خود نوشتسوانح

اعمال نامہ(سر رضا علی کی آپ بیتی)- ڈاکٹر شاہ نواز فیاض

سرسید رضا علی کی آپ بیتی ’’اعمال نامہ‘‘ 1942 میں پہلی بار منظرعام پر آئی۔ اردو میں خودنوشت کی تاریخ سے بحث کرنا مقصود نہیں ہے، البتہ مولانا محمد جعفر تھانیسری کی خودنوشت ’’داستان عجیب ،کالا پانی ‘‘سے لے کر سرسید رضا علی کی خودنوشت کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ رضا علی نے کتنے منظم طریقے سے اپنی آپ بیتی لکھی ہے۔ لیکن جعفر تھانیسری کی خودنوشت کی اہمیت سے اس لیے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اسے اولین خودنوشت ہونے کے ساتھ ساتھ یہ اس زمانے میں لکھی ہوئی ہے، جب انگریزوں کا ظلم اپنے عروج پر تھا اور سچ بولنے کی سزا بسا اوقات زندگی سے ہاتھ دھونا تھا۔ لیکن سررضاعلی کی آپ بیتی ’’اعمال نامہ‘‘ کو اردو میں شعوری اور واضح کوشش سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ چوںکہ رضا علی انگریزی سے واقف تھے اور بہت پڑھے لکھے تھے، اسی لیے ان کے پیش نظر انگریزوں کی کچھ اہم آپ بیتیاں رہی ہوں گی اور فنی اعتبار سے انھوںنے اس کے لیے بہت کچھ اثر بھی وہیں سے قبول کیا ہوگا۔

اعمال نامہ کی پی ڈٰی ایف

’’اعمال نامہ‘‘ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہ’’اعمال نامہ‘‘ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آپ بیتی کم جگ بیتی زیادہ ہے۔ کیوں کہ انھوں نے اس کتاب میں ملکی سیاست، ہندی اردو نزاع، علی گڑھ کے تعلیمی دور کے علاوہ مختلف سیاسی اور معاشرتی موضوعات کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ یہ کتاب کل چودہ ابواب پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے مشمولات سے اندازہ ہوتا ہے کہے کہ یہ آپ بیتی کم جگ بیتی زیادہ ہے۔ کیوں کہ انھوں نے اس کتاب میں ملکی سیاست، ہندی اردو نزاع، علی گڑھ کے تعلیمی دور کے علاوہ مختلف سیاسی اور معاشرتی موضوعات کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ یہ کتاب کل چودہ ابواب پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے مشمولات سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس زمانے میں وہ تھے، اس وقت کا تقریباً پورا ہندوستان کئی صورتوں میں اس کتاب کے مطالعے سے سامنے آجاتا ہے۔ سررضا علی کی اردو زبان وادب پر بڑی گہری نگاہ تھی اور اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ علامہ شبلی نعمانی کی مشہور کتاب ’’موازنہ انیس ودبیر‘‘ پر کئی صفحہ لکھا ہے اور دبیر کے ایسے کلام کو بطور نمونہ پیش کیا ہے، جس سے دبیر، انیس کے برابر نظر آتے ہیں۔ دبیر کی سیرت کے تعلق سے بھی لکھا۔ انیس اور دبیر کے متعلق لکھتے ہوئے کہتے ہیں:

’’مولوی شبلی نے میر انیس کے ایک مشہور مرثیہ کے جس کا مطلع ہے۔ ’’بخدا فارس میدان مشہور تھا ‘‘ بہت سے بندموازنہ میں نقل کیے گئے ہیں اور اون (ان) کا مقابلہ مرزا دبیر کے ایک مرثیہ سے کیا ہے جو حضرت حر کے حال میں ہے۔ میرے نزدیک مناسب ہوتا اگر مولوی شبلی انیس کے مرثیہ کا دبیر کے اوس (اس) مرثیہ سے مقابلہ کرتے جو حضرت عون و حضرت محمد کے حال میں ہے… دبیر نے ہر رنگ اور ہر انداز میں مرثیہ کہے ہیں۔ بہت سے مرثیے اوس (اس) رنگ میں بھی ہیں۔ جو مولوی شبلی کو مرغوب ہیں۔‘‘(اعمال نامہ، سررضا علی، خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ،1992، صفحہ:58)

اردو زبان وادب سے سررضا علی کی دلچسپی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اس کتاب (اعمال نامہ) میں ایک پورا باب (بارہواں باب) اردو شاعری اور ادب کے تعلق سے لکھا ہے۔ یہ باب کل 58صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں انھو ں نے مذہب، حسن ومحبت، سیاسی اور سماجی حالت، انیسویں صدی کے آخری دور میں مسلمانوں کی سیاسی پالیسی، ہمارے ملک میں انگریزی اقبال کا اوج کمال جیسے اہم حصے کو بھی اپنی خودنوشت میں الگ الگ باب میں بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ کانپور کی مسجد کا واقعہ آج سے سو سال پہلے 1913 میں ہوا تھا لیکن اس واقعہ کو اپنی تحریر سے جن لوگوں نے آج بھی تازہ رکھا ہے، ان میں ایک نام سررضا علی کا بھی ہے ،جبکہ اسی سانحہ پر علامہ شبلی نعمانی (1857-1914) کی معرکتہ الآرا نظم اور الطاف حسین حالی کی رباعی آج بھی اردو زبان وادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے توجہ کا مرکز ہے۔ ظاہر ہے ان دونوں صاحبان نے اپنے تخیل کا اظہارکیا تھا، اور یہ اظہار حقیقت پر مبنی تھا ،لیکن دونوں صاحبان کانپور سے دور اخباروں کے ذریعہ اس سانحہ کی تفصیل سے آگاہ ہوئے ،بر خلاف اس کے سررضا علی کانپور معائنۂ موقع کے لیے گئے، وہ 10اگست کو کانپور پہنچے، جو حراست میں تھے ان سے ملے اور جو زخمی تھے، ان سب کی اسم وار فہرست بنائی، جس کے جسم پر جہاں جہاں چوٹیں تھیں، ان سب کو لکھا جبکہ مولانا آزاد ان دنوں الہلال کے اڈیٹر تھے، وہ بھی حالات معلوم کرنے کی غرض سے کانپور گئے تھے مگر مقامی حکام کے طریق عمل کی وجہ سے واپس چلے آئے۔ اس واقعہ کے تعلق سے سررضا علی نے تفصیل سے ضمنی موضوعات کے تحت لکھا ہے۔

اس کتاب کا چوتھا باب ’’انیسویں صدی کے آخری دور میں مسلمانوں کی سیاسی پالیسی‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس باب میں سررضا علی نے محسن الملک اور وقار الملک کے تعلق سے کئی ضمنی عنوانات کے تحت ان کی زندگی اور کارنامے کا جائزہ لیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس باب میں مولوی نذیر احمد اور واجد علی شاہ کا بھی ذکر کیا گیاہے۔ پانچویں باب میں علی گڑھ اور علی گڑھ میں سررضا علی کے ہم جماعت کا ذکر ہے۔ اس باب میں ’’کالج میں میر حبیب اﷲ خان کی تشریف آوری، کالج میں علما کا رسوخ اور اس کے نتائج کے ساتھ ساتھ میرے بعض ہم جماعت اور احباب‘‘، کالج یونین کا انتخاب 1900، اور علی گڑھ کی صحبتیں وغیرہ کے عنوان سے علی گڑھ کو پورے طور پر بیان کیا ہے۔ اسی باب میں ولایت علی بمبوق کا بھی ذکر کیا گیاہے۔ سماجی اور سیاسی حالت کے تحت انھوں نے دونوں کا بہت باریکی سے مطالعہ کیا۔ کچہریوں میں رشوت کی وبا، پولیس اور رشوت، ساس بہو کے تعلقات مغربی ملکوں میں، مسلمان اور پردہ، روزہ کی تاریخ، مغربی تہذیب اور جواز کا فتویٰ، مسلمان اور مردہ پرستی جیسے عنوان کے تحت انھو ںنے سیاسی اور سماجی طور پر ان چیزوں کا جائزہ لیا ہے۔

غرض یہ کہ سررضا علی کی خودنوشت ’’اعمال نامہ‘‘ میں شامل سارے باب اپنے عنوان کے اعتبار سے ایک مکمل کتاب کا درجہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے اسے سنہ کے اعتبار سے ترتیب دیا ہے۔ اسی لیے ان کی زندگی کے کچھ نہ کچھ پہلو پوری کتاب میں بکھرے پڑے ہیں۔ انھوں نے اپنی خودنوشت میں خود کو نہیں،اس وقت کے ہندوستان کی سیاسی اور سماجی کشمکش کو ابھارا ہے۔ اس خودنوشت میں ہمیں سررضا علی اور عہد سررضا علی پورے طور پر نظر آتا ہے۔ اپنے بارے میں انھوں نے بہت کم صفحہ لیا ہے ،لیکن ہندوستان کی تاریخ کا جیتا جاگتا چہرہ ہمیں ان کی اس خودنوشت اعمال نامہ میں نظر آتا ہے۔ انتخاب کرنے کے لیے میں نے بہتر یہی سمجھا کہ ان کی زندگی کو مکمل طور پر بکھرے اور اق کو اس طرح سے ترتیب دوںکہ کم صفحوں میں بغیر کسی الجھائو کے قارئین کے سامنے سر رضا علی کی پوری زندگی آسکے۔

