مثنوی : ایک تعارف
مثنوی: ایک وسیع اور وقیع صنف کی تفصیل
اردو شاعری کی اصناف میں مثنوی کو ایک نمایاں اور وقیع مقام حاصل ہے۔ مثنوی ایک ایسی صنفِ شاعری ہے جس میں کسی واقعے، قصے یا داستان کو منظوم صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں طوالت کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ غزل یا قصیدے کی طرح ایک یا چند اشعار پر اکتفا کرنے کے بجائے مثنوی میں طویل داستانیں منظوم کی جاتی ہیں۔ ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور اکثر اوقات ردیف کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مثنوی میں نہ صرف عشقیہ داستانیں بلکہ رزمیہ اور مذہبی واقعات، اخلاقی اور صوفیانہ مضامین سبھی بیان کیے جا سکتے ہیں۔
مثنوی کی ہیئت و ساخت
مثنوی بنیادی طور پر قصہ گوئی کی صنف ہے۔ اس میں شاعر کو کسی واقعے کو آغاز سے انجام تک مربوط انداز میں بیان کرنا پڑتا ہے۔ یہ صنف طویل بیانیہ شاعری کا درجہ رکھتی ہے۔ غزل کے برعکس مثنوی میں خیالات کی ربط اور تسلسل بنیادی شرط ہے۔ ایک شعر دوسرے شعر سے مربوط ہوتا ہے اور اس طرح پورا قصہ آگے بڑھتا ہے۔ واقعات کو اس ترتیب سے بیان کیا جاتا ہے کہ قاری کو ایک ڈرامائی فضا کا احساس ہو اور وہ ابتداء سے انتہا تک دلچسپی کے ساتھ مطالعہ کرتا چلا جائے۔
مثنوی کے لوازمات
کامیاب مثنوی کے لیے چند بنیادی لوازمات کا ہونا ضروری ہے:
- قصہ گوئی اور ربط: مثنوی میں واقعات کا بیان اس طرح ہونا چاہیے کہ بات سے بات نکلتی جائے اور قاری کا شوق برقرار رہے۔
- کردار نگاری: مختلف کرداروں کو ان کی فطری خصوصیات کے ساتھ پیش کرنا لازمی ہے تاکہ وہ حقیقت کے قریب محسوس ہوں۔
- زبان کی سادگی اور سلاست: مثنوی کی زبان عام فہم، رواں اور دلکش ہونی چاہیے تاکہ طوالت کے باوجود قاری بور نہ ہو۔
- جذبات کی صداقت: شاعر کے خیالات اور جذبات حقیقی ہوں تاکہ وہ قاری کے دل پر اثر ڈال سکیں۔
- منظر نگاری: کامیاب مثنوی میں فطرت کے مناظر اور واقعاتی فضا کو مؤثر پیرایے میں بیان کیا جاتا ہے۔
- اظہار کی آزادی: مثنوی میں شاعر کو اپنے تخیل کے اظہار کی وہ وسعت میسر آتی ہے جو کسی اور صنف میں ممکن نہیں۔
مثنوی کے موضوعات
مثنوی کا دائرہ کار نہایت وسیع ہے۔ اس میں عشقیہ داستانیں (جیسے سحرالبیان)، رزمیہ مضامین (جیسے مرثیہ میں استعمال شدہ واقعاتی انداز)، مذہبی قصے، اخلاقی و اصلاحی واقعات اور صوفیانہ حکایات سبھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مثنوی کو "تمام اصنافِ سخن کی جامع صنف” بھی کہا جاتا ہے۔
اردو شاعری کے آغاز ہی سے مثنوی کو اہم مقام حاصل رہا ہے۔ دکنی دور میں مثنوی کی بنیاد رکھی گئی جہاں قصوں اور عشقیہ داستانوں کو منظوم کیا گیا۔ بعد ازاں میر حسن نے اپنی مشہور مثنوی سحرالبیان کے ذریعے اردو ادب کو ایک ایسا شاہکار دیا جو آج بھی مثنوی نگاری کی بہترین مثال مانا جاتا ہے۔ اس مثنوی میں عشق و محبت کی کہانی نہایت دلکش اور مربوط پیرایے میں بیان کی گئی ہے۔
مرثیہ نگاری میں بھی مثنوی کا رنگ نمایاں ہے۔ میر انیس اور دبیر نے کربلا کے واقعات کو مرثیے میں پیش کیا تو ان کی شاعری میں مثنوی کا سا تسلسل اور ربط جھلکتا ہے۔ اس کے علاوہ مثنوی کا استعمال اخلاقی اور اصلاحی مضامین کے بیان میں بھی ہوا۔
فارسی ادب میں مثنوی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ مولانا روم کی مثنوی معنوی ایک ایسی تصنیف ہے جو روحانی اور صوفیانہ افکار کی ترجمان ہے۔ اس کتاب نے دنیا بھر کے اہلِ فکر کو متاثر کیا۔ اردو مثنوی نے اسی روایت سے اثر قبول کیا مگر یہاں زیادہ تر عشقیہ اور داستانوی مضامین کو فروغ ملا۔
مثنوی کی زبان عام طور پر سادہ اور شگفتہ ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات اسے نہایت فصیح اور بلیغ پیرایے میں بھی لکھا گیا۔ کامیاب مثنوی وہی ہے جس میں زبان کی دلکشی، روانی اور اثر انگیزی برقرار رہے۔ طوالت کے باوجود اگر زبان بوجھل ہو جائے تو قاری کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے مثنوی نگار کے لیے لازم ہے کہ وہ زبان پر پوری قدرت رکھے اور اظہار میں فطری روانی قائم رکھے۔
مثنوی اردو شاعری کی ایک ہمہ جہت اور جامع صنف ہے۔ اس میں داستان گوئی، ڈرامائی فضا، کردار نگاری، اخلاقی اور صوفیانہ مضامین، سبھی کو جگہ دی جا سکتی ہے۔ شاعر کے لیے یہ صنف ایک بڑا امتحان ہے کیونکہ اسے طوالت کے باوجود ربط قائم رکھنا، زبان کو دلکش بنانا اور کرداروں کو حقیقی انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ میر حسن کی سحرالبیان، میر انیس اور دبیر کے مراثی، اور مولانا روم کی مثنوی معنوی اس صنف کے بہترین نمونے ہیں۔ یہی خصوصیات مثنوی کو اردو شاعری میں ایک لازوال اور زندہ جاوید صنف بناتی ہیں۔

Users Today : 14
Users Yesterday : 9
Users Last 7 days : 198
Users Last 30 days : 972
Users This Month : 515
Users This Year : 3618
Total Users : 23337
Views Today : 18
Views Yesterday : 12
Views Last 7 days : 353
Views Last 30 days : 2187
Views This Month : 1015
Views This Year : 6725
Total views : 55340
Who's Online : 0