خواجہ میر درد – مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں
مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں
جو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں
کھینچے ہے دور آپ کو میری فروتنی
افتادہ ہوں پہ سایۂ قد کشیدہ ہوں
ہر شام مثل شام ہوں میں تیرہ روزگار
ہر صبح مثل صبح گریباں دریدہ ہوں
کرتی ہے بوئے گل تو مرے ساتھ اختلاط
پر آہ میں تو موج نسیم دزیدہ ہوں
تو چاہتی ہے تو تپش دل کہ بعد مرگ
کنج مزار میں بھی نہ میں آرمیدہ ہوں
اے دردؔ جا چکا ہے مرا کام ضبط سے
میں غم زدہ تو قطرۂ اشک چکیدہ ہوں
Users Today : 15
Users Yesterday : 114
Users Last 7 days : 932
Users Last 30 days : 2404
Users This Month : 302
Users This Year : 9708
Total Users : 29427
Views Today : 17
Views Yesterday : 179
Views Last 7 days : 1593
Views Last 30 days : