

نظم گوئی

نظم’’برق کلسا‘‘: اکبر الہ آبادی – مضمون نگار: ڈاکٹر احمد علی جوہر

یہ نظم مثنوی کی ہیئت میں لکھی گئی ہے۔ نظم کے تین حصے ہیں۔ اس میں ایک کہانی بیان کی گئی ہے۔ ایک مسلم نوجوان چرچ میں داخل ہوتا ہے اور ایک خوبصورت عیسائی لڑکی پر نظر پڑتے ہی وہ اسے دل و جان دے بیٹھتا ہے۔ اس کے حسن و رعنائی کا اسیر ہوجاتا ہے۔ اس حصے میں شاعر نے اس عیسائی لڑکی کی ناز و ادا، اس کی خوبصورتی اور دلفریبی کو بیان کیا ہے۔ دوسرے حصے میں مسلم نوجوان اس سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے:

Read More
نظم گوئی

مکالمہ جبریل و ابلیس: ایک جائزہ – پروفیسر وارث علوی

اقبال کی نظم ’’جبریل وابلیس‘‘ کی مثال عالمی ادب میں بھی مشکل سے ملے گی۔ ابلیس مغربی ادب میں بہت سی نظموں اور ڈراموں کا موضوع رہا ہے۔ لیکن اقبال کی اس نظم کی برابری کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی۔ ایسا لگتا ہے کہ گوئٹے،ورلین، برنارڈ شاہ وغیرہ نے اپنے ڈراموں کے ذریعے شیطان کے متعلق جو کچھ کہنا چاہا ہے اس سے کہیں زیادہ اور کہیں گہرا اقبال نے اپنی نظم میں سمودیا ہے۔ معنی کے لحاظ سے یہ نظم سمٹا ہوا صحرا ہے۔ صدیوں پر پھیلے ہوئے اساطیر، عظیم مذاہب کے عقائد اور اسرار کائنات اور رموزحیات سے متعلق بڑے فلسفیانہ تصورات، تکوینی فکر کی ایک ایسی کرن میں بدل گئے ہیں جو نظم کے ہر لفظ کو ایک نئی بصیرت سے منور کرتی ہے۔پوری نظم کا ڈکشن تلمیحی لفظوں پر مشتمل ہے مثلاً ہمدم دیرینہ، جہان رنگ و بو، انکار، مقامات بلند، چشم یزداں، فرشتوں کی آبرو، افلاک، عالم بے کاخ و کو، تقنطو لا تقنطو، خیروشردل یزداں، قصہ آدم، اللہ ہو۔

Read More

Our Visitor

0 2 3 3 1 9
Users Today : 5
Users Yesterday : 42
Users Last 7 days : 209
Users Last 30 days : 979
Users This Month : 497
Users This Year : 3600
Total Users : 23319
Views Today : 7
Views Yesterday : 65
Views Last 7 days : 428
Views Last 30 days : 2207
Views This Month : 992
Views This Year : 6702
Total views : 55317
Who's Online : 0
Your IP Address : 74.7.243.196
Server Time : 16/05/2026 2:52 PM
error: Content is protected !!