ہمدردی – علامہ اقبال
ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی
اڑنے چگنے میں دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشیاں تک
ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا
سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
(شامل نصاب : این سی ای آرٹی کی اردو کتاب ستار برائے تیسری جماعت)
Users Today : 34
Users Yesterday : 30
Users Last 7 days : 227
Users Last 30 days : 842
Users This Month : 531
Users This Year : 2710
Total Users : 22429
Views Today : 87
Views Yesterday : 185
Views Last 7 days : 566
Views Last 30 days : 1686
Views This Month : 1103
Views This Year : 4810
Total views : 53425
Who's Online : 0