نظم گوئی

مکالمہ جبریل و ابلیس: ایک جائزہ – پروفیسر وارث علوی

پوری نظم کا ڈکشن تلمیحی لفظوں پر مشتمل ہے مثلاً ہمدم دیرینہ، جہان رنگ و بو، انکار، مقامات بلند، چشم یزداں، فرشتوں کی آبرو، افلاک، عالم بے کاخ و کو، تقنطو لا تقنطو، خیروشردل یزداں، قصہ آدم، اللہ ہو۔

لیکن ابلیس جبریل کے طنز کا پانسہ پلٹ دیتا ہے کیونکہ فکر ابلیس کے پیچھے فکراقبال کی زبردست طاقت ہے۔ ابلیس، جبریل سے کسی نظریاتی بحث میں الجھنا نہیں چاہتا کیونکہ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ دونوں اب بالکل الگ دنیاؤں میں بستے ہیں اور شاید اس کی بات جبریل سمجھ ہی نہیں پائے۔ ’آہ اے جبریل تو واقف نہیں اس راز سے‘۔ میں آہ کا لفظ اسی افسوس ناک صورت حال کی ترجمانی کرتا ہے۔ چنانچہ وہ اب صرف اپنے احساسات کے بیان پر اکتفا کرتا ہے کہ ’ اب یہاں میری گذر ممکن نہیں ممکن نہیں ‘ کیوں ممکن نہیں ؟ کیونکہ جہان کروبیاں کی سکونیت وہاں کی بے آرزو زندگی اب اسے قبول نہیں کیونکہ۔ اور یہاں سے فکر ابلیس کی جگہ فکر اقبال لیتی ہے کہ :

ابلیس کو ہول آتا ہے اس خاموشی سے۔ کون سی خاموشی ؟ جو زندگی کے ہم ہموں سے خالی ہواور ان ہم ہموں سے اقبال کی شاعری گونجتی ہے۔ ہم ہموں کا بیان اقبال کی شاعری میں بہت ہوا ہے گو اس نظم میں نہیں ہوا۔ گویا اس نظم کی تفہیم کے لیے شعر اقبال سے کماحقہ واقفیت ضروری ہے۔ عالم بے کاخ و کو کی معنویت اس ترکیب کی تلمیح میں (اگر کوئی ہے) اتنی پوشیدہ نہیں جتنی کہ اس اشارے میں ہے کہ کروبیوں سے جہاں آباد نہیں ہوتے۔

تو کروبیوں کا جہا ن بے کاخ و کو ہے اور ان سے آباد ہوتے ہوئے بھی خاموش ہے کیونکہ ہم ہموں سے خالی ہے جو سوزو ساز اور درد و داغ کے جذبات کے زائیدہ ہیں۔

اور اس نظم میں مکالمہ دوہم سروں کے بیچ ہے۔ڈرامائی مکالمے کا تقاضا ہوتا ہے کہ تناؤ اور توازن برابر قائم رکھا جائے۔ جبریل اور ابلیس دونوں اپنے اپنے مقام اور مرتبے کے مطابق بات کرتے ہیں اور سوال و جواب میں کسی فریق کو نیچا دکھانے کی بجائے ایک ایسی صورت حال کی نمود ہے جو دونوں کے لیے نئی ہے اور اسی لیے ایک کے لیے ناقابل فہم اور دوسرے کے لیے ناقابل ترسیل ہے۔ بطور ڈرامے کے تماش بیان کے ہم دونوں کے سروکاروں کو سمجھتے ہیں لیکن یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ دونوں تجربات کے دو الگ منطقوں سے بول رہے ہیں۔

جبریل فرشتہ ہیں اور خدا کے مقرب خاص۔ ابلیس بھی معلم الملکوت تھا اور اب   راندۂ درگاہ ہے۔ لیکن تقرب اسے بھی اس معنی میں حاصل ہے کہ دل یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ ابلیس کو اپنے گناہ پر نہ تو پشیمانی ہے نہ سزا کا غم کیونکہ انکار اور اس کی پاداش میں اسے ایک نیا جہان ملا ہے جو ملائے اعلیٰ سے بھی زیادہ دل فریب اور امکانات سے بھرا ہوا ہے۔ اسی سبب  سے مقام جبریل ابلیس کے لیے قابل رشک نہیں کیونکہ وہاں محض اللہ ہو اللہ ہو کی تہلیل ہے، اطاعت  اور عبادت ہے اور ایسی سکونیت جو حرکت کے اس جوہر سے واقف نہیں جس میں ہر لحظہ نیا طور نئی برق تجلی ہے۔ شیطان طاقت ہے، شرکی ہی سہی لیکن طاقت ہونے کے سبب ہی حرکت مسلسل ہے جس میں جزرومد اور سکون و اضطراب ہے، بیم ورجاکا اندوہ اور شکست آرزو کا، حصول منزل اور نارسائی کا ۔۔۔۔ اور عالم ملکوت اس پیچ و تاب، اس بے قراری اور سرشاری، تلاطم خیزی اور گہماگہمی سے خالی ہے۔

اقبال طاقت کے پرستار عمل کے علم بردار اور قوت حیات کے نغمہ سنج ہیں۔ ان کے یہاں  قوت حیات کی علامت وہ جوئے کہستان ہے جو اچکتی لچکتی سرکتی ہوئی بہتی ہے۔ اور جو ٹھہرے تو پتھروں کی سل اور پہاڑوں کے دل چیردیتی ہے۔ اقبال عافیت کوش نہیں خطر پسندہیں دنیا ان کے لیے عزائم کی جولان گاہ اور خیروشر کی رزم گاہ ہے اور وہ ان سبک ساران ساحل میں سے نہیں جو محفوظ فاصلوں سے طوفانوں کا نظارہ کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں میں سے ہیں جو اس وقت موجوں پر اپنا سفینہ پھینکتے ہیں، جب ناخدا دور، ہوا تیز اور کام نہنگ قریب ہوتا ہے۔ انھیں تو عذاب کے لیے جہنم کی وہ آگ بھی قبول نہیں جو سرد ہو۔ وہ سوز جو غم حیات کے شعور کا بخشا ہوا ہے اور جو دل گداختہ کی نعمت عطا کرتا ہے اور وہ ساز جو دل گداختہ کو ہر حال میں غنچے کی طرح کھلنا سکھاتا ہے۔ اقبال کے لیے سرمایۂ حیات ہے۔انکار ابلیس کے لیے کائنات کے سربستہ رازوں کا انکشاف ثابت ہوتا ہے اس کی سزا میں اس کی جزا ہے اور اس کی شکست میں اس کی تکمیل۔ عالم اقدس میں اپنا مقام بلند کھونے کا اسے کوئی افسوس نہیں کیونکہ جس آتشیں جوہر سے اس کا خمیراٹھا ہے وہ اپنی تکمیل نیازمندی میں نہیں بلکہ سرکشی میں پاتا ہے، ایک ایسی سرکشی جو دائمی اضطراب کو جنم دے، ایک ایسا اضطراب جو دل کو عبودیت اور تقدیس کی سکونیت سے نکال کر دردآشنا کرے اور داغوں کی بہار دکھائے۔ وہ تقدیس اور اطاعت شعاری جس میں آرزو کی تشنہ لبی جستجو کی آبلہ پائی اور علم کی حیرانی نہ ہو اقبال اور ابلیس دونوں کو قبول نہیں۔ وہ ابلیس جس کا چہرہ اقبال کے فلسفے کے آتشیں جرعات سے دہکا ہوا ہے اساطیرکے زبوں حال یرقانی ابلیس سے کسی قدر مختلف ہے۔ اقبال خدا سے کہہ سکتے ہیں۔ دونوں نظرو کم سود ابلیس تیری آغوش میں پیدا ہوا اور میری آغوش میں پل کر جوان ہوا۔

ملٹن اور اقبال دونوں کے یہاں شیطان کا کردار باوقار پرجلال اور قدآور ہے لیکن ’’فردوس گم گشتہ‘‘ جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے شیطان کا قد کم ہوتا جاتا ہے جب کہ اقبال کی تمام نظموں میں وہ یکساںرہتا ہے۔ اس کی وجہ جیسا کہ عرض کیا جاسکتا ہے طویل رزمیہ نظم اور مختصر ڈرامائی نظموں کے فارم میں فرق ہے۔ ملٹن نے شیطان کو باغی تو بنایا لیکن شیطان نے بغاوت کیونکہ اس کے وجوہ خود ملٹن کے ذہن میں واضح نہیں تھے۔ دراصل رزمیہ نظم کے بیانیہ اسلوب کے چند اندرونی فنی تقاضے تھے جن سے ملٹن عہدہ برآہونہیں سکا۔ مثلاً یہ کہ رزمیہ بیانیہ بغاوت اور جنگ کے اسباب کا چوکسائی اور صفائی سے اندراج کرتا ہے تاکہ برسر پیکار حریف طاقتوں کے مقاصد سامنے آسکیں۔ صرف اسی صورت میں باغی کا کردار ہماری ہمدردیاں وصول کرسکتا ہے۔ ابلیس پراپنی نظموںکے ڈرامائی اور مکالماتی فارم کی وجہ سے اقبال بیانیہ شاعری کے اس جبر سے بچ گئے ہیں کہ حریف قوتوں کے مقاصد سامنے لائیں۔ اس کے باوجود یہ مقاصد اقبال کے یہاں ملٹن سے بھی زیادہ واضح ہیں۔ اس معاملے میں اقبال کے ذہن میں کوئی الجھن نہیں تھی کیونکہ اقبال مذہبی اساطیر اور روایتوں سے بھی بلند ہوکر خدا اور شیطان کی پیکار کو ایک اعلیٰ فلسفیانہ سطح پرکائناتی طاقتوں کی پیکار کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ ملٹن کی شاعرانہ قوت کا پورا راز رزمیہ بیانیہ اور رجزیہ ملکارکی بلند آہنگی ہی ہے جب کہ اقبال کی طاقت کارمز فلسفیانہ داروگیر اور ڈرامائی مکالموں میں ہے۔  ان مکالموں کی کامیابی کے لیے ضروری تھا کہ ابلیسی اور خدائی طاقتوں کا مقابلہ برابری کی سطح پر ہو۔  اقبال یہاں بھی مذہبی معتقدات سے بلند ہوکر فن اور فلسفہ دونوں کے تقاضے پورے کرتے ہیں جو ملٹن نہ کرسکا۔ گو ملٹن کے یہاں بغاوت خدا کی مطلق العنانی کے خلاف ہے لیکن خود ملٹن اور اس کاشیطان خدا کے قادر مطلق ہونے کے اس قدر قائل تھے کہ ایک برتر اور ہمہ گیر طاقت کے خلاف نبردآزمائی کے انجام سے وہ بے خبر نہیں ہوسکتے تھے۔ یہی چیزشیطان کی بغاوت کو دانش مندی اور دوراندیشی کے جوہر سے محروم کرتی ہے۔ چونکہ اسباب بغاوت بھی ظاہر ہیں اس لیے بغاوت کی وجہ خدائی طاقت اور اقتدارمیں شرکت کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتی۔ اب اگر خداقادر مطلق ہے تو ایسی خواہش اقتدار ہم سے کیا ہمدردی وصول کرسکتی ہے۔