میری پیدائش

میں 14مئی 1880 کو قصبہ کندرکھی میں پیدا ہوا۔ میری پیدائش کے ایک سال پہلے دادا صاحب نے پختہ دو منزل کا مکان بنایا تھا۔ دومنزلہ ہونے کے باعث یہ مکان سادات کے سب مکانوں سے اونچا تھا۔ اسی مکان میں میری پیدائش ہوئی۔ میرے بچپن میں اس مکان کو لوگ عموماً میرہادی علی کا محل کہتے تھے۔ مکان بہت بڑا نہیں ہے۔ دادا صاحب کے چار بیٹے تھے اور وہ خوب بڑا مکان بنانا چاہتے تھے۔ مگر زمین نہ مل سکی۔ اس مکان کے دو طرف راستہ ہے۔ توسیع کی گنجائش صرف پورب کی جانب تھی۔ پورب میں میرے والد کی نانی (دادا صاحب کی خوش دامن) کا مکان تھا وہ بڑے طنطنے کی بی بی تھیں۔ ان کی بیٹی یعنی میری دادی صاحبہ کا کئی برس پہلے انتقال ہوچکا تھا۔ دادا نے سوجتن کیے کہ وہ اپنا مکان فروخت کردیں کتنی قیمت دینے پر تیار تھے مگر وہ کسی طرح مکان بیچنے یا دینے پر راضی نہیں ہوئیں۔ دادا صاحب نے یہ بھی کہا کہ آپ قیمت نہ لیجئے آپ کا مکان کچا ہے۔ مجھے زمین کی ضرورت ہے۔ میں آپ کو دوسری جگہ آپ کے گھر سے اچھا مکان بنوائے دیتا ہوں۔ نانی صاحبہ نے جواب دیا تم امیر ہوگئے تو اپنے گھر کے۔ امیروں کے پڑوسی کیا غریب نہیں ہوتے۔ جب سے میرے میاں (خاوند) مرے ہیں ہر جمعرات کو فاتحہ اس گھر میں دلواتی ہوں اور جب تک جیتی ہوں اسی گھر میں فاتحہ دلائوں گی۔ نہ دینا تھا پرنانی صاحبہ نے اپنا گھر نہ دیا۔ مجبوراً جگہ کی کمی کے باعث دادا صاحب کو دو منزل کا مکان بنانا پڑا۔ پرنانی صاحبہ کا انتقال 1892 میں ہوا۔ تخمیناً پچاسی برس کی عمر ہوئی۔

میں اپنے والدین کی پہلی اولاد، دادا کا اکلوتا پوتا اور نانا نانی کا اکلوتا نواسہ تھا۔ دنیا کی سب مائوں کو اولاد آنکھ کا تارا ہوتی ہے۔ لیکن خدا بخشے والدہ صاحبہ کو جو محبت مجھ سے تھی، اس کی مثالیں اپنی زندگی میں تین چار سے زیادہ میں نے نہیں دیکھیں۔ میرا حافظہ اچھا ہے۔ بعض باتیں اس زمانے کی بھی یاد ہیں جب میری عمر چار اور پانچ سال کے درمیان تھی۔ میرا خیال ہے کہ میں نکھ چڑھا بچہ نہ تھا مگر ددھیال اور ننھیال کی محبت اور ماں کے لاڈ پیار نے تنک مزاج بنادیا تھا۔ والدہ صاحبہ جب کسی عزیز کے یہاں جاتی تھیں تو میں دوسرے کے گھر جاکر کسی سے بات چیت نہ کرتا تھا۔ نہ کھانا کھاتا تھا اور نہ رفع حاجت کے لیے دوسرے کے گھر جائے ضرور جاتا تھا ۔اور تو اور دوسرے کے گھر پانی پینے میں بھی مجھے تامل ہوتا تھا۔ اپنے گھر کے سوا ہر گھر کو غیر یعنی پرایا گھر سمجھتا تھا۔ جب والدہ صاحبہ نے دیکھا کہ عزیزوں میں ان کے تشریف لے جانے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے تو انھوں نے رشتہ داروں کے یہاں آنا جانا ترک کردیا۔ بیاہ شادی وغیرہ تقریبوں کے سوا کہیں نہ جاتی تھیں اور جہاں تقریب میں جاتی تھیں۔ وہاں سے بھی جلد واپس چلی آتی تھیں تاکہ رضل (میرا پیار کا نام تھا) کو تکلیف نہ ہو۔ ماں کو جو محبت اولاد سے ہوتی ہے۔ وہ خالق کی قدرت کا عجیب وغریب کرشمہ ہے۔ اگر ایسی محبت نہ ہو تو یہ گوشت کا لوتھڑا کیسے پلے کیسے بڑھے اور کیسے پروان چڑھے۔

انٹرنس کا امتحان اور آگرہ کا سفر

جوں توں کرکے مار چ 1898 میں امتحان کے لیے ہم آگرہ روانہ ہوئے۔ اس زمانہ میں انٹرنس کا امتحان مرادآباد میں نہ ہوتا تھا۔ مرادآباد سے لڑکے ہر سال امتحان میں شرکت کے لیے بریلی جایا کرتے تھے۔ میں بریلی کے گلی کوچوں سے خوب واقف تھا۔ چاہتا تھا کہ ہم سب کسی نئی اور بڑی جگہ امتحان دینے جائیں۔ میری تحریک پر میرے ہم جماعت طلبا نے آگرہ جاکر امتحان میں شرکت کی خواہش ظاہر کی اور بابو ایشان چندر بنرجی نے ہماری بات مان لی۔ میں آگرہ میں منشی امداد علی صاحب کے یہاں ٹھہرا تھا۔ جو اس وقت وہاں ڈپٹی کلکٹر تھے۔ اصلی رہنے والے مرادآباد کے تھے۔ بڑے زندہ دل آدمی تھے۔ قیام کا انتظام قیام الدین نے کیا تھا۔ بالائی منزل پر ٹھہرنے کو جگہ ملی۔ آخرمارچ میں آگرہ میں وہ گرمی اور تپش تھی کہ مرادآباد کی مئی یاد آتی تھی۔ معلوم نہیں اکبروجہانگیر نے آگرہ کو کیوں دارالسلطنت بنایا تھا۔ شاید راجپوتانہ کا قرب اور فوجی نقل وحرکت کی سہولت آگرہ کو اکبرآباد بنانے کا باعث ہوئی۔ آگرہ میں ہم سب طالب علموں نے تاج محل کی سیر کی۔ شاہجہاں کی صنعت گری کو ہم طالب علم کیا خاک سمجھتے۔ مگر آبدار اور نہایت خوبصورت تراشے ہوئے ہیرے سے جوچکاچوند آشنا آنکھوں میں پیدا ہوتی ہے وہی کیفیت اپنی بھی تھی۔ ہم تاج محل کی خوبی بیان نہ کرسکتے تھے مگر اتنا احساس ضرور تھا کہ تاج عجیب وغریب عمارت ہے۔ سرسید احمد خان کے انتقال کی خبر ہم نے آگرہ میں سنی تھی۔ خبر سن کر مجھے افسوس نہیں بلکہ صدمہ ہوا تھا۔

مکتب کی تعلیم سے علیگڑھ جانے تک میری تعلیم

میرے پہلے استاد میاں جی عزیزالدین تھے۔ پھر تخمیناً دوسال تک فارسی منشی عشرت علی سے پڑھی۔ میرا سب خاندان موصوف کا شاگرد تھا۔ فارسی کی استعداد اچھی تھی مگر لکیر کے فقیر تھے۔ فارسی کی درسی کتابوں کے ضروری مقامات ان کو زبانی یاد تھے۔ اگر کسی کتاب میں کوئی لفظ غلط چھپ جاتا یا متن اس طرح نہ ہوتا جیسا موصوف کو یاد تھا تو بڑے فخر سے مطبع والوں کی فروگذاشتوں اور علمی ناداریوں سے شاگردوں کو مطلع کرتے اور زمانہ کی بدمذاقی پر اظہار تاسف فرماتے۔ صرف ونحو سے بالکل ناواقف تھے۔ اردو کتابیں اس دور کے مکتبوں میں نہیں پڑھائی جاتی تھیں۔ اردو عبارت لکھنا سکھانے کی طرف تو معلموں کا کبھی خیال بھی نہ گیا ہوگا۔ منشی صاحب شاگردوں کو فارسی عبارت لکھنی بھی بہت کم بتاتے تھے۔ کتابت، خوشخطی اور عبارت نویسی کو وہ تعلیم کا اہم جزونہیں سمجھتے تھے۔ آمدنامہ، کریما، مامقیماں اور حکایت لطیف موصوف نے مجھے پڑھائے تھے۔ کریما ناظرہ کا پڑھا تھا۔ 1888 میں دادا صاحب کی وفات کے بعد والدہ صاحب نے میری تعلیم مولوی سید اسد حسین مرحوم ساکن کندرکھی کے سپرد کی اور ہمارے مردانہ مکان میں میرے لیے مکتب کھولا۔

