خواجہ میر درد – اس نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں
ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں
پاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیں
آ جائے ایسے جینے سے اپنا تو جی بتنگ
جیتا رہے گا کب تلک اے خضر مر کہیں
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں
پاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیں
آ جائے ایسے جینے سے اپنا تو جی بتنگ
جیتا رہے گا کب تلک اے خضر مر کہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا
دی بادشہی حق نے تجھے حسن نگر کی
یو کشور ایراں میں سلیماں سوں کہوں گا
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریں
ساقیا آ شراب ناب کہاں
چند کے پیالے میں آفتاب کہاں
پیا باج پیالا پیا جائے نا
پیا باج یک تل جیا جائے نا
حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے
پیش روزن پس دیوار لیے پھرتی ہے
اس مشقت سے اسے خاک نہ ہوگا حاصل
جان عبث جسم کی بیکار لیے پھرتی ہے
وحشی تھے بوئے گل کی طرح اس جہاں میں ہم
نکلے تو پھر کے آئے نہ اپنے مکاں میں ہم
ساکن ہیں جوش اشک سے آب رواں میں ہم
رہتے ہیں مثل مردم آبی جہاں میں ہم
تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں
رہی ہے ایک تصویر خیالی روبرو برسوں
ہوا مہمان آ کر رات بھر وہ شمع رو برسوں
رہا روشن مرے گھر کا چراغ آرزو برسوں
Users Today : 22
Users Yesterday : 21
Users Last 7 days : 242
Users Last 30 days : 857
Users This Month : 592
Users This Year : 2771
Total Users : 22490
Views Today : 30
Views Yesterday : 44
Views Last 7 days : 601
Views Last 30 days : 1695
Views This Month : 1210
Views This Year : 4917
Total views : 53532
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.127
Server Time : 20/04/2026 5:03 PM