خدا کو عبادت کے لیے کروبیوں کی کمی نہیں تھی۔ کمی تھی تو اس کی جو اسے چاہے، اس کے حسن کا ادا شناس ہو اور وہ آدم کی شکل میں پیدا ہو۔ ظاہر ہے شیطان کے بغیر آدم آدمی نہیں بن سکتا تھا۔ خلق آدم ہبوط آدم کی منزل میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ گویا شیطان منصوبہ خداوندی کی تکمیل ہی کا ایک ذریعہ تھا۔ یہ شیطان کی سب سے بڑی شکست تھی کہ وہ ایک بااختیار طاقت ہونے کے باوجودمشیت ایزدی کے دائرے سے باہر نہیں تھا۔ یہی چیز اس کے کردار کو ایک الم ناک ہیرو کی بلندقامتی عطا کرتی ہے۔ اس کا اختیار دراصل اس کا جبر ہے۔ وہ تکوینی ڈرامے میں ایک خاص رول ادا کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ اپنے رول میں، اپنے کردار میں اپنی سرشت میں قید ہے۔ لیکن یہ قید اس کی بغاوت کی شدت کو کم نہیں کرتی۔ چونکہ خدا کے ساتھ معرکہ اب براہ راست نہیں بلکہ اس کا مقام انسان کا دل ہے اس لیے وہ اس امید کے ساتھ اپنا کام کرسکتا ہے کہ انسان کو مغلوب کرکے وہ خدا کو شکست دے۔ براہ راست نہ سہی۔ لیکن جنگ خدا کے ساتھ ہی ہے۔ اسی لیے وہ فرشتوں، پیغمبروں اور انسان کوخاطر میں نہیں لاتا۔ جبریل کے ساتھ گفتگو میں اس کا پورا رویہ اپنی اسی فردیت کا اعلان ہے جو اسے کروڑوں فرشتوں سے الگ کرتی ہے۔ اپنی اس فردیت سے وہ واقف ہے اور فرشتے واقف نہیں۔ اس کا انکار اس فردیت کی علت ہے۔ اقرار میں و ہ کروڑوں فرشتوں کے ساتھ تھا، انکارمیں وہ ان سے الگ ہوگیا۔ اب ایک طرف خدا کی فردیت ہے اور دوسری طرف ابلیس کی اور دونوں میں کھراکھری کی ٹھنی ہے۔ یہ جاننے کے باوجود کہ اس کا مقابلہ کبریائی طاقت کے خلاف ہے اور اس پیکار میں اس کے سربرآوردہ ہونے کا کوئی امکان نہیں بلکہ للکار، احتجاج اور پیکار کی ہے۔ بغاوت میں اپنی خودی اور انا کا اثبات ہے۔ یہی انانیت وہ غرور ہے جو المیہ کردار کے المیے کا سبب بنتا ہے۔ اسی لیے خداوندا بندوں کو اطاعت کی تعلیم دیتا ہے کہ خودی کی آگہی میں تکبر کا عنصر رچا ہوا ہے چنانچہ یہ کہنا کہ میں ہوں اپنی ذات اپنی انا، اپنی فردیت اپنی اہمیت کا اعلان کرنا ہے۔ فرشتوں میں یہ خودآگہی نہیں ہوتی لیکن اس آگہی کے بغیر وہ حسن شناس  نظر بھی پیدا نہیں ہوتی جو محو آئینہ داری کو احساس دلائے کہ اس کے حسن کا تماشائی کوئی اور بھی ہے۔ خدا کو جلد احساس ہوجائے گا کہ اپنی حسن شناس نظر پر فخر کرنے والابھی پیدا ہونے کو ہے۔ گویا خودی اور خود آگہی بھی اس کے تکوینی نظام کا جزو ہے اور اس کا پہلا اظہار شیطان کے انکار کی صورت میں ہوتا ہے۔ انکار کے ذریعے وہ اپنی انا کا اثبات کرتا ہے۔ خدا اس انانیت کی شیطان کو سزا دیتا ہے لیکن انسان میں اسی انا کو پسند کرتا ہے کیونکہ اسی انا سے وہ غیر ذات پیدا ہوتی ہے جو حسن مطلق کی تماشائی ہے۔

