قصیدہ : ایک تعارف | قمر رئیس
قصیدہ کی جامع تاریخ اور اس کے اجزاء کی تفصیلی وضاحت
قصیدہ ایک ایسی صنف سخن ہے جس کا موضوع کے اعتبار سے دامن بہت وسیع ہے۔ اس میں مدح و ستائش اور ہجو کے علاوہ مختلف موضوعات پر طبع آزمائی کی جا سکتی ہے مثلا مناظر قدرت ،مظاہر فطرت، پند و نصایح، مذہبی خیالات ، معاشی بد حالی، سیاسی انتشار،موسم کی کیفیت مختلف علوم کا بیان وغیرہ بھی قصیدے کے موضوعات ہیں۔
قصیدے کی ابتدا ر عرب سے ہوئی ۔ایران میں جب شعر و شاعری کا آغاز ہوا تو شاعروں نے اہل عرب کی تقلید کی چونکہ عرب میں قصیدے بہت مقبول تھے جن میں کسی کی تعریف کی گئی ہواس لئے اہل ایران نے بھی قصیدہ گوئی کی طرف توجہ کی ، چونکہ شاعری میں یہی ایک ایسی صنف سخن ہے جس سے انعام واکرام حاصل کیا جاسکتا تھا، اس لئے فارسی شاعروں نے اس فن کو انتہائی بلندیوں پر پہنچا دیا اردو نے یہ فن فارسی شاعری ہی سے مستعار لیا ہے۔
قصیدے کے اجزائے ترکیبی :
تشبيب
گریز
مدح
دعا یا حسن طلب
مطلع :- عام طور پر تشبیب کی ابتداء مطلع سے ہوتی ہے۔ مطلع کے لئے ضروری ہے کہ دونوں مصرعے ہم قافیہ یا ہم ردیف ہوں، مطلع کی خوبی یا خرابی قصیدے کے باقی تمام اشعار کا پتہ دیتی ہے ۔اس لئے قصیدہ نگار پوری کوشش کرتا ہے کہ جدت خیال اور جدت بیان سے ایسی ندرت اور شگفتگی پیدا کر دے کہ سننے والا اور پڑھنے والا چونک جائے اور اس کی تمام تر توجہ قصیدے کی طرف مبذو ل ہو جائے۔ مثلا سودا نے سرفراز الدولہ کی مدح میں ایک قصیدہ کہا ہے، اس کے مطلع میں جد ت بیان نے عجیب لطف پیدا کر دیا ہے۔
مطلع
صباح عید ہے اور یہ سخن ہے شہرہ عام
حلال دختر رز بے نکاح وروزہ حرام
قصیدہ میں ایک یا ایک سے زیادہ مطلع ہوتے ہیں ۔ جس قصیدے میں ایک سے زیادہ مطلع ہوں اسے ذوالمطالع اور ذات المطالع کہتے ہیں۔
تشبیب :قصیدے کے وہ اشعار جو تمہید کے طور پر لکھے جائیں تشبیب کہلاتے ہیں۔اکثر و بیشتر تشبیب کا اصل موضوع یعنی مدح سے کوئی تعلق نہیں ہوتا چونکہ اس میں ہر طرح کے موضوع پر طبع آزمائی کی جاتی ہے اس لئے قصیدہ گو کو اپنی علمیت اور قابلیت کے اظہا ر اور قادر الکلامی کے جوہر دکھانے کا پورا موقع ملتا ہے ۔
کبھی شاعر تشبیب میں صبر و قناعت کی تلقین کرتا ہے تو کبھی موسم بہار کے گیت گاتا ہے۔ کسی تشبیب میں اپنے کمال فن کا اظہار کرتا ہے اور کسی میں ہمعصر شعراء کا مذاق اڑاتا ہے ۔ غرض نشیب میں طرح طرح کے موضوعات پر طبع آزمائی کی جاتی ہے۔
گریز: – تشیب کے بعد شاعراصل موضوع یعنی مدح پر آتا ہے۔ چونکہ تشبیب اور مدح دو مختلف چیزیں ہوتی ہیں۔ اس لئے ان دونوں میں تعلق پیدا کرنے کے لیے ایک یا ایک سے زیادہ شعر کہتا ہے، ان اشعار کو گریز کہا جاتا ہے۔ گریز کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بے ساختگی اور برجستگی ہویہ نہ معلوم ہو کہ شاعر نے زبر دستی محمد وح کا ذکر کیا ہے بلکہ ایسا لگے کہ باتوں باتوں میں محمدوح کا ذکر آگیا ہے جو بالکل فطری ہے خواہ مخواہ کی ٹھونس ٹھانس نہیں ۔ قصیدے کے حسن و کمال کا اچھا خاصا دارد مدار گریز پر ہوتا ہے۔
