اندر سبھا – امانت علی
اندر سبھا اردو کے مشہور ڈراموں میں سے ایک ہے، جسے امانت لکھنوی (اصل نام سید آغا حسن امانت) نے لکھا تھا۔ یہ اردو کا پہلا باقاعدہ اسٹیج ڈرامہ سمجھا جاتا ہے اور اردو ادب میں اس کی ایک تاریخی حیثیت ہے۔
- مصنف: آغا حسن امانت (امانت لکھنوی)
- سنِ تصنیف: 1853
- صنف: اسٹیج ڈرامہ / منظوم ڈرامہ
- زبان: اردو
- موضوع: محبت، جادو، اور حسن و عشق کی داستان
خلاصہ: اندر سبھا ایک مثالی اور طلسماتی دنیا کا قصہ بیان کرتا ہے۔ اس میں جنت اور پریوں کی سلطنت کا منظر ہے جہاں بادشاہ اندر کی سبھا سجی ہوئی ہے۔ یہاں محبت، وفاداری، اور دھوکہ دہی کے قصے ہیں جو انسانوں اور پریوں کے درمیان پیش آتے ہیں۔
کہانی ایک انسانی شہزادے گودرس اور ایک پری گلابو کی محبت کے گرد گھومتی ہے۔ پریوں کی سلطنت کے قوانین کے مطابق کسی پری کو انسان سے محبت کرنا ممنوع ہے، لیکن گلابو گودرس کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ اس محبت کی پاداش میں گلابو پر سخت آزمائشیں آتی ہیں، اور آخرکار قربانی اور وفاداری کی وجہ سے دونوں کو ملنے کا موقع ملتا ہے۔
خصوصیات
- منظوم مکالمے: پوری کہانی شاعری میں بیان کی گئی ہے۔
- گیت اور رقص: اس میں 100 سے زیادہ گانے ہیں جنہیں اصل میں اسٹیج پر گایا اور نچایا جاتا تھا۔
- کردار:
- اندر (دیوتاؤں کا بادشاہ)
- گلابو (پری)
- گودرس (شہزادہ)
- دیگر پریاں، دیوتا، اور جادوئی کردار
اہمیت
- یہ اردو کا پہلا ڈرامہ ہے جس نے اسٹیج کی روایت کو جنم دیا۔
- کلاسیکی اردو شاعری اور موسیقی کا حسین امتزاج ہے۔
- آج بھی کئی تھیٹر گروپس اسے پیش کرتے ہیں، خاص طور پر لکھنؤ اور دہلی کے علاقے میں۔

Users Today : 15
Users Yesterday : 9
Users Last 7 days : 199
Users Last 30 days : 973
Users This Month : 516
Users This Year : 3619
Total Users : 23338
Views Today : 19
Views Yesterday : 12
Views Last 7 days : 354
Views Last 30 days : 2188
Views This Month : 1016
Views This Year : 6726
Total views : 55341
Who's Online : 0