ملٹن کی نظم میں جنگ براہ راست تھی۔ شیطان کو خدا کی مخفی طاقتوں کا احساس نہیں تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ آستین خداوندی میں صاعقہ ورعد کے وہ طوفان پنہاں ہیں جوشیاطین کے لشکر کو ہزیمت وعذاب میں مبتلا کردیں گے۔ اقبال کے یہاں خدا کے خلاف شیطان کی جنگ جسمانی اور عسکری نہیں بلکہ عنصری اور جوہری ہے۔ ملٹن کے یہاں میدان جنگ فلک الافلاک ہے، اقبال کے یہاں انسان کا دل۔ گویا یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں خدا اور شیطان دونوں کو کوئی نہیں ملا۔ کبریائی طاقت چاہے اتنی بے کراں سہی قلب انسان میں شیطان کے ساتھ نبرد آزمائی میں وہ اپنے ان ہتھیاروں کا استعمال نہیں کرسکتی جو فلک الافلاک میں کرسکتی تھی گویا خیروشر کی طاقتیں برابری کی سطح پر ایک دوسرے کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔ یہ شیطان کے لیے سودمند ہے لیکن اس جنگ میں شیطان  کا کردار باغی نہیں بلکہ سازشی کا بن جاتا ہے۔ شیطان کا سربصورت ترغیب سامنے آتا ہے۔ وہ صحبت بد کی صورت اختیار کرتا ہے۔خیروشر کی پیکار اخلاقیات کی اتنی پابند ہوجاتی ہے کہ عنصری طاقتوں کی ہیبت ناک جنگ کے بجائے گناہ اور ترغیب گناہ، جزا اور سزا کا بے کیف اخلاقی ڈراما سامنے آتا ہے۔ عہد وسطیٰ کا کلیسائی ادب اس ڈرامے کی پیش کش کے لیے تمثیل کا سہارا لیتا ہے۔ اقبال کا ذہن ایسی تمثیلات کو قبول نہیں کرتا جن میں خیروشر کی طاقتیں انسانی روح کا سودا کرنے پر برسر پیکار ہوں۔ یہی سبب ہے کہ انھوں نے اس دنیا میں شیطان کی کارستانیوں کو ملائے مکتب اور معلم اخلاق کی نظر سے نہیں دیکھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ شر کی طاقت کو وہ محض ہوس کاریوں کی اسفل ترغیبات تک محدود رکھیں۔ ابلیس کی مجلس شوریٰ میں بھی شیطان ایک بدچلن، صاحب صورت  میں سامنے آتا ہے۔ ہوس کی آغوش میں پلنے والے گناہ اور نفس امارہ کو لاحول پڑھ کر بھگایا جاسکے وہ تو مسخرے کی سطح سے گر کر ایک ایسا مکروہ اور آلودہ وجود بن جاتا ہے جس میں خوف و ہیبت اور عظمت کا کوئی عنصر نہیں ہوتا۔ اگر یہ بات درست ہے کہ ہر آدمی سے اس کا شیطان لگا ہواہے تو یہ ملاؤں اور پادریوں کا خاص شیطان ہے۔ ملا اور شیطان کا یہ رشتہ مزاحیہ اور طنزیہ ادب کا مرغوب موضوع رہاہے اور راجہ مہدی علی خاں نے اسے ایک چالاک اور شریر رقیق کا روپ دے کر گناہ و ثواب  اور جزا اور سزا کے پورے ماورائی نظام کو مضحکہ خیزبناکر رکھ دیا ہے۔ شر کی قوت کو نفس و ہوس کی ترغیبات تک محدود کرنے کا یہی نتیجہ ہوتاہے۔ اقبال شر اور ابلیسی طاقت کی کارفرمائیوں کو ہدایت کے تناظرمیں بھی دیکھتے ہیں اور تاریخ کے تناظر میں بھی۔ ابدیت کے تناظرمیں شریزدانی قوت کے مماثل اہرمنی قوت کے طور پر سامنے آتاہے اور گواقبال کی شاعری پر زرتشتی ثنویت کے اثرات گہرے نہیں ہیںلیکن انھوں نے جب بھی ابلیس پر لکھا اسے ہمیشہ بطور ایک کائناتی طاقت کے اتنے شکوہ و جلال کے ساتھ پیش کیا کہ زرتشتی مذہب کے علاوہ شر کی یہ شان دوسرے سامی مذاہب میں نظر نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ابلیس پر لکھتے وقت اقبال کوابلیس کے متعلق جو تصورات اور اساطیراسلام، عیسائیت یا یہودیت میں ملتے ہیں ان میں کوئی دل چسپی نہیں ملتی۔ اقبال خلق آدم، زوال آدم، ہبوط آدم کے موضوعات پرذوق و شوق سے لکھتے ہیں اور بار بار لکھتے ہیں لیکن گناہ آدم پر لکھنے سے ہمیشہ پہلو بچاتے ہیں۔ شیطان کا سانپ بن کر جنت میں داخل ہونا آدم و حوا کو ورغلانا، شجر ممنوعہ کی طرف لے جانا، پھل چکھتے ہی ان پر قہر خداوندی کا نازل ہونا،اس ڈرامے میں اقبال کو کوئی دل چسپی نہیں۔ ملٹن کے یہاں یہ واقعہ بڑی خوب صورتی سے بیان ہوا ہے لیکن شیطان کی سانپ میں تقلیب ہی اس کے باغیانہ کردار کی ہیبت کو شعبدہ باز کی شرارت میں بدل دیتی ہے۔ میتھوسیلا کے پہلے دومناظرمیں برنارڈشاہ نے ملٹن کے برعکس اس واقعے کوفلسفیانہ گہرائی عطا کی ہے لیکن شاہ کے یہاں ان مناظر میں وہ شاعرانہ حسن تک معدو م ہے جو ملٹن کے بیان کو اتنا سحرانگیز بناتا ہے۔ شاہ کے سانپ میں بذلہ سنجی اور بصیرت ہے لیکن اس کی جو بھی داد ملتی ہے وہ سانپ کے حصے میں نہیں شاہ کے حصے میں ہی جاتی ہے۔

