مکالمہ جبریل و ابلیس: ایک جائزہ – پروفیسر وارث علوی
اقبال کی نظم ’’جبریل وابلیس‘‘ کی مثال عالمی ادب میں بھی مشکل سے ملے گی۔ ابلیس مغربی ادب میں بہت سی نظموں اور ڈراموں کا موضوع رہا ہے۔ لیکن اقبال کی اس نظم کی برابری کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی۔ ایسا لگتا ہے کہ گوئٹے،ورلین، برنارڈ شاہ وغیرہ نے اپنے ڈراموں کے ذریعے شیطان کے متعلق جو کچھ کہنا چاہا ہے اس سے کہیں زیادہ اور کہیں گہرا اقبال نے اپنی نظم میں سمودیا ہے۔ معنی کے لحاظ سے یہ نظم سمٹا ہوا صحرا ہے۔ صدیوں پر پھیلے ہوئے اساطیر، عظیم مذاہب کے عقائد اور اسرار کائنات اور رموزحیات سے متعلق بڑے فلسفیانہ تصورات، تکوینی فکر کی ایک ایسی کرن میں بدل گئے ہیں جو نظم کے ہر لفظ کو ایک نئی بصیرت سے منور کرتی ہے۔پوری نظم کا ڈکشن تلمیحی لفظوں پر مشتمل ہے مثلاً ہمدم دیرینہ، جہان رنگ و بو، انکار، مقامات بلند، چشم یزداں، فرشتوں کی آبرو، افلاک، عالم بے کاخ و کو، تقنطو لا تقنطو، خیروشردل یزداں، قصہ آدم، اللہ ہو۔
Read More
Users Today : 28
Users Yesterday : 101
Users Last 7 days : 511
Users Last 30 days : 2004
Users This Month : 1295
Users This Year : 13104
Total Users : 32823
Views Today : 42
Views Yesterday : 176
Views Last 7 days : 1012
Views Last 30 days : 4203
Views This Month : 2808
Views This Year : 26987
Total views : 75602
Who's Online : 0