ان کے انتقال کے بعد مکتب کے معلم مولوی محمد حسین مقتول مقرر کیے گئے۔ موصوف کے اب وہ پرانے ٹھاٹھ رخصت ہوچکے تھے۔ ہمارے مردانہ مکان میں جہاں مکتب تھا رہتے تھے اور کھانا اور تنخواہ ہمارے یہاں سے ملتی تھی۔ تنخواہ ٹھیک یاد نہیں رہی۔ غالباً چار روپے ماہوار تھی اور لڑکے بھی پڑھتے تھے۔ ان سے پڑھائی کی فیس مولوی صاحب کو علیحدہ ملتی تھی۔ موصوف بڑے ذکی الطبع، اردو اور فارسی کی اچھی عبارت لکھنے والے اور بڑے خوشخط تھے۔ میں نے فارسی کی اونچی درسی کتابیں بشمول ابوالفضل وپنج رقعہ، ان سے پڑھیں۔ فارسی اور اردو کی عبارت لکھنا اور خوشخطی بھی ان سے سیکھی۔ اس زمانہ کی میرے قلم کی لکھی ہوئی کاپیاں میرے پاس محفوظ ہیں۔

میں نے مکتب میں اردو کی کوئی کتاب نہیں پڑھی، اس زمانہ کے مکتبوں میں صرف فارسی عربی پڑھائی جاتی تھی۔ افسوس ہے کہ مولوی مقتول سے میں نے انگریزی پڑھنا شروع نہ کردی۔ والدہ صاحبہ نے تو فرمایا تھا۔ مگر مجھے اردو فارسی میں لطف آنے لگا تھا۔ توجہ نہیں کی۔ والد صاحب نے قلمیں باندھنا اور باغ لگانا شروع کردیا تھا۔ مجھے اردو فارسی کی عبارت لکھتے دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ مگر میری تعلیم کے معاملہ سے اتنی دلچسپی نہ تھی کہ وقت نکال کراسے جانچتے یا مجھے کوئی ہدایت فرماتے۔ مولوی مقتول کے مرادآباد چلے جانے کے بعد میرا نام کندرکھی کے اردو اپرپرائمری مدرسہ میں درج کرادیا گیا۔ وہاں کی خاص تعلیم جس سے مجھ کو فائدہ ہوا ریاضی تھی۔ میں نے جلد تیسرا درجہ جو ہمارے مدرسہ کا سب سے اونچا درجہ تھا  پاس کرلیا۔ پھر وظیفہ یعنی اسکالرشپ کے امتحان میں بیٹھا۔ وظیفہ کا امتحان لینے ڈپٹی انسپکٹر مدارس بابوجگناتھ آئے تھے اور بلاری میں امتحان لیا گیا تھا۔ کچھ دن بعد خط آیا کہ میں کامیاب ہوا اور اگر مرادآباد جاکر اردو مڈل کے مدرسہ میں داخل ہو جائوں تو مجھے دوروپے ماہوار وظیفہ ملے گا۔ میں نے وظیفہ لینے اور مڈل اسکول میں پڑھنے سے انکار کردیا۔ وجوہ 1898 کے واقعات میں درج ہیں۔

عربی پڑھنے کے لیے مرادآباد جانا

کندرکھی کا سرکاری اردو مدرسہ چھوڑنے کے بعد میں آٹھ دس مہینے بیکار رہا۔ اس عرصہ میں والدہ صاحبہ نے چند مرتبہ رائے دی کہ میں انگریزی پڑھنے کے لیے مرادآباد چلا جائوں مگر انگریزی تعلیم کی اہمیت کا اس وقت تک مجھے اندازہ نہ تھا۔ مذہبی جوش سرپر سوار تھا۔ اس بیکاری کے زمانہ میں میرے تین شغل تھے۔ نماز پڑھنا، مرثیہ پڑھنا یا مرثیوں کی کتابت کرنا اور سنی شیعوں کے مذہبی مناظروں کی کتابیں پڑھنا۔ شیخ احمد ضلع سہارنپور کے ایک صاحب سنی سے شیعہ ہوئے تھے اور ایک کتاب لکھی تھی غالباً انورالہدیٰ نام تھا۔ اس کا جواب مولوی جہانگیر خان نے دیا تھا۔ جواب الجواب شیخ احمد نے لکھا تھا۔ یہ سب کتابیں میں نے منگائی تھیں اور بڑے شوق سے پڑھتا تھا۔ اس زمانہ میں اتنا شعور نہ تھا کہ فرقہ وارانہ مناظروں کا اسلام کی اصلی تعلیم سے اگر کچھ تعلق ہے تو اتنا بعید ہے کہ گڑے مردے اکھاڑنا۔ اس زمانہ میں اسلام کے ساتھ دوستی نہیں بلکہ دشمنی ہے۔ مسلمانوں اور آریوں کے مناظرہ کی بھی چند کتابیں میں نے پڑھی تھیں۔ رمضان المبارک کا مہینہ مئی جون میں پڑتا تھا۔ میں پورے روزے بڑی عقیدت سے رکھتا تھا۔ اسی زمانہ میں چھوٹے چچا صاحب عربی پڑھنے مرادآباد گئے۔ میرے مذہبی جوش نے گوارا نہ کیا کہ وہ عربی پڑھیں اور میں اس دولت سے محروم رہ جائوں۔ اکتوبر 1891 میں میں نے والدہ صاحبہ سے اپنا عربی پڑھنے کا ارادہ ظاہر کیا اور آٹھ دس دن بعد مولوی بننے اور عربی پڑھنے کی غرض سے مرادآباد چلا گیا۔ مولوی سید رضا حسین صاحب محلہ سادات لانکڑی ہیں۔ عربی کا درس طلبا کو دیتے تھے۔ نماز جمعہ میرسعادت علی مرحوم کی مسجد واقع محلہ چومکھ پل میں پڑھاتے تھے اور مجالس میں حدیث خوانی کرتے تھے۔ نوگانوں سادات کے رہنے والے تھے۔ آدھی تنخواہ ان کو مرزا عابد علی بیگ صاحب دیتے تھے اور آدھی تنخواہ میرسعادت علی صاحب کے وقف سے ملتی تھی۔ میرسعادت علی غدر کے زمانہ میں تحصیلدار تھے۔ بیٹا کوئی نہ تھا۔ محلہ چومکھ پل میں خوب بڑا امام باڑہ بنایا اور اس کے کونہ میں چھوٹی سی مسجد تعمیر کی۔ امام باڑہ کے خرچ کے لیے زمینداری وقف کی اور متولی اپنی بیٹی یا داماد کو نہیں بنایا بلکہ مولوی محمد حسن صاحب کو جن کا تذکرہ کندرکھی کے حالات میں آچکا ہے متولی مقرر کیا۔

میرے مرادآباد جانے سے پہلے مولوی صاحب کا انتقال ہوچکا تھا اور 1891 میں ان کے بیٹے مولوی مہدی حسن صاحب متولی تھے، اب بھی موصوف متولی ہیں۔ جیسا اچھا انتظام اس وقف کا ہے، کاش اور اوقاف کا بھی ایسا ہی انتظام ہوتا۔ مولوی رضا حسین صاحب کے مکتب میں اور شیعہ طلبا بھی عربی کا درس لیتے تھے۔

عربی کا ناقص طریقۂ تعلیم

میں نے شوق میں عربی شروع تو کردی مگر جی نہ لگا۔ عربی کا طریقۂ تعلیم نہایت قابل اعتراض ہے۔ کسی زبان کی تعلیم صرف ونحو سے شروع کرنا نہایت غلط اور دقیانوسی طریقہ ہے۔ طالب علم کو میزان منشیعب رٹوانا اس کے دماغی توازن میں خلل ڈالنا ہے۔ صرف ونحو کی اصلی غرض یہ ہے کہ زبان دانی میں مدد دے سکے۔ لیکن عربی کا طریقۂ تعلیم ایسا ناقص ہے کہ صرف ونحو کی تعلیم میں بہت سا بیش قیمت زمانہ لگ جاتا ہے اور پانچ چھ سال پڑھنے کے بعد بھی طالب علم عربی کے سلیس جملے نہ بول سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے، میرا خیال یہ ہے کہ جن ملکوں میں عربی بولی جاتی ہے مثلاً مصروشام وعرب وہاں کے لیے پرانا طریقۂ تعلیم زیادہ ناموزوں نہ ہو مگر جہاں عربی نہیں بولی جاتی وہاں صرف ونحو سے ہرگز ابتدا نہ کرنا چاہئے بلکہ موجودہ طریقۂ تعلیم کی بموجب پہلے آسان الفاظ سکھانا اور پھر ان الفاظ کو ملاکر چھوٹے چھوٹے آسان جملے اور فقرے بنانا ضروری ہے۔ پرانا طریقہ یہ ہے کہ گاڑی آگے ہے اور گھوڑا پیچھے۔ حالاں کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ گھوڑا آگے ہو اور گاڑی پیچھے تاکہ گاڑی کو گھوڑا کھینچ سکے۔ نودس مہینے میں بدشواری پنج گنج تک پہنچتے پہنچتے میرے صبر کا پیالہ لبریز ہوگیا اور مجھے عربی چھوڑنا پڑی۔