سودا نے حکم میر محمد کا ظم کی شان میں ایک قصیدہ کہا ہے۔ تشبیب میں سودافن طبابت کا بیان کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ انسان کا جسم کن کن چیزوں سے مرکب ہے، بیماریوں کے مختلف وجوہ بیان کر کے تشخیص مرض پر روشنی ڈالتے ہیں اور پھر کہتے ہیں
قاعدہ یوں ہے پھر آگے ہے شفا اس کے ہاتھ
جس کے ہے قبضہ قدرت میں علاج عالم
سوتو ان باتوں میں ہے خوض طبیبوں میں کسے
اس زمانہ میں بہ جز میر محمد کاظم
اس کے بعد سود امدح شروع کرتے ہیں۔ غالب ایک مدحیہ قطعہ میں پہلے اپنی تعریف کرتے ہیں اور پھر بہادر شاہ ظفر کی تعریف کے لئے اس طرح گریز کرتے ہیں
کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفر کا غلام ہوں
مانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے
مدح :- گریز کے بعد اصل موضوع یعنی مدح شروع ہوتی ہے۔ مولانا شبلی نے شعرا لعجم میں قصیدہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے:’’ قصیدہ جس کا اصلی موضوع مدح ہے بڑے کام کی چیز ہے، لیکن اس کے لئے شرط ہے کہ (1) جس کی مدح کی جائے در حقیقت مدح کے قابل ہو (۲) مدح میں جو کچھ کہا جائے سچ کہا جائے (۳) مدحیہ اوصاف اس انداز سے بیان کیے جائیں کہ جذبات کو تحریک ہو۔فارسی قصائد میں یہ شرطیں کبھی جمع نہیں ہوئیں ، اولاتو اکثر ایسے لوگوں کی مد ح لکھی گئی جو سرے سے مدح کے مستحق نہ تھے یا تھے تو ان کے واقعی اوصاف نہیں لکھے گئے بلکہ تمام قوت مبالغہ اور غلو میں صرف کر دی گئی، اکبر خانخاناں شاہجہاں کے سینکڑوں معر کے تاریخی یادگار ہیں جن کے بیان سے مردہ دلوں میں جنبش پیدا ہو سکتی ہے۔ عرفی، نظری، فیضی وغیرہ نے ان لوگوں کی مدح میں سیکڑوں پر زور قصائد لکھے لیکن ان معرکوں کا کہیں نام تک نہ آیا ، اس کے مقابلہ میں عرب کی شاعری پر نظر ڈالو، عرب اولا تو کسی کی شاعرانہ مدح کرنا عار سمجھتے تھے اور مدح کرتے تھے تو کبھی صلہ اور انعام لینا گوارا نہیں کرتے تھے پھر جو کچھ کہتے تھے سچ کہتے تھے، ایک رئیس نے ایک عرب شاعر سے کہا کہ میری مدح لکھو اس نے کہا ’’افعل ا قول‘‘ یعنی تم کچھ کر کے دکھاؤ تو میں لکھوں ۔
فارسی اور اردو میں بہت زیادہ مبالغہ سے کام لیا گیا ہے، پھر مدح کے بندھے ٹکے مضامین ہیں ۔مثلا قصیدہ گو ممدوح کی شرافت و نجابت فیاضی عل و فضل جاہ و حشم شان و شوکت، مروت ،حلم، ایمانداری و صداقت، نیکی وبزرگی و عدل وانصات ،شجاعت بہادری کے علاوہ محمدوح سے متعلق بعض چیزوں مثلا گھوڑا، ہاتھی، فوج، تیر کمان اور ترکش وغیرہ کی مدح کرتا ہے ۔شاعر یہ تمام خوبیاں اس شخص میں دیکھ لیتا ہے جس کی اسے تعریف منظور ہوتی ہے۔ سودا نے نواب شجاع الدولہ اور ان کے لڑکے نواب آصف الدولہ کی شان میں قصیدے کہے ہیں اور دونوں کے مفہوم میں بنیادی طور پر کوئی نمایاں فرق نہیں معلوم ہوتا جب کہ شجاع الدولہ بہت جری اور بہادر انسان تھا اور آصف الدولہ ایک بزدل اور عیاش نواب۔ اردو میں مذہبی قصید وں کو چھوڑ کر پیشتر قصیدےصرف اس لئے لکھے گئے ہیں کہ ممدوح کو خوش کر کے انعام و اکرام حاصل کیا جائے اسی لئے ان میں مبالغہ آرائی انتہا درجہ کی ہے۔