آپ کسی بھی پہلو سے غور کریں شرجب شخصیت کے روپ میں آتا ہے اپنی عنصری طاقت کے جلال کی قیمت پر ہی آتا ہے اوراقبال کو یہ سودا کسی بھی سطح پر منظور نہیں تھا۔اقبال نے ابلیس کے کردار کی ایسی پاسداری کی کہ ایک لفظ ایسا نہیں لکھا جو شیطان کی شان اور وجاہت کے خلاف ہو۔ وہ اسے تکوینی تناظر میں ایک طاقت کے طور پر ہی دیکھنا چاہتے تھے۔ رہبرمنیبت کی طرف یہ رویہ کہیں ان کی سائیکی کی زرتشتی میلان کی چغلی تو نہیں کھاتا؟یہ بات قرین قیاس معلوم نہ ہو تو یوں سمجھئے کہ شیطان کی طرف اقبال کا پورا رویہ مذہبی نہیں تھا بلکہ خالصتاً رومانوی تھا۔ اقبال کے یہاں شیطان کسی بھی جگہ اخلاقی طور پر مذموم نظر نہیں آتا۔ مکالمہ چاہے ابلیس اور خدا کے درمیان  ہو یا ابلیس اور جبریل کے درمیان اقبال ملٹن ہی کی مانندغیر شعوری طور پر شیطان ہی کے حلیف نظر آتے ہیں۔ جاندار تقریریں شیطان ہی کی زبانی ادا ہوتی ہیں۔ ان تقریروں کی فنکارانہ خوبی یہ ہے کہ ان سے خدا کی کبریائی ذات کو گزند نہیں پہنچتی اس لیے وہ گستاخانہ بنے بغیر سخن گسترانہ بنتی ہیں اوران میں منکر کی دریدہ د ہنی کی بجائے وہ تمکنت ہوتی ہے جو اپنی آگ میں جلنے    والی سرشت کی سرکشی کے شعلے میں ہوتی ہے۔ یہاں وہ بے تکلفی بھی نہیں جو ’یااپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک، کی عشق جنوں خیز کی زائیدہ ہے کیونکہ نفرت اور محبت کے جذبات ہی کے ساتھ ساتھ شیطان عشق و جنوں کی کیفیات سے بھی بلند ہے۔ شیطان چاہے دانا اور بینا نہ ہو لیکن وہ عقل مجسم ہے۔ ’میرے فتنے جامۂ عقل و خرد کا تاروپو‘۔ جذبات، وجدان، روحانی مکاشفات جو انسان کو خدا سے قرب بخشے کے ذرائع ہیں۔ ان کی طرف اس کا رویہ مکمل حقارت کا ہے۔ اسی لیے وہ فرشتوں، پیغمبروں اور انسانوں کی روحانی فتوحات کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ تو صاف کہتا ہے’ خضر بھی بے دست و پا الیاس بھی بے دست و پا اور جبریل کی اللہ ہو‘ اللہ ہو کی طرف تو ا س کا پورا لب و لہجہ  استہزائیہ ہے۔ ویسے اسطوری استعارے کے معنی تو یہی ہیں کہ شیطان نفس انسانی کی تاریک قوتوں کا نام ہے اس لیے اس کا تعقل کی علامت ہونا کچھ عجیب تضاد بیانی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن نفس کی تاریک قوتوں کو فطرت انسانی کی تخلیقی قوتوں سے علاحدہ کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ مثلاً جنس کی قوت تخلیقی بھی ہے اور تاریک بھی ہے۔ اس اندھی جبلت کے سرکش گھوڑے قابو میں رہیں تو ان سے تخلیقی کام لیا جاسکتا ہے، بے قابو ہوں تو تباہ کاری لاتے ہیں۔ اسی لیے عقل کو جبلتوں اور جذبات کی نگراں بنایا گیا ہے۔ تاریک گو تاریک ہی سہی لیکن ان کے ہونے سے زندگی میں   رنگ و آہنگ ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شیطان کے یہاں ان قوتوں کا نام و نشان نہیں۔ شاید اس کی آتشیں فطرت میں نرم و نازک جذبات اور تندوسرکش جبلتوں کے جھرنے پنپ نہیں سکتے۔ صرف عقل کا لوہا ہے جو پگھل کر فولاد بنتا رہتا ہے۔ اسی لیے شیطان میں عشق و محبت  رحم و کرم، ہمدردی اور دردمندی، بے غرضی اور ایثارنفسی کے جذبات کا کوئی نام و نشان نہیں۔ یہی نہیں بلکہ حسن کا بھی کوئی احساس نہیں۔ نہ تو وہ کسی پر دل فریفتہ ہوتا ہے نہ کوئی چیز اسے دلربا معلوم ہوتی ہے۔ شیطان کے ساتھ مسرت و انبساط اور عیش و نشاط کا بھی کوئی تصور وابستہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہم کبھی شیطان کو جام سے جام ٹکراتے یا بزم نشاط برہم کرتے یا حسن ہزار شیوہ کی کافراداؤں سے مسحور ہوتے  نہیں دیکھتے۔ یہ سب کام بھی انسان ہی کرتا ہے اور اگر وہاں شیطان ہوتا ہے تو ایک خاموش تماشائی کی طرح۔ گویا شیطان کا کام صرف ورغلانا ہے اور بطور ایک صیقل شدہ عقلی مجسمے کے ان آلودگیوں سے اپنے دامن کو پاک رکھنا جو لہو ولعب کے رسیا انسانوں نے چاروں طرف پھیلا رکھی ہیں۔