انگریزی تعلیم

مولوی محمد حسین مقتول سے میں نے بارہ سال کی عمر میں انگریزی پڑھنا شروع کی۔ مولوی مقتول کندرکھی سے چلے آنے کے بعد اپنے گھر پر پڑھاتے تھے اور میں صبح اور سہ پہر کو دونوں وقت ان کے گھر جاکر درس لیتا تھا۔ مجھے انگریزی پڑھنے کا خیال بہت دیر میں آیا۔ اگرچندسال پہلے شروع کی ہوتی تو بارہ تیرہ برس کی عمر میں انٹرنس پاس کرلیتا۔ انگریزی پڑھنے میں مجھے سب سے زیادہ دشواری دوباتوں میں پیش آئی۔ ایک تو حروف کی مختلف صورتیں ذہن نشین کرنے میں اور دوسرے الفاظ کے ہجے یاد رکھنے میں۔ میرا زیادہ وقت پڑھنے میں صرف ہوتا تھا۔ لکھنے کا موقعہ نسبتاً کم ملتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزی کا خط کچا رہ گیا۔ میری انگریزی کی تحریر صاف ہوتی ہے مگر حروف اور الفاظ سڈول نہیں ہوتے۔ اردو فارسی خط برا نہیں ہے۔ مرادآباد میں مختلف لوگوں سے ملنے جلنے کے باعث میرے خیالات میں وسعت اور طبیعت میں رواداری پیدا ہوگئی۔

گورنمنٹ ہائی اسکول میں داخلہ

ستمبر 1893 میں میرے والد کے دوست پنڈت پرتاپ کشن صاحب مجھے گورنمنٹ ہائی اسکول میں داخل کرانے لے گئے۔ پنڈت صاحب میرے والد کے بڑے دوست اور اخبار ’رہبر‘ کے مالک تھے۔ اس اخبار کے ایڈیٹوریل مضمون اکثر والد صاحب کے لکھے ہوئے ہوتے تھے۔ بابو رام چرن داس نے جو پانچویں درجہ کو پڑھاتے تھے۔ میرا امتحان لے کر یہ رائے ظاہرکی کہ میری انگریزی کمزور ہے اور میں ساتویں یا زیادہ سے زیادہ چھٹے درجہ کے قابل ہوں۔ مجھے سخت صدمہ ہوا اور پنڈت صاحب کے ساتھ ماسٹر کنومل کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ماسٹر صاحب میرے والد کے ہم جماعت رہ چکے تھے، ان کی سفارش کا یہ نتیجہ ہوا کہ بابو رام چرن داس نے مجھے داخل تو کرلیا لیکن دو ٹوک بات مجھے بتادی، فرمایا ’’لڑکے بابو کنومل کے کہنے سے میں تجھے داخل تو کیے لیتا ہوں مگر تیری انگریزی ساتویں درجہ کی قابل ہے تو امتحان میں فیل ہو جائے گا۔‘‘ تین مہینے بعد ششماہی امتحان ہوا تو کل درجہ میں میرا تیسرا نمبر آیا۔ پہلا نمبر غلام حیدر خان کا تھا۔ دوسرا محمد عمر کا اور تیسرا میرا۔ اپریل 1894 کے سالانہ امتحان میں میرا دوسرا نمبر آیا۔ زمانہ کی الٹ پھیر دیکھئے کہ جس درجہ کا نام میرے زمانہ میں پانچواں درجہ تھا۔ اب اسے چھٹا درجہ کہتے ہیں۔ میرے زمانہ میں میٹریکیولیشن کو پہلا درجہ کہتے تھے، اب اس کا نام دسواں درجہ ہے۔

اسکول کی تعلیم اور شادی کی تجویز

چوتھے درجہ کے سالانہ امتحان میں میرا دوسرا نمبر اور انگریزی میں پہلا نمبر آیا۔ 1896 میں میں نے انگریزی مڈل کا امتحان اول درجہ (فرسٹ ڈویژن) میں پاس کیا۔ اس زمانہ میں چالیس طلبا کو جو مڈل کے امتحان میں صوبہ میں سب سے اونچے نمبر پر پاس ہوں۔ محکمۂ سررشتہ تعلیم چار روپے ماہوار کا وظیفہ یا اسکالرشپ بر بنائے قابلیت دیتا تھا۔ مجھ کو یہ وظیفہ ملا۔ صوبہ میں میرا نمبر بائیسواں تھا۔

شیخ سعدی نے سچ فرمایا ہے ’’ہرجاکہ گل ست خار ست و باخمر خمار ست‘‘ اکلوتا بیٹا ہونے میں جہاں بہت سے فائدے ہیں تھوڑا سا نقصان بھی ضرور ہے۔ والدہ صاحبہ نے میری منگنی 1890 میں کردی تھی۔ جون 1896 میں انگریزی مڈل کا نتیجہ معلوم کرنے کے لیے مرادآباد دو تین دن کے لیے گیا تھا۔ وہاں سے جو واپس آیا تو دیکھا بڑی چہل پہل ہے، کنبہ کی بی بیاں جمع ہیں اور ہمارے گھر گانا ہورہا ہے۔ معلوم ہوا کہ میری شادی طے پاگئی ہے اور تاریخ مقرر ہونے والی ہے۔ میرا ماتھا ٹھنکا اور یہ رائے میں نے قائم کی کہ اگر اس وقت میں شادی پر راضی ہوگیا تو بی اے پاس کرنا ناممکن ہوجائے گا اور انٹرنس پاس کرنے کے بعد اپنا اور بیوی کا پیٹ پالنے کے لیے جو نوکری مل جائے وہ کرنا پڑے گی۔ مرادآباد کے احباب کی صحبتوں اور بالخصوص قیام الدین احمد کے اثر نے میرے دل میں امنگیں پیدا کردی تھیں اور میں مصرعہ۔ خاک از تو وہ کلاں بردار (ترجمہ: ایک مٹھی مٹی کی بھی ضرورت ہو تو مٹی کے بڑے ڈھیڑ میں سے اٹھانا چاہئے) پر عمل کرنے کا پہلے سے تہیہ کرچکا تھا۔ والدہ سے میں نے عرض کیا کہ مجھے شادی کرنے میں عذر نہیں ہے مگر یہ وقت ٹھیک نہیں ہے۔ چار برس ٹھہر جائیے میں ایف اے کرلوں اس کے بعد آپ جو حکم دیں گی تعمیل کروں گا۔ والدہ صاحبہ کو میرا اعتراض ناگوار گزرا۔ مگر والد صاحب نے سکوت اختیار کیا اور مجھے قابل الزام نہ سمجھا۔ اس زمانہ کی باتیں یاد کرتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ رسم ورواج کی زنجیر بھی کیسی کڑی ہوتی ہے۔ ہماری برادری یعنی سادات میں ہر شخص مجھ پر انگلی اٹھاتا تھا کہ لو کیسا لڑکا ہے۔ خدا کے فضل سے ماں باپ موجود ہیں۔ پھر بھی شادی کے بارے میں اپنی رائے لگاتا ہے۔ کنبہ کی ایک بڑی بوڑھی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ چودھویں صدی ہے۔ دیکھئے آگے چل کر کیا ہوتا ہے۔ ہمارے خاندان کے کسی لڑکے نے اپنے رشتہ ناتے کے معاملہ میں آج تک منہ نہیں کھولا تھا۔ غرضکہ میں ایسا ملزم تھا جس کے خلاف برادری کے ہر شخص کو بغیر پورے حالات معلوم کیے فیصلہ صادر کرنے کا حق حاصل تھا۔ میں سماجی، مذہبی اور سیاسی معاملات میں لڑکپن سے انتہاپسند رہا ہوں۔ میری سماجی بغاوت کو (فی الحقیقت وہ بغاوت نہ تھی) ابھی پورے چھیالیس برس بھی نہیں ہوئے گو معاشرتی اصلاح کی رفتار بہت مدھی ہے لیکن خدا کا شکر ہے کہ جو حقوق اس زمانہ میں لڑکوں کو حاصل نہ تھے وہ آج تعلیم یافتہ لڑکیوں کو حاصل ہیں۔ اقتضائے وقت کی لہر سمندر کی موج سے کم زور دار نہیں ہوتی ۔ جو شخص انگلستان کے بادشاہ کینوٹ کی طرح اس لہر یا موج کو بازروی کا حکم دے گا اسے خود پچھتانا پڑے گا۔