دعا یا حسن طلب : مدح کے بعد بزرگان دین سے دعا نگی جاتی ہے اور اگر قصیدہ کسی شخص کی مدح میں ہے تو حسن طالب سے کام لے کر اپنے لئے کچھ مانگا جاتا ہے۔ بعض قصیدوں میں صرف محمدوح کی صحت اور اقبال کے لئے دعا مانگ کر قصیدہ ختم کر دیا جاتا ہے۔
اب ہم اردو قصیدہ نگاری کی تاریخ کا مختصر سا جائزہ لیں گے
دکن میں جب اردو شاعری کا آغاز ہوا تو قصیدہ نگاری کی طرف بھی خاص توجہ کی گئی چونکہ اس زمانہ میں اردو شاعری میں دل چسپی لینے والے لوگ عام طور پر صوفیائے کرام تھے اس لئے ایسےقصیدےزیادہ کہے گئے جن میں خدا اور بزرگان دین کی مدح کی جاتی تھی، حضرت گیسو دراز بندہ نواز جنھیں معراج العاشقین کا مصنف کہا جاتا ہے بہت بڑے بزرگ تھے ، عبدل، نصرتی، مختار اور ابراہیم عادل ثانی نے گیسو دراز کی تعریف و توصیف کی ہے۔ اسی زمانے کے دو قصیدے بہت اہم ہیں، یہ حضرت امین الدین اعلیٰ کی تصنیف ہیں ایک قصیدے میں انھوں اپنے والد شاہ برہان الدین کی مدح کی ہے اور دوسری ایک نظم محب نامہ یا محبت نامہ ہے جس میں خدا کی محبت کا اظہار ہے ۔
سلطان محمد قلی قطب شاہ گولگنڈہ کا بادشاہ تھا، اس نے نہ صرف شاعروں کی سرپرستی کی بلکہ خود بھی اردو تلنگی اور فارسی میں شاعری کی۔ اس کا اردو دیوان بہت ضخیم ہے جو چھپ چکا ہے۔ قلی قطب شاہ غالباً پہلا شاعر ہے جس نے قصیدہ نگاری کا با قاعدہ آغاز کیا ، اس کی کلیات میں حمد ونعت اور منقبت موجود ہیں۔ یہ سب قصیدے ہی کے تحت آتے ہیں ان کے علاوہ اس نے موسمی تہوار وں، موسموں پر نظمیں لکھی ہیں جو قصیدے ہی کی ایک شکل ہیں۔ قلی قطب شاہ کے علاوہ دکنی شاعروں میں ابراہیم عادل شام ثانی ،علی عادل شاہ ثانی، نصرتی، مرزا ہاشمی، غواصی اور ولی نے اردوقصیدوں کے اچھے نمونے چھوڑے ہیں۔
نواب صدر الدین محمد خاں فائز دہلوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شمالی ہند کے سب سے پہلے صاحب دیوان شاعر ہیں۔ سید مسعود حسن رضوی ادیب نے لکھا ہے کہ فائز دہلوی نے ۱۱۲۰ھ میں اپنا کلیات مرتب کیا تھا جس میں اردو دیوان بھی شامل تھا یہ اردو دیوان شائع ہو چکا ہے۔ اس میں دو نظمیں مناجا ت اور منقبت بھی ہیں۔ یہ مثنوی کی شکل میں ہیں۔حاتم، شنا کرنا جی نے شہر آشوب کہے جو قصیدے کی ایک قسم ہے اور جس کا ذکر آئے گا، عرض یہ ہے کہ سودا اور میر سے قبل شمالی ہند میں کوئی قابل ذکر قصیدہ نہیں لکھا گیا ۔
سودا کے زمانہ تک اردو میں اچھے خاصے قصیدے کہے جاچکے تھے لیکن سودا پہلے شاعر ہیں جنھوں نے قصیدہ نگاری کو باقاعدہ فن کی حیثیت سے انتہائی بلندیوں پر پہونچا دیا ، اگر انھیں اس فن کا امام کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔انھوں نے حمد و نعت منقبت بھی کہے اوربادشاہوں، نوابوں اور امیروں کی مدح بھی کی ۔