خدانور ہے تو ابلیس تاریکی۔ خداخیر ہے تو ابلیس شر۔ خدا حسن ہے تو ابلیس بدصورتی۔ ہرچیز اپنی ضدسے ہی پہچانی جاتی ہے۔ تاریکی کے بغیرنورکی شناخت ممکن نہیں۔ خیرہی خیر ہو تو  عالم اقدس کس قدر خاموش نظر آتا ہے۔ ابلیس کے یہاں خدا کی عظمت و بزرگی اور جلال و جمال کا انکار نہیں اثبات ہے۔ خداکو ا س نے جس طرح جانا ہے اس طرح فرشتے نہیں جان سکے کیونکہ وہ عبودیت کے مقام سے نہیں نکل سکے اور عبودیت ایسی قبولیت کو راہ دیتی ہے جو فرماں برداری اور عبادت کی یکسانیت اور تواتر کی بے کیف سکونیت پیدا کرتی ہے جس سے خود خدا کادل اکتاجاتا ہے۔  خدا کی فردیت، مطلقیت اور یکتائی کے عرفان کے لیے ضروری ہے کہ عارف جانے کہ جہاں میں نامکمل عاجز اور معمولی ہونے کے کیا معنی ہیں۔ اپنی نافرمانی کے سبب ابلیس یہ بات جانتا ہے کیونکہ خدا کی عدول حکمی کرنے کے بعد ہی اسے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ شان کبریائی کیا ہے۔ پہلی بار کبریائی طاقت کے خلاف ایک چیلنج پیدا ہوا ہے اور خدا اس چیلنج کو زیر کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کرتا ہے۔ لاکھوں کروڑوں فرشتوں کی تہلیل پر خوش ہونے اور مطمئن ہونے کی بجائے وہ ایک طاغوتی قوت کی سرکشی کو زیر کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔ نور کی ضد تاریکی  اور خیر کی ضد شر پیدا ہوچکا ہے اور اب کائنات کے اسٹیج پر وہ ازل گیر اور ابدتاب ڈراما کھیلا جانے والا ہے جس کے ہم ہموں سے زمان و مکان گونج اٹھیں گے۔ ابلیس کے انکار نے کائناتی وقت کو دہری وقت میں تبدیل کردیا اور جہان رنگ و بو میں انسان اپنی ابلیسی اور الہٰیاتی طاقتوں کا خمیر لیے خیروشر کی اس پیکار کا کردار بناجسے فرشتے حیرت سے دیکھتے ہیں اور جس میں خدا اور ابلیس کی دل چسپی کسی طرح ختم نہیں ہوپاتی۔ ابلیس کا انکار نہ ہوتا تو آدم مٹی کے ایک پتلے سے زیادہ کیا ہوتا۔ اس کے انکار ہی نے آدمی کو خیر و شر کی رزم گاہ کا بلند قامت کردار بنایا۔ ابلیس خود اللہ کی پیدا کردہ ایک ایسی حرکی طاقت ہے جس کی طرف وہ بے پرواہ نہیں رہ سکتا۔ مشیت ایزدی سے یہ بعید نہیں کہ اس شرانگیز طاقت کو وہ چشم زدن میں نیست ونابود کردے لیکن ایساکرنے سے آدمی فرشتہ بن جائے جس کی اس کے پاس کمی نہیں اور زمین پر وہ ڈراما ختم ہوجائے جس سے خدا خود اتنا لطف اندوز ہورہاہے کہ ایک صحیح فنکار کی طرح وہ اس کے عمل میں مداخلت کرنا نہیں چاہتا اور شیطان کو یہ موقع دینا نہیں چاہتا کہ وہ خدا پر الزام لگائے کہ اپنی کبریائی طاقت کے استعمال کے ذریعے اس نے اس جنگ کا پانسہ پلٹ دیا جو انسان کے اندر برابری کی طاقتوں کے اصول پر کھیلی جارہی تھی۔یعنی اس اصول پر کہ مہلک ترین ہتھیار یا ہمارے زمانے کی اصطلاح میں جوہری توانائی کا استعمال نہیں ہوگا۔  شیطان کی سازش اور اللہ کی مصلحت کا یہ سمجھوتہ شیطان کو خدا کے دل کا کانٹا بنادیتا ہے اور خود کو خلش خار بنادینے میں شر کی ظفرمندی رہی ہے۔ یہ ایک ایسی فتح ہے جسے خدا کے چہیتے پیغمبر حیرت سے دیکھتے ہیں۔