ایل ایل بی میں کامیابی

ڈھائی سال میں نے سرکاری ملازمت میں گزارے مگر دیوی کی یاد دل سے نہ گئی۔ جوں جوں ملک میں سیاسی احساس بڑھتا گیا دیوی کی ادائوں کا جادو بھی سوا ہوتا گیا۔ الٰہ آباد کے قیام میں اپنی مصروفیتوں کا ذکر کرچکا ہوں۔ ایل ایل بی کا امتحان جولائی 1907 کے تیسرے ہفتہ میں ہونے والا تھا۔ مجھے تیاری کے لیے بہ مشکل ڈھائی مہینہ کا وقت ملا ہوگا۔ میں نے اپنے کمرہ میں خس کی ٹٹی لگوالی تھی اور دوپہر میں پنکھا کھینچنے کے لیے ایک قلی کو نوکر رکھ لیا تھا۔ صبح کے دو ڈھائی گھنٹے قانونی کتابوں کے مطالعہ میں صرف کرتا تھا اور دن کے دس بجے سے سہ پہر کے پانچ بجے تک اپنے کمرہ میں پڑھتا تھا۔ اس درمیان میں کسی کو اپنے کمرہ میں نہ آنے دیتا تھا۔ دن کے بارہ اور ایک بجے کے درمیان پلنگ پر لیٹ کر کمرسیدھی کرتا تھا۔ بقیہ وقت پڑھنے میں صرف ہوتا تھا۔ وقت مقررہ پر میں امتحان میں شریک ہوا۔ امتحان دس بارہ دن تک جاری رہا۔ میں نے پرچے اچھے کیے۔ شروع اگست میں الہ آباد سے کندرکھی پہنچا۔ خیال یہ تھا کہ ستمبر میں نتیجہ آجائے گا۔ میری رخصت 31اگست کو ختم ہونے والی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ نتیجہ کا حال مجھے کندرکھی میں معلوم ہو جائے۔ اس لیے 30ستمبر 1907 تک مزید رخصت لے لی۔ نتیجہ آنے میں دیر لگی۔ مجبوراً یکم اکتوبر کو میں نے منصوری جاکر منصرمی کا چارج لے لیا۔ عالباً 7اکتوبر کو تار ملا جس سے معلوم ہوا کہ میں پہلے درجہ میں امتحان میں کامیاب ہوگیا۔ یونیورسٹی میں میرا تیسرا نمبر تھا۔

تین مہینے اور ملازمت کی اور دسمبر 1907 کے بڑے دن کی تعطیل میں مرادآباد آکر وکالت شروع کرنے کے بارے میں ضروری انتظامات کیے۔ مولوی سید حسن صاحب کندرکھوی نے جو والد صاحب کے دوست تھے، مشورہ دیا کہ میں بحیثیت وکیل ہائی کورٹ کام شروع کروں۔ ضلع کے وکیل کی حیثیت سے ابتدا نہ کروں۔ دونوں باتوں میں فرق یہ تھا کہ بحیثیت وکیل ہائی کورٹ نام درج کرانے میں پانچ سو روپیہ یک مشت فیس ادا کرنا ضروری تھا۔ اور یہ اندراج نام تمام عمر کے لیے کافی تھا۔ اگر کوئی شخص بحیثیت وکیل عدالت ججی اپنا نام درج کرانا چاہتا تو اس کو صرف پچیس روپیہ سالانہ فیس ادا کرنا پڑتی تھی مگر ججی کی وکالت کے سرٹیفکیٹ کی ہرسال تجدید کرانا لازمی تھا۔ مولوی صاحب نے یہ مشورہ دیا کہ بحیثیت وکیل عدالت ضلع کام شروع کرنا میرے لیے چھوٹی بات ہے۔ ایل ایل بی ہونے کی حیثیت سے اگر میں وکلائے ہائی کورٹ الہ آباد کی فہرست میں نام درج کرا کے کام شروع کروں تو میری وقعت زیادہ ہوگی۔ موصوف کی یہ رائے بالکل صحیح تھی مگر میرے لیے پانچ سو روپے کی رقم یک مشت ادا کرنا آسان کام نہ تھا۔ تاہم دوستوں سے قرض لے کر میں نے بحیثیت وکیل ہائی کورٹ اپنا نام 22جنوری 1908 کو درج کرایا اور محرم کی تعطیل کے بعد کچہری کھلنے پر کام شروع کردیا۔ میں نے منصرمی سے استعفیٰ نہیں دیا تھا بلکہ بغیر تنخواہ کے سال بھر کی رخصت لے لی تھی اور ہائی کورٹ نے مجھے رخصت کے زمانہ میں وکالت کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ میں نے احتیاطاً سرکاری ملازمت سے قطع تعلق نہیں کیا تھا مگر یہ احتیاط غیرضروری ثابت ہوئی۔ اور دسمبر 1908 میں میں نے منصرمی سے استعفیٰ دے دیا۔

مرادآباد میں وکالت

جب جنوری 1908 میں میں نے مرادآباد میں وکالت شروع کی ہے تو میرا کل سرمایہ ایک بائی سائیکل، تھوڑا سافرنیچر اور چند کتابیں اور گورنمنٹ ہند کے غیرمشرح ایکٹ تھے۔ اسی زمانہ میں مولوی قیام الدین احمد نے دفتر کے لیے ایک میز جس کی قیمت سو روپے کے قریب تھی بریلی سے منگواکر ہدیتہ مجھے دی تھی۔ میز بہت اچھی تھی اب بھی میرے پاس ہے۔ چیز اگر احتیاط سے برتی جاتی تو برسوں رہتی ہے۔ کپڑے بھی میرے پاس خوب چلتے ہیں۔ تین انگریزی سوٹ اس وقت میرے پاس ایسے موجود ہیں جو 1913 میں یعنی انتیس سال سے زیادہ زمانہ گزرا دہلی کے انگریز درزی رینکن سے بنوائے تھے۔ ان میں ایک فراک سوٹ تھا۔ وقتاً فوقتاً میں نے فراک سوٹ پہنا مگر وہ رفیق وفادار نئے کا بنارہا۔ جب فراک سوٹ پہننے کا رواج نہ رہا تو میں نے فراک کوٹ کو 1934 میں بدلواکر مارننگ کوٹ کرالیا۔ اب سے اٹھارہ بیس سال پہلے کے بنے ہوئے سوٹ میرے پاس بہت سے ہیں۔ میرے چھوٹے چچا میرآل حسن کی شادی جون 1894 میں ہوئی تھی۔ اس تقریب میں والدہ صاحبہ نے میرے لیے کامدانی کا انگرکھا تیار کرایا تھا وہ بھی میرے پاس موجود ہے۔ وفات کے کچھ دن پہلے والدہ صاحبہ نے میری چھٹی کی ٹوپی دے کر فرمایا تھا کہ حفاظت سے رکھنا۔ میں اسے بڑی احتیاط سے رکھتا ہوں۔ بچپن میں ٹوپی کے بارہ میں بڑی دل خوش کن روایتیں سنی تھیں۔ ایک روایت تھی کہ جو اہل مقدمہ ٹوپی کو اپنے ساتھ کچہری لے گیا مقدمہ جیت کر گھر لوٹا۔ آج کل بڑا نازک وقت ہے اگر یہ معلوم ہوجاتا کہ جس فوج کے ساتھ یہ ٹوپی ہو وہ لڑائی جیت جائے گی تو دولت میں آج میں مسٹرہنری فورڈ اور لارڈ بیوربروک کا مدمقابل ہوتا۔ مجھے ابھی تک ٹوپی کے خواص آزمانے کا موقع نہیں ملا ہے۔ دیدہ خواہد شد۔ خواص کے قطع نظر میں ٹوپی کو اس لیے بہت بڑی نعمت سمجھتا ہو ںکہ جب اس پر نظر پڑجاتی ہے یا اس کا خیال آجاتا ہے تو والدہ مرحومہ کی ان شفقتوں اور احسانات کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جن کا شمار خالق اکبر کی قدرت کے سب سے بڑے جلوئوں میں ہے۔

شروع وکالت کے واقعات کبھی نہ بھولوں گا۔ یہ میری زندگی کا نیا دور تھا۔ میں محنت اور جفاکشی کا بچپن سے عادی تھا۔ ڈپٹی کلکٹروں میں اس زمانہ میں خان بہادر قاضی عزیز الدین احمد (جو بعد میں دتیا کے دیوان ہوئے اور نائٹ کا خطاب پایا) اور منشی اشفاق حسن خان مرادآباد میں تعینات تھے۔ قاضی مخدوم حسن بندوبست کے ڈپٹی کلکٹر تھے۔ بابو نہال چندر صدر اعلیٰ تھے۔ خواجہ عبدالعلی جو اب علیگڑھ کے پرانے طلبا کی جماعت کے باوہ آدم نہیں تو حضرت نوح ضرور ہیں، منصف شہر تھے۔ قاضی سرعزیزالدین احمد اور قاضی مخدوم حسن سے میری علیگڑھ کی واقفیت تھی۔ دونوں نے میری جو مدد کی اس کا تذکرہ نہ کرنا احسان پر پردہ ڈالنا ہے۔ دونوں قاضی صاحبان ایسے ہی مختلف المزاج تھے جیسے دو انسان ہوسکتے ہیں مگر دونوں بڑی خوبیوں کے بزرگ تھے۔