قصیدے کا انداز بیان دوسری اصناف سخن سے مختلف ہوتا ہے۔ مضمون آفرینی ، جوش بیان، پختگی کلام ، مشکل زمین، پرشکوہ الفاظ، روانی و سلامت اور جدت وغیرہ قصیدہ کی خصوصیات ہیں۔ سودا کے قصائد میں یہ سب خوبیاں ہیں ۔ قصائد سودا اردو نظم کے اعلی ترین نمونے ہیں ،۔سودا الفاظ کے بادشاہ ہیں، ان کے پاس الفاظ کا بہت بڑا خزانہ ہے اور لفظ کے مزاج اور اس کے استعمال سے بخوبی واقف ہیں ۔طرح طرح کی تشبیہات اور استعارات کے سہا رے ایک ہی بات کو سو انداز سے کہہ سکتے ہیں۔ مشکل اور سنگلاخ زمینوں کو پانی کر دینا سودا ہی کا کام تھا۔ بعد کے تمام قصیدہ نگار سودا سے متاثر ہیں اور اکثر شعرا نےان کی زمینوں میں قصیدہ کہتے ہیں ۔
میر تقی میر جیسے مزاج کے آدمی کو غزل راس آسکتی تھی قصیدہ نہیں ۔انھوں نے اگر چہ قصیدے کہے ہیں لیکن اول تو ان کی تعداد بہت کم ہے اوردوسرے ان میں شکوہ الفاظ۔ جوش بیان ، زور تخیل اور مبالغہ آرائی نہیں جن پر قصیدے کی بنیاد ہوتی ہے۔ میر کا ایک شعر ہے
مجھ کو دماغِ وصفِ گل ویا سمیں نہیں
میں جوں نسیم باد فروشِ چمن نہیں
جس کا مطلب ہے کہ میر کسی کی تعریف کرنا پسند نہیں کرتے تھے مولاناعبدالحق نے میر کے قصیدوں پر رائے دیتے ہوئے ٹھیک ہی لکھا ہے کہ میر صاحب نے چند قصیدے بھی لکھے ہیں اگر چہ اس میں بھی وہ بندش نہیں اور تراکیب خیال میں بلندی پائی جاتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اس گول کے نہیں تھے اور قصیدے لکھنا ان کی طبیعت کی افتاد کے خلاف تھا۔
خواجہ میر درد بھی اسی عہد کے شاعر تھے چونکہ وہ نقش بندی سلسلے کے بہت بڑے بزرگ تھے ۔اس لئے انھوں نے کبھی کسی شخص کی تعریف نہیں کی۔سودا اور میر کے معاصرین میں اور بھی بہت سے شاعروں نے قصیدے کہے مگر ان کے ذکر کا یہاں موقع نہیں ہے۔
اس کے بعد قصیدہ گوئی کی مشعل انشا اور مصحفی کے ہاتھ میں آئی ۔ اردو قصیدہ نگاری میں سودا کے بعد انشاء کا نام آتا ہے ان کے معاصرین میں اکثر لوگوں نے ان کے علم و فضل کی بہت تعریف کی۔ انشاء نے فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں شعر کہے ہیں۔ نثر میں دریائے لطافت، لطائف السعادت، رانی کیتکی کی کہانی کا سلک گو ہرا در ترکی زبان میں روزنامچہ ان کی تصانیف ہیں۔ سودا کی طرح انشاء کا مزاج بھی قصیدہ نگاری کے فن کو راس آگیا تھا۔ فارسی قصیدوں کے علاوہ اردو میں ان کے دس قصیدے ہیں جن میں حمد اور منقبت کے علاوہ سلاطین، امرا ور ؤسا کی شان میں کہے گئے قصیدے بھی ہیں۔ انھوں نے ایک قصیدہ جارج سوم کی شان میں کہا تھا جس میں انھوں نے انگریزی کے بہت سے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ اس سلسلے میں انشاء پہلے اردو شاعر ہیں جنھوں نے اردو شاعری میں انگریزی الفاظ استعمال کئے ہیں چونکہ انشاء بہت بڑے عالم بھی تھے اس لئے ان کے قصیدوں میں نامانوس فارسی اور عربی کے موٹے موٹے الفاظ، مشکل ترکیبیں ،غیر معروف تلمیحیں اور عالمی اصطلا حیں اس طرح استعمال ہوتی ہیں کہ بعض قصیدے ناقابل فہم ہو گئے ہیں۔ ان کے قصیدوں میں مضمون آفرینی اور بلند پروازی، جوش و خروش زور بیان اورقدرت کلام تو ضرور ہے لیکن بقول مولانا محمد مین آزاد سیدھے چلتے چلتے ایک ایسی چال بدلتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے ۔