شیطان کو مغلوب کرنا پیغمبروں کے لیے آسان ہے لیکن دل یزداں سے اس کانٹے کو دور کرنا ان کے لیے آسان نہیں رہا کیونکہ یہ کام تو خدا ہی کرسکتا ہے اور وہ کرتا نہیں تو یہ اس کی مجبوری  تو ہونہیں سکتی مصلحت ہوگی۔ گویا خدا نے پیغمبروں کو یہ طاقت تو دی ہے کہ وہ ابلیس کو مغلوب کرسکیں لیکن اسے نیست و نابود کرنا ان کے اختیار کی بات نہیں۔ یہ طاقت خدا نے اپنے پاس ہی رکھی ہے اس کا استعمال وہ نہیں کرتاتو شاید اس کی وجہ یہی ہو کہ وہ شیطان کو نبردآزمائی کے مساوی مواقع دینا چاہتا ہے۔ شاید اس کا مقصد یہ ہوکہ عرصۂ دہر خیروشر کی رزم گاہ بنی رہے کیونکہ یہ آویزش ختم ہوجائے  تو دنیا بھی عالم ملکوت کا عکس بن جائے اور عالم ملکوت تو خدا کے پاس ہے ہی۔ جو چیز نہیں تھی وہ عرصۂ دہر تھی اور اس کے پیدا ہوتے ہی کائنات میں ایک نئی اور دل چسپ چیز کا اضافہ ہوا اور خدا کو یہ چیز جیسی کہ وہ ہے پسند آئی اور اس کھیل کو وہ جاری رکھنا چاہتا ہے۔ شیطان یہ بات جانتا ہے اور اسی لیے بلاخوف وہ یم بہ یم اپنے طوفان اٹھاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ لڑائیاں ہارنے کے باوجود جنگ جاری رہے گی۔ خدا کو شکست دینا اس کا مقصد نہیں کیونکہ خدا کی کبریائی طاقت سے وہ واقف ہے لیکن اولاد آدم کو ورغلا کر خدا کے منصوبوں کو ناکام بنانے پر اسے اختیار ہے۔ اس اختیار کو خدا شیطان سے چھیننا نہیں چاہتا کیونکہ پھر تو جنگ اور انسانی ڈراما دونوں ختم ہوجائیں گے۔ گویا دہر میں ابلیسی طاقت بھی انسانی ڈرامے کا اہم عنصر ہے۔ یہ طاقت نہ ہوتی تو قصہ آدم تخلیق آدم سے آگے نہ بڑھتا۔ شیطان کے انکار ہی سے اس قصے میں جان پڑتی ہے اور اس ڈرامے کا آغازہوتا ہے جو خود خدا کے لیے انبساط و مسرت کا باعث ہے۔ شیطان جانتا ہے کہ یہ ا س کا لہو ہے جس نے قصۂ آدم کو رنگینی عطا کی ورنہ جنت کی رعنائی میں کھڑے ہوئے آدم و حوامیں خالق کائنات کو کیا دل چسپی ہوسکتی تھی۔ ان سے حسین تر اور عظیم تر اور حیرت ناک جہان وہ پیدا کرچکا تھا۔کواکب اور سیاروں کی گردشوں میں وہ اپنی جبروت کا مظاہرہ کرچکا تھا۔ پوری کائنات اس کے جلال و جمال کا آئینہ تھی۔ لیکن اس سے اس کی تسکین نہیں ہوتی تھی کیونکہ وہ صاحب نظرپیدا نہیں ہوا تھا جو اس کے حسن کا ادا شناس بنتا۔ اس نے آدم کو پیدا کیا لیکن آدم بھی اس کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہی رہا۔ احسان و عرفان سے عاری، جنت کی رعنائیوں میں گم ایک ایسا وجود جو حسن خداوندی کا کوئی علم نہیں رکھتا تھا۔ کیونکہ علم کے لیے ضروری ہے کہ جاننے والا اس چیز سے الگ جس کا وہ علم حاصل کرتا ہے اپنی ذات کا عرفان کرے۔ اس خودآگہی کے بغیر حسن شناسی ممکن نہیں۔ یہ علم شیطان نے آدم کو بخشا۔ آدم اپنی ذات، اپنے وجود، اپنی برہنگی سے واقف ہواتواس قابل بھی ہوا کہ وہ غیر ذات کو اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ ذات اور غیر ذات کے اس فاصلے نے آدم کو مہجور ازل بنایا اور وصل کا آرزومند۔