علیگڑھ کالج میں داخلہ

چودہ جولائی 1898ء کو علی گڑھ پہنچا اور دوسرے دن کالج میں داخل ہوگیا۔ علیگڑھ سے مجھے وہ وظیفہ ملا جو ہونہار غریب طلبا کو دیا جاتا ہے۔ کالج کی فیس کمرہ کا کرایہ اور کھانے پینے کا سب خرچ ملا کر اور رقم وظیفہ مجرا کرنے کے بعد مجھے صرف سات روپے ماہوار کالج کو دینے پڑتے تھے۔ رہنے کو کچی بارگ میں باون نمبر کا کمرہ ملا اور بی اے پاس کرنے تک میں اسی کمرہ میں رہا۔ میںنے خدا کا شکر ادا کیا اور بانی کالج کی روح کو دعا دی۔ جولائی کے آخر یا اگست کے شروع میں کالج کی سالانہ تعطیل ہوئی۔ میں کندرکھی پہنچا۔ والدہ نے شادی کا تقاضا پھر شروع کردیا۔ پرانی منگنی چھوٹ چکی تھی۔ والدہ چاہتی تھیں کہ کسی اور جگہ میری شادی ہو جائے۔ میں جانتا تھا کہ شادی کرنا اپنے پاؤں میں کلہاڑی مارنا ہے مگر ماں اور پھر ایسی ماں کے حکم سے سرتابی مشکل تھی۔ اگست 1898 میں اس لڑکی کی جس کے ساتھ پہلے میری منگنی ہوئی تھی۔ بارات آئی۔ لڑکی کے باپ کا گھر ہمارے گھر کے بالکل قریب تھا۔ راستہ ہمارے دروازہ کے سامنے ہوکر جاتا تھا۔ والد صاحب مرادآباد تشریف لے گئے تھے۔ رات کے بارہ بجے بارات ہمارے دروازہ پر پہنچی، ہمراہ ایک طالفہ بھی تھا۔ ادھر رنڈی نے ہمارے دروازہ پر یہ گیت شروع کیا۔ رات سیجریوں پہ سیاں مچلائے گئے۔ نائیں کچھ دے گئے نائیں کچھ لے گئے۔ بالی عمریا میں داگ (داغ) لگائے گئے۔ ادھر والدہ صاحب کے منہ سے چیخ نکلی۔

میرا نکاح

والدہ صاحبہ نے میرا نکاح اپنے ایک عزیز کی لڑکی سے کرنا چاہا۔ میں یہ سمجھ کر کہ میری بیوی والدہ کی عزیز ہوگی تو ساس بہو کے جھگڑوں سے نجات ملے گی۔ راضی ہوگیا۔ اب دوسرا جھگڑا شروع ہوا۔ نکاح کے دن معلوم ہوا کہ والد صاحب اس رشتہ کے سخت مخالف ہیں۔ اگر مجھے پہلے معلوم ہو جاتا تو میں اس جھگڑے میں نہ پڑتا۔ میں تو خود آزاد رہنا چاہتا تھا۔ اب صورت یہ تھی کہ سب برادری کو معلوم ہوچکا تھا کہ نکاح ہونے والا ہے۔ میں نے سوچا۔ ہرچہ باداباد۔ اب زیادہ بدنامی اٹھانا مناسب نہیں ہے۔ برادری کو اطلاع کرادی کہ 9ستمبر 1898 مطابق 22ربیع الثانی 1316ہجری کی شام کو نکاح ہے۔ والد صاحب نکاح میں شریک نہیں ہوئے۔ بڑے چچا اور منجھلے چچا شریک ہوئے اور ضروری انتظامات دونوں صاحبوں نے خود کیے۔ بھتیجے کی خالہ بھائی کی ناراضی برادشت کرنا ذرا مشکل کام ہے۔ دونوں صاحبوں کا ہمیشہ احسانمند رہوں گا۔ ددھیال پر ہی کیا موقوف ہے، میں ننھیال والوں کی بھی آنکھ کا تارا تھا۔ بڑی خالہ 1890 میں ان کا انتقال ہوچکا تھا اور منجھلی خالہ مجھ سے ایسی ہی محبت کرتی تھیں جیسی ماں بیٹے سے کرتی ہے۔ دونوں میں سے کسی کے اولاد نہ تھی۔ میں صبح کو ذرا دیر سے سو کر اٹھتا تھا۔ نگریا سادات کے دکان کا صحن بڑا تھا۔ علی الصباح صحن میں ایک طرف والدہ اور دوسری طرف منجھلی خالہ کوے اڑانے بیٹھ جاتی تھیں کہ کائوں کائوں سے میری آنکھ نہ کھلے۔ اگر کوئی میرے پلنگ کے قریب ہوکر گذرنا چاہتا تو اس سے کہتیں ادھر سے نہ جائو رضل سورہا ہے۔ آنکھ کھل جائے گی۔

پبلک سروس کمیشن

سواپانچ سال تک میں پبلک سروس کمیشن کا ممبررہا اور اس عرصہ میں چھ انگریز اور تین ہندو رفیقوں کے ساتھ وقتاً فوقتاً کام کیا، آج ملک کی زہریلی فضا کو دیکھتے ہوئے اس زمانہ کے واقعات کی یاد میرے لیے کس قدر خوشگوار اور مسرت بخش ہے۔ میرے اور میرے کسی ہندو رفیق کے درمیان اس تمام عرصہ میں کسی ایسے مسئلہ پر اختلاف رائے نہیں ہوا جس کا تعلق فرقہ وارانہ جنبہ داری سے ہو۔ سروجیارگھوا چار یا نے ہمیشہ مسلمان امیدواروں کی مدد کی۔ مسٹر چٹرجی نے تو یہاں تک کیا کہ یہ اصرار اس اختلافی یادداشت (نوٹ) پر دستخط کیے جو میں نے ہوم ڈپارٹمنٹ کو مسلمان امیدواروں کے حقوق کے تحفظ کے بارہ میں 1930 میں بھیجی تھی۔ تیسرے ہندو ممبر مسٹر ورما تھے جو سردجیارگھوا چاریا اور مسٹر چٹرجی کی قائم کردہ روایات پر بڑی خوشی اور مستعدی سے عامل تھے، جب نہرو رپورٹ پر ہندومسلمانوں کے اختلافات نے بھیانک صورت اختیار کی ہے تو میں دوستوں سے مذاقاً کہا کرتا تھا کہ اگر سیاسی رہنما باہم سمجھوتہ نہیں کرسکتے تو ملک کے آئندہ دستور اساسی مرتب کرنے کا مسئلہ پبلک سروس کمیشن کے ہندوستانی ممبروں کی سپرد اس شرط کے ساتھ کردیں کہ اگر فیصلہ دونوں ہندوستانی ممبروں کا متفقہ ہو تو قابل پابندی ہے۔ ورنہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے۔ منجملہ چھ انگریز رفیقوں کے دو حضرات معاملات کے طے کرنے میں آزادی اور انصاف سے کام لیتے تھے۔ کبھی ہندوستانیوں کے حقوق کے مسٹر ہیوم سے زیادہ حامی نظرآتے تھے اور کبھی بادشاہ سے زیادہ ملوکیت پسند معلوم ہوتے تھے۔ چوتھے اور پانچویں ساتھی ہرمسئلہ کو اس محکمہ کے نقطۂ نظر سے دیکھتے تھے۔ جن سے ان کا تعلق تھا، ان میں سے ایک صاحب کو نوٹ میں ایک قطعی رائے کا اظہار کرنے اور جلسہ کا رنگ دیکھ کر اپنی پہلی رائے کے ٹھیک مخالف ووٹ دینے میں ذرا بھی تامل نہ ہوتا تھا۔ چھٹے رفیق منصف مزاج تھے۔ معاملات کا وسیع تجربہ رکھتے اور روئداد کی بموجب ہرمسئلہ کا فیصلہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان معاملات میں جن کا تعلق انتظامی اصولوں سے تھا کمیشن کا گورنمنٹ آف انڈیا کی پالیسی سے متاثر ہونا خلاف توقع نہ تھا لیکن جو اپیل اور استصواب کمیشن کے پاس جاتے تھے، ان کا فیصلہ کمیشن اسی آزادی سے کرتا تھا جس طرح کوئی ہائی کورٹ مقدمات فیصل کرتی ہے۔ قواعد وضوابط کی اصطلاح میں کمیشن کی رائے گورنمنٹ پر قابل پابندی نہ تھی مگر کمیشن کی جدوجہد سے یہ ریت رسم (کنونیشن) قائم ہوگئی تھی کہ اپیلوں اور استصوابوں کا آخری فیصلہ گورنمنٹ کمیشن کی رائے کے مطابق کرے۔