مصحفی بھی انشاء کے ہم عصر ہیں انھوں نے فارسی اور اردو وردونوں زبانوں میں قصیدے کہے ہیں ۔ انشاء کے مقابلہ میں مصحفی کم علم تھے۔ اس لئے ان کے قصیدوں میں وہ طمطراق نہیں جو انشاء کا حصہ ہیں، لیکن ترکی ، انگریزی، فارسی اور عربی کے الفاظ اور تراکیب سے انشاء کے قصیدوں میں جو عیب پیدا ہو گیا ہے قصائد مصحفی اس سے پاک ہیں ، مصحفی کے قصیدوں میں ہی شان شوکت اور بلند پروازی ہے جو قصیدے کے لئے ضروری ہے لیکن وہ جوش و خروش نہیں ہے جو سودا اور انشاء کے قصیدوں میں ملتا ہے۔ افسوس ہے کہ مصحفی کا کلیات ابھی تک شائع نہیں ہوا۔ ان کے دیوانوں کے قلمی نسخے ہندوستان اور پاکستان کی مختلف لائیر یریوں میں ملتے ہیں ۔[کلیات مصحفی اب شائع ہوچکا ہے۔]
اسی زمانہ میں سعادت یار خان رنگین اور نظام الدین ممنون وغیرہ نے بھی اچھے خا صے قصیدے کہے۔سودا کے بعد اردو کا سب سے بڑا قصیدہ نگار ہونے کا شرف شیخ محمد براہیم ذوق کو حاصل ہے۔سود کے قصائد میں حمدوں اور منقبتوں کی تعداد اچھی خاصی ہے لیکن ذوق نے ان موضوعات پر صرف ایک یا دو قصیدے کہے اور وہ بھی نا تمام۔ ا یک قصیدے کے علاوہ ان کے باقی تمام قصیدے اکبر شاہ ثانی اور بہادر شاہ ظفر کی مدح میں ہیں۔ ذوق نے بقول مولانا محمد حسین آزاد مرقع کو ایسی اونچی محراب پرسجا یا کہ جہاں تک کسی کا ہاتھ نہیں پہنچتا۔ انوری ، ظہوری ، عربی ، فارسی کے آسمان پر بجلی ہو کے چمکے ہیں، لیکن ان کے قصیدوں نے اپنی کڑک دمک سے ہند کی زمین کو آسمان کر دکھایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ذوق کے قصیدوں میں جو رنگیں بیانی، شکوہ الفاظ قوت بیان کے کرشمے اور استادانہ فنکاری ہے وہ ذوق کے بعد کسی اور شاعر کو نصیب نہیں ہو سکی ۔
ذوق کے ہمعصروں میں غالب اور مومن بھی تھے ، مومن نے تو خیر قصیدے کہے نہیں۔ غالب نے البتہ فارسی اور اردو دونوں میں قصیدے کہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ غالب کو قصیدہ گوئی سے کوئی دل چسپی نہیں تھی صرف اپنی مالی ضرورتوں کی وجہ سے کچھ لوگوں کی تعریف میں قصیدے کہے ہیں جو قصائد ذوقی سے کم تر درجہ کے ہیں۔
عہد ذوق اردو قصیدہ نگاری کا آخری زمانہ تھا۔ اس کے بعد کوئی ایسا شاعر نہیں پیدا ہوا جس نے اس فن میں قابل ذکر امتیاز حاصل کیا ہو ۔
مضمون نگار: قمر رئیس/خلیق انجم || ماخوذ از اصناف ادب

Users Today : 35
Users Yesterday : 30
Users Last 7 days : 228
Users Last 30 days : 843
Users This Month : 532
Users This Year : 2711
Total Users : 22430
Views Today : 89
Views Yesterday : 185
Views Last 7 days : 568
Views Last 30 days : 1688
Views This Month : 1105
Views This Year : 4812
Total views : 53427
Who's Online : 1