فتنہ خانقاہ : جوش ملیح آبادی
اک دن جو بہر فاتحہ اک بنتِ مہر و ماہ
پہنچی نظر جھکائے ہوئے سوئے خانقاہ
زُہاد نے اٹھائی جھجکتے ہوئے نگاہ
ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضرب لا اِلہ
برپا ضمیر زہد میں کہرام ہو گیا
ایماں، دلوں میں لرزہ بہ اندام ہو گیا
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
اک دن جو بہر فاتحہ اک بنتِ مہر و ماہ
پہنچی نظر جھکائے ہوئے سوئے خانقاہ
زُہاد نے اٹھائی جھجکتے ہوئے نگاہ
ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضرب لا اِلہ
برپا ضمیر زہد میں کہرام ہو گیا
ایماں، دلوں میں لرزہ بہ اندام ہو گیا
ولی دکنی کا تاریخ کہ اس دور سے تعلق ہے جب دکنی کلچر کی تہذیبی اور ادبی اکائی عالمگیر کی فتح دکن کی وجہ سے متاثر ہو چکی تھی اور اس کی وجہ سے پھر ایک بار شمال اور جنوب کے فاصلے گھٹ گئے تھے۔ اہل شمال دکن کے مختلف علاقوں میں آباد ہو گئے تھے اور شمال اور جنوب کی زبان آپسی لین دین میں شروع ہو چکی تھی۔ ولی نے دکن کی ادبی روایت کو شمال کی زبان اور فارسی روایت سے قریب تر کر کے ایک ایسا رنگ پیدا کیا جو سارے ہندوستان کے لیے قابل تقلید بن گیا۔ولی سے پہلے شمالی ہند کے اہل علم اردو کو بول چال کی زبان کے طور پر تو استعمال کرتے تھے لیکن شعر و ادب کے لیے فارسی ہی کو ترجیح دیتے تھے۔ کبھی کبھی اردو میں بھی شعر موضوع کر لیا کرتے تھے۔ شمالی ہند کے شاعروں نے براہ راست ولی کا اثر قبول کیا۔ اہل شمال کو احساس ہوا کہ اردو جسے وہ کم مایہ زبان سمجھتے ہیں اس میں اتنی گہرائی گیرائی اور قوت اظہار موجود ہے کہ اس میں ادب تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ دیوان ولی کے دلی پہنچنے کے بعد شمالی ہند میں باقاعدہ اردو میں شعر گوئی کا آغاز ہوا۔
Read Moreاردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیُّل کی بلندی اور شوخیٔ فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشِدّت سے محسوس کرتے ہیں۔
Read Moreغزل کا تعارف اردو شاعری میں غزل کی خاص اہمیت ہے۔ غزل کی مقبولیت کا بڑا سبب اس کا اعجاز
Read MoreUPTET Syllabus for Paper I & II UPTET Syllabus for Paper I and Paper II is defined separately. UPTET Syllabus
Read Moreپہلی جماعت شہنائی – 1 Shehnai – 1Class – 1 دوسری جماعت شہنائی – 2 Shehnai – 2Class – 2
Read Moreغیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
میری طرف بھی غمزۂ غماز دیکھنا
اڑتے ہی رنگ رخ مرا نظروں سے تھا نہاں
اس مرغ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا
دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا
مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں
جو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں
کھینچے ہے دور آپ کو میری فروتنی
افتادہ ہوں پہ سایۂ قد کشیدہ ہوں
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں
Users Today : 18
Users Yesterday : 21
Users Last 7 days : 238
Users Last 30 days : 853
Users This Month : 588
Users This Year : 2767
Total Users : 22486
Views Today : 25
Views Yesterday : 44
Views Last 7 days : 596
Views Last 30 days : 1690
Views This Month : 1205
Views This Year : 4912
Total views : 53527
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.127
Server Time : 20/04/2026 3:39 PM