یوروپ کا پہلا سفر

میں نے دو مرتبہ یوروپ کی سیروسیاحت کی۔ 1929 میں یوروپ کا پہلا سفر کیا اور گورنمنٹ آف انڈیا کے بھیجے ہوئے وفد میں بماہ ستمبر ممبر کی حیثیت سے لیگ آف نیشنس کے سالانہ جلسہ میں بمقام جینوا شرکت کی۔ چند مہینے پہلے انتخاب عام (جنرل الیکشن) میں مزدور پارٹی کی کامیابی کے باعث مسٹرریمزے میکڈانل وزیراعظم کا عہدہ سنبھال چکے تھے۔ وزیرہند مسٹر ویج وڈبین تھے جن کو ہمارے ملک کے سیاسی ولولوں اور حوصلوں سے بڑی ہمدردی تھی۔ وزیرخارجہ مسٹر ہینڈرسن تھے جو ان تین حضرات میں سے تھے، جنھوں نے مسٹر کیرہارڈی کی قیادت میں مزدور(لیبر)پارٹی کی بناڈالی، جب میں لندن پہنچا ہوں، اسی ہفتہ مسٹر ہینڈرسن مصر سے لارڈ لائڈ کو جو مصر کے ہائی کمشنر اور کنزرویٹو پارٹی کے ممتاز ممبر تھے، واپس بلاکر اپنی اصابت رائے اور زبردست کیرکٹر کا ثبوت دے چکے تھے۔ لندن میں بہت سے حضرات سے جن میں وہ وزیر بھی تھے جن کے نام اوپر آچکے ہیں  ملاقات ہوئی۔ پیرس سے جنیوا جاتے ہوئے راستہ کی ایک چھوٹی سی بات شاید دلچسپی کا باعث ہو۔ میرا لڑکا حمزہ علی اس زمانہ میں بسلسلہ تعلیم انگلستان میں مقیم تھا اور میں اسے اپنے ساتھ جنیوا لے گیا تھا۔ ہم سب ہندوستانی وفد کے ممبر ان ڈبوں میں سفر کررہے تھے جو پیرس میں ہمارے لیے محفوظ کردیے گئے تھے۔ صبح کے آٹھ بجے کے قریب ریل ایک چھوٹے اسٹیشن پر ٹھہری۔ میں چائے پینے کا عادی ہوں، چاروں طرف نظردوڑائی میرے ڈبہ سے کچھ دور پلیٹ فارم پر ایک چائے کی دکان نظر آئی۔ حمزہ ہنوز سورہے تھے۔ میں چائے کی دکان پر پہنچا اور حمزہ کے لیے چائے لانے کی غرض سے ایک گلاس ساتھ لیتا گیا۔ وہاں جاکر دیکھا کہ سلطنت برطانیہ کیے وزیراعظم مسٹر میکڈانل دکان پر کھڑے چائے پی رہے ہیں اور ایک مگ (تام چینی کا آدھا ڈھکا ہوا پیالہ) ان کے ہاتھ میں ہے۔ علیک سلیک کے بعد ایک دو باتیں ہوئیں۔ میں نے چائے پی اور میکڈانل صاحب اپنے مگ میں لڑکی کے لیے چائے لے کر اپنے ڈبہ کی طرف چلے گئے۔ میں گلاس میں حمزہ کے لیے چائے لے کر اپنے درجہ میں لوٹ آیا۔ بات تو چھوٹی سی تھی مگر اس کا مجھ پر بہت اثر ہوا۔ اس واقعہ کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ انگریزوں کی قوم اس عیش پرستی اور آرام طلبی کی عادی ہوگئی ہے جس کے باعث وہ اب دنیا میں اپنی حکومت اور اقتدار قائم رکھنے کے قابل نہیں رہی۔ مانا کہ مسٹر میکڈانل ایک زمانہ میں مزدور تھے مگر جو شخص مگ ہاتھ میں لیے اسٹیشن پر چائے خرید رہا تھا، وہ اس وقت سلطنت برطانیہ کا وزیراعظم تھا۔

روس کی سیاحت

اکتوبر 1929 میں میں نے سوویت روس کا سفر کیا۔ ارادہ تو میرا پہلے سے تھا مگر مسٹر دیج وڈبین اور ان کی اہلیہ سے بات چیت کرنے کے بعد مصمم قصد ہوگیا۔ انگلستان اور بالشویکی روس کے باہم اس زمانہ میں سفارتی تعلقات نہ تھے۔ یہ تعلقات مسٹر میکڈانل نے اپنے دوران وزارت میں قائم کیے۔ مسٹر دیج وڈبین نے بعض روسی دوستوں کے نام خطوط دینے کی آمادگی ظاہر کی۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور کہا خطوں کو رہنے دیجئے، ہاں روسی اگر مجھے پکڑکر بند کردیں تو اس وقت آپ کی امداد کی ضرورت پڑے گی۔ روس گیا دو ہفتے کے قریب ماسکو میں ٹھہرا اور ماسکو سے سومیل کے دائرہ کے اندر بہت سے مقامات کی حالت دیکھی۔ میں نے روس کے سفر کا پروانۂ راہ داری برلن میں حاصل کیا تھا۔ اس زمانہ میں روسی دوقوموں کو اپنا بہترین دوست سمجھتے تھے، جرمن اور امریکی، انگلستان کو روسی برا اور اپنا مخالف جانتے تھے۔ کسی نے سچ کہا ہے اس عالم اسباب میں کل کے دوست آج کے دشمن اور کل کے دشمن آج کے دوست ہوتے ہیں۔ میں نے یوروپ کے اور بھی بہت سے ملکوں کی سیاحت کی۔ فرانس کے بارے میں یہ رائے کہ وہ مصرعہ:  آئیں شناس شیوئہ پیکار بھی نہیں۔ 1914-18 کی جنگ عظیم کے تجربہ سے غلط ثابت ہوچکی تھی مگر اس کے ’’رندلم یزل‘‘ ہونے میں شک وشبہ کی گنجائش نہ تھی۔ نیس میں سمندر کے کنارے بیٹھ کر میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ ساحل کی چٹانوں کے کسی پتھر کو اگر زبان گویا مل جاتی تو حسن عشق، رازونیاز، ہوس ومحبت، مسرت والم کی حقیقی داستانوں سے اہل عالم کو پتہ چل جاتا کہ دنیا کا طلسم جتنا عجیب معلوم ہوتا ہے اس سے کہیں عجیب تر ہے خدا جانے کتنے فرہاد ان چٹانوں سے سرٹکراچکے تھے، کتنے پرویز اس ساحل پر حیات شریں سے لذت اندوز ہوچکے تھے۔ کتنے صحرانوردوں کا محمل کی تلاش میں اس ساحل پر گزرہوا اور لیلائے مقصود سے ہم کنار ہونے کی بجائے طوفان دردوغم کی موجوں کا شکار ہوگئے۔ 1929میں جرمنوں کی حالت کسمپرسی اس مصرعہ کی مصداق تھی مصرعہ۔ ہم ایسے ہیں کہ جیسے کسی کا خدا نہ ہو۔

یوروپ کا دوسرا سفر

دوسری مرتبہ یوروپ کا سفر 1936 میں پیش آیا۔ جنوبی افریقہ کے ڈاکٹروں نے دل کا مرض تشخیص کیا۔ اس زمانہ کے ڈاکٹر بھی بڑے اہل کمال ہیں۔ میں تو سمجھا تھا کہ چند مہینے پہلے دل نذر کرکے میں گنگانہاچکا ہوں۔ مجھے اس مرض سے کیا واسطہ مگر ماہرین فن کا زمانہ ہے، ان کی تشخیص کو کون جھٹلائے۔ جولائی کے آخر میں معہ لیڈی رضا علی اور ان کی بہن مس ٹنگچی سامی کے ڈربن سے جرمن جہاز وٹوسی میں روانہ ہو کر ہیمبرگ پہنچا۔ ہیمبرگ کی خصوصیت بقول جرمنوں کے یہ ہے کہ وہاں سال کے تین سو پینسٹھ دن میں سے تین سو دن ابر اور کہرا گھرا رہتا ہے۔ چار دن ہیمبرگ میں ٹھہرکر ہم سب برلن گئے میں تخمیناً سات برس بعد برلن پہنچا تھا، اب جرمنوں کی حالت میں عظیم الشان تغیر ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ہفتہ برلن میں قیام کرنے کے بعد ہم ویانا پہنچے جہاں میں نے ڈاکٹر ون کے باخ کا علاج شروع کردیا موصوف دل کے امراض کے دنیا میں سب سے بڑے ماہر سمجھے جاتے تھے تھوڑے دنوں میں مریض ومعالج کے تعلقات کی بجائے دوستانہ مراسم ہوگئے ڈاکٹر ون کے باخ قوم کے ڈچ تھے فنی کمال کے علاوہ بڑی خوبیوں کے آدمی تھے۔ کئی زبانیں جانتے تھے انگریزی بھی بلاتکلف بولتے تھے۔ ایک روز مجھ سے کہنے لگے ’’سررضا۔ اب آپ ایسے جوان نہیں ہیں جیسے آج سے بیس برس پہلے تھے جو علاج مجھ سے ممکن ہے کررہا ہوں مگر یاد رکھئے کہ میں آپ کا ایسا اچھا علاج نہیں کرسکتا جیسا آپ خود کرسکتے ہیں۔ آپ کے دل میں کوئی خاص خرابی نہیں مگر جو احتیاطیں میں بتاتا ہوں ان پر عمل کرنا آپ کا فرض ہے۔‘‘ اس کے بعد ضروری احتیاطیں ایک کاغذ پر لکھ کردیں اور دیر تک سمجھاتے رہے۔ سب سے پہلی احتیاط یہ تھی کہ سگارسیگرٹ پینا یک قلم چھوڑ دیا جائے۔ میں موصوف کی بتائی ہوئی سب احتیاطوں پر عامل ہوں مگر تمباکو نوشی نہیں چھوٹتی۔ پہلے سگار پیتا تھا اب سیگرٹ پیتا ہوں۔ مجھ سے سیگرٹ نہیں چھوٹتا۔ دنیا میں ایسے بھی آدمی ہیںجو شراب پینا چھوڑدیتے ہیں میرے نزدیک وہ سب خدا کے خاص بندے ہیں۔ ایک قابل تذکرہ بات رہ گئی۔ موجودہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہمارے صاحب مقدرت ہندوستانی بھائی ویانا علاج کرانے جاتے تھے ویانا کے ڈاکٹر تمام دنیا میں مشہور ہیں مریض کو چاہئے کہ بہترین ڈاکٹر سے علاج کرائے ان کی فیس زیادہ نہیں ہے ڈاکٹروں کے باخ نے جب بل بھیجا تو مجھے بڑا تعجب ہوا بل میں فی ملاقات جتنے شلنگ درج تھے وہ تقریباً تیس روپے کے برابر ہوتے تھے۔ ڈاکٹر میلر سے جو آنکھ کے سب سے بڑے ماہر تھے میں نے اپنے لیے عینک تجویز کرائی تھی انھوں نے آنکھوں کا بغور معائنہ کرنے کے دو تین دن بعد عینک کا نسخہ تجویز کیا اور مجھ سے صرف چالیس روپے کے قریب فیس لی۔ یہ تو چوٹی کے ڈاکٹروں کا حال ہے مگر کوئی بدقسمت مریض ویانا کے معمولی یا گھٹیا ڈاکٹروں کے ہتے چڑھ جائے تو کپڑے بیچ کر پیچھا چھڑانا پڑے۔ معمولی ڈاکٹروں کا یہ حال ہے کہ ہر ہندوستانی کو آغا خان اور مہاراجہ کپور تھلہ کا ہم پلہ سمجھتے اور لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پیرس میں آکر میری سالی مس سامی بیمار ہوگئیں ان کے علاج کے سلسلہ میں معلوم ہوا کہ ویانا کی طرح پیرس کے معمولی ڈاکٹر بھی ایک کی جگہ دو یا تین لینے کے فن میں مشاق ہیں۔

