اصناف شاعری کا تعارفرباعی نگاری

رباعی: تعارف و مختصر روایت 

ایوان عدالت میں تمہارے اے شاہ

کیا ظلم کو ہے دخل عیاذا باللہ 

شیشے کا جو واں طاق سے رپٹے ہے پاؤں 

پتھر سے نکلتی ہے صدا بسم اللہ 

اے درد سبھوں سے برملا کہتا ہوں 

توحید نہ میں چھپا چھپا کہتا ہوں

ملا کو بھی اس میں کچھ نہیں ہے انکار

بندہ بندہ خدا خدا کہتا ہوں

کہتا ہوں جس سے آشنائی کی بات

سنتا ہے وہ مجھ سے اور کہتا ہے ہات

کہتا ہے یہ کیا کہا ناداں تو نے

اب کیونکہ کٹے گی سوز تیری اوقات

اے میر کہاں یہ دل لگایا تو نے

شکل اپنی بگاڑ کر کڑھایا تو نے

جی میں نہ تیرے حال نہ منھ پر کچھ رنگ

اپنا یہ حال کیا بنایا تو نے

ناحق ناحق مجھے جلاتی کیوں ہے

گھر میں میرے آگ لینے آتی کیوں ہے

آئی تو نہیں ٹھہرتی یہ رنجش ہے

بے فائدہ یہاں تو آتی جاتی کیوں ہے

کم ہوگا دلدر اور دکھ کا عالم

 کر ورد درود کا مسلم ہر دم

 رکھ آس سدا کہا کر انشاءاللہ

 اللہم ارحم ارحم ارحم ارحم

جرات نے بھی کافی رباعیاں کہی ہیں ایک رباعی میں وہ انگریزوں کو برا بھلا کہتے ہیں

بے وجہ نہ سمجھیو یہ پڑے اولے

 انگریز بڑا بول جو نا حق بولے 

افواج ملائک نے فلک سے جرأت 

مارے گوروں پہ گورے گورے  گولے

جب دفن ہوا شبیر خدا کا جانی

 سجاد کی قبر پر آب فشانی

 شبیر کی پیاس کا کہوں میں کیا اثر

 بی تن گئی خاک جتنا چھڑکا پانی

اے علم کیا ہے تو نے ملکوں کو نہال

 غائب ہوا تو جہاں سے واں آیا زوال

 ان پر ہوئے غیب کے خزانے مفتوح 

جن قوموں نے ٹھہرایا تجھے راس المال

 چھٹی اس میں کی ہے یہ جادو سے

دل جوش مفا خرت سے بے قابو ہے 

ایسی پری اور مجھ کو پیارا لکھے

 القاب میں دیکھیے ڈیئر کلوہے 

اکبر نے سیاسی مذہبی متصوفانہ اخلاقی اور فلسفیانہ رباعیاں بھی کہی ہیں۔ بیسویں صدی میں بہت سے شاعروں نے رباعیاں کہی ہیں لیکن یہاں صرف تین ر باعی گو شعرا کا ذکر کریں گے

ہیں مست مئے شہود تو بھی میں بھی 

ہے مدعی نمود تو بھی میں بھی 

یا تو ہی نہیں جہاں میں یا میں ہی نہیں

 ممکن نہیں دو وجود تو بھی میں بھی

باغوں پہ وہ چھا گئی جوانی ساقی 

سنکی وہ ہوائے زندگانی ساقی

 ہاں جلد انڈیل جلد بہتی ہوئی آگ

 آیا وہ برستا ہوا پانی ساقی

غنچے کو نسیم گدگدائے جیسے 

مطرب کو ساز چھیڑ جائے جیسے

 یوں پھوٹ رہی ہے مسکراہٹ کی کرن 

مندر میں چراغ جھلملائے جیسے

Our Visitor

0 2 3 2 7 6
Users Today : 4
Users Yesterday : 14
Users Last 7 days : 189
Users Last 30 days : 974
Users This Month : 454
Users This Year : 3557
Total Users : 23276
Views Today : 4
Views Yesterday : 38
Views Last 7 days : 413
Views Last 30 days : 2233
Views This Month : 924
Views This Year : 6634
Total views : 55249
Who's Online : 0
Your IP Address : 57.141.6.78
Server Time : 15/05/2026 8:13 AM
error: Content is protected !!