’’ جاویدنامہ‘‘ میں اقبال نے ابلیس کو خواجۂ اہل فراق کہا ہے۔ ابلیس میں وصال کی کوئی تمنا نہیں کیونکہ وصل اس شعلے کی موت ہے جس سے ابلیس کی ذات عبارت ہے جو ابدی اضطراب تپش اور تجسس ہے۔

فطرتش بیگانۂ ذوق وصال

’’حسن لایزال سے ہجر‘‘ کو ابلیس نے ایک تخلیقی قوت میں بدل دیا۔انسان کو علم کا پھل چکھایا اس میں خودی کی قندیل روشن کی اور اسے خدا سے الگ کرکے غم ہجر اور آرزوئے وصل کی کش مکش میں مبتلا کیا جو حرکت، عمل اور تکمیل ذات کا سبب بنی۔ ابلیس اور انسان دونوں اپنے اپنے طور پر تخلیق کے اس عمل کو آگے بڑھاتے ہیں جو مسلسل جاری ہے کیونکہ ہر ذرہ سے صدائے کن فیکون  آتی ہے۔ اگر ابلیس تخریب ہے تو تخریب کے بغیر تعمیر ممکن نہیں۔

دراصل ابلیس کے انکار کے ذریعے پہلی بار کائنات اس سوز دروں سے واقف ہوئی جو منکر کا مقدر اور اس کی ازلی تنہائی کا سبب ہے یہی سوزحرارت اور حرکت کا سبب ہے۔ ورنہ کیا ستارے اور سیارے، زمین و آسمان اور فرشتے سب ایک عالم عبودیت اور سکونیت میں موجو دتھے ان میں تپش ابلیس کے سوز سے ہی آئی۔(می تپداز سوز من خون رگ کائنات) گویا انکار ابلیس کائنات کے سکون و جمود میں حرکت کا سبب ہے اور حرکت میں حرارت اور طاقت ہے جو آدم خاکی نہاد میں ذوق طلب، جستجو، ذوق نمو اور تکمیل ذات کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ اپنی نظم تسخیر فطرت میں ابلیس خدا سے کہتا ہے ’’تونے جسم میں جان ڈالی، جان میں ہنگامہ میں نے پیدا کیا تو سکون کی راہ بجھاتا ہے اور میں اضطراب کی۔ یہ کم سواد انسان جو تیری آغوش میں پیدا ہوا ہے پروان میری آغوش میں چڑھے گا۔‘‘

جبریل اسٹبلشمنٹ کے نمائندہ ہیں جب کہ ابلیس بغاوت کی علامت۔ جبریل زبان بھی اسٹبلشمنٹ کی بولتے ہیں۔ ’کھودیے انکار سے تو نے مقامات بلند۔ چشم یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا آبرو‘۔ اظہار کی منفرد سٹائل کو پانے میں ناکامی وہ قیمت ہے جسے مقرب خاص ہونے کے لیے جبریل کو چکانی پڑتی ہے۔ اس کے برعکس ابلیس کے لب ولہجہ میں بڑا اتار چڑھاؤ ہے۔ فلسفیانہ سنجیدگی اور المیہ وقار سے لے کر طنز آئرنی اور قول محال کے عناصر سے اس کی گفتگو جگمگاتی ہے۔ ابلیس عظیم انکار، مکمل منفیت اور کھلی بغاوت ہے اور سزا کے طور پر راندۂ درگاہ، ہزیمت گزیدہ اور مہجورازل ہے وہ بزدلی، بے کیفی، سکونیت کے خلاف ایک للکار ہے۔ عالم بے کاخ و کو کی خاموشی میں ایک پکار ہے اور ابد کے سناٹوں میں اک گونج اور غلغلہ ہے۔ نظم کے آخر میں ابلیس کی گفتگو میں ایک حیرت انگیز تموج کی کیفیت ہے۔ ہر شعر موج طلاطم خیز کی مانند دوسرے سے شورانگیزی میں بڑھتا جاتا ہے اور ان شعروں کی حاوی امیجری بھی شامل، موج طوفاں اور سمندروں کی ہے۔

ڈرامائی شاعری کی اس سے خوبصورت مثال مغرب میں تو کہیں نظرآجائے گی لیکن مشکل سے ملے گی۔

مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،nesaab.com کاان سےاتفاق ضروری نہیں

Our Visitor

0 2 2 4 2 9
Users Today : 34
Users Yesterday : 30
Users Last 7 days : 227
Users Last 30 days : 842
Users This Month : 531
Users This Year : 2710
Total Users : 22429
Views Today : 87
Views Yesterday : 185
Views Last 7 days : 566
Views Last 30 days : 1686
Views This Month : 1103
Views This Year : 4810
Total views : 53425
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.110
Server Time : 18/04/2026 11:55 AM
error: Content is protected !!