لیڈری رضا علی کا یوروپ کا یہ پہلا سفر تھا ان کو پانچ چھ ملکوں کی سیرکرائی برلن اور پیرس کے علاوہ ان کو زیورک، جنیوا اور وشی بہت پسند آئے میونک میں ہرہفتے تین چار دن فوجی جلوس نکلتے تھے ہٹلر کے ادعائے صلح و آشتی پر بدگمانی شروع ہوگئی تھی اور غیرممالک کے سیاح یہ تیاریاں دیکھ کر حیران تھے کہ اس آغاز کا انجام کیا ہوگا ۔

نومبر میں لندن پہنچے اور ایک مہینے سے کچھ زیادہ انگلستان میں ٹھہرے لارڈزیٹ لینڈوزیر ہند، لارڈ ہلی فیکس (لارڈ ارون)، مسٹر ٹیلرانڈر سکریٹری وزارت خارجہ اور بعض اور ممتاز انگریز حضرات سے ملاقات ہوئی۔

جنوبی افریقہ کی کہانی

نومبر 1925 میں پہلی مرتبہ میں جنوبی افریقہ اس ڈیپوٹیشن کا ممبر ہوکر گیا جو مسٹر پیڈیسن کی صدارت میں لارڈ ہارڈنگ نے ان ہندوستانیوں کے حالات کی تحقیقات کے لیے بھیجا تھا جو اس ملک میں بس گئے ہیں۔ ڈیپوٹیشن کے دوسرے ممبر سردیواپرشاد سربادھیکاری اور سکریٹری مسٹرگرجاشنکر باجپئی تھے جب ہمار اڈیپوٹیشن پہنچاہے تو جنوبی افریقہ کے وزیراعظم جنرل ہرٹ زاگ اور وزیر داخلہ ڈاکٹر ملان تھے۔ ڈاکٹر ملان اب مخالف پارٹی کے لیڈر ہیں۔ میں جنوبی افریقہ دوبارہ 1935 میں ایجنٹ جنرل (اب اس عہدہ کا نام ہائی کمشنر ہے) ہوکر گیا اور تین سال تک اس عہدہ کی خدمات انجام دیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میری زندگی کے بدترین اور بہترین تین سال کون سے تھے تو میں کہوں گا کہ 1935 سے 1938 تک کا وہ زمانہ جو میں نے لاچار اور بے بس ہندوستان کا سفیر یا نمائندہ ہو کر جنوبی افریقہ میں گزارا۔ تفصیلی حالات اس کتاب کے دوسرے حصہ میں بیان کیے جائیں گے مختصر یہ ہے کہ جنوبی افریقہ کے ہندوستانیو ںکی معاشرتی معاملات میں وہی حالت ہے جو ہمارے ملک میں غریب اچھوتوں کی ہے اور اگر جنت کا یہ تخیل صحیح ہے تو پولیٹیکل، اقتصادی، تجارتی اور کاروباری معاملات میں ان کی حالت اچھوتوں سے اس قدر بدتر ہے کہ ہندوستان اچھوتوں کے لیے جنت ہے اور جنوبی افریقہ ہندوستانیوں کے لیے دوزخ۔ مجھ جیسے مزاج کے آدمی کے لیے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ گورنمنٹ آف انڈیا اور برٹش گورنمنٹ کے اثر کے ماتحت ایجنٹ جنرل ہندوستانی نہیں سمجھا جاتا۔ بلکہ اس کے ساتھ وہی مراعات برتے جاتے ہیں جو اس ملک میں گوری رنگت کے آدمی کا پیدائشی حق ہیں گویا ایجنٹ جنرل وہ کوا ہے جس کے جسم کو مور کے پروں سے ڈھک دیا گیا ہے دن رات اپنے تعلیم یافتہ، مہذب وسلیقہ شعار، غیورودولتمند ملکی بھائیوں کی تذلیل اپنی آنکھوں سے یکھتا ہے اور کچھ نہیں کرسکتا۔

انگریز اور ڈچ دوستوں کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ مہمانوازی کے علاوہ انھوں نے میرے ساتھ ضابطہ کا برتائو نہیں کیا بلکہ واقعتاً دوستی برتی اور میری شادی کے باعث جب خود میرے ملکی بھائیوں کی ایک جماعت میرے خلاف ہوگئی تھی میرا ساتھ دیا اور لیڈی رضا علی کو اور مجھ کو ہوٹلوں اور خود کیپ ٹائون کے ایوان پارلیمنٹ کے ریستوراں (ڈائننگ روم)میں دعوتیں دیں۔ شادی کے بعد اسی دن سہ پہر کو سرارنسٹ آپین ہائمر نے جو لیڈی رضا علی کے والد مرحوم کے مخلص دوست تھے ایک بہت بڑا دیڈنگ رسپشن (عصرانہ) دیا تھا جس میں مہمانوں کی تعداد آٹھ سو کے قریب تھی اس تقریب میں لیڈی رضا علی نے کیک کاٹنے کی رسم ادا کی تھی سرارنسٹ آپین ہائمر ہیرے کی مشہور ڈبیرس کمپنی کے چیئرمین اور جنوبی افریقہ کے بڑے دولتمند تاجر ہیں۔ کڑوڑوں روپے کی حیثیت ہونے کے باوجود ہندوستانیوں کے حقوق کے حامی اور بڑے منصف مزاج اور خوش اخلاق آدمی ہیں۔ 1925 کی واقفیت تھی دس برس بعد جب میں ایجنٹ جنرل ہو کر پہنچا تو موصوف نے پہلی ملاقات میں ہی کہا ’’آپ اور میں پرانے دوست ہیں۔ اتوار کی صبح کو میرے یہاں دوستوں کا اجتماع ہوتا ہے گیارہ بجے دن کی چائے سب ساتھ بیٹھ کر پیتے ہیں اور لطف صحبت رہتا ہے جب مزاج چاہے آئیے اور ہم سب کے ساتھ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ ٹھہرکر چائے پیجئے۔‘‘ ایک اور بات جس سے مجھے بڑی خوشی ہوئی یہ تھی کہ میرے زمانہ میں جنوبی افریقہ کے ہندوستانیوں کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوا۔ 1937 میں دونہایت قابل اعتراض بل پارلیمنٹ میں پیش ہوئے تھے مگر میں نے نج کے طور پر جنرل برٹ زاگ کو بتادیا تھا کہ اگر ان دونوں میں سے کوئی بل پاس ہوگیا تو میں اپنے کو اس کا اہل نہ سمجھوں گا کہ ایجنٹ جنرل کے فرائض کے بار کو اپنے کندھوں پر اٹھائے رہوں۔ غلط فہمی رفع کرنے کے لیے میں نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ میری اس صاف گوئی کو براہ کرم دھمکی نہ سمجھئے۔ غیرآزاد ہندوستان کا بے بس ومجبور نمائندہ صاحب اختیار جنوبی افریقہ کے طاقتور وزیراعظم کو بھلا کیا دھمکی دے سکتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ انجام کار دونوں بل واپس لے لئے گئے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،nesaab.com کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

Our Visitor

0 2 3 3 3 8
Users Today : 15
Users Yesterday : 9
Users Last 7 days : 199
Users Last 30 days : 973
Users This Month : 516
Users This Year : 3619
Total Users : 23338
Views Today : 19
Views Yesterday : 12
Views Last 7 days : 354
Views Last 30 days : 2188
Views This Month : 1016
Views This Year : 6726
Total views : 55341
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.10
Server Time : 17/05/2026 5:32 PM
error: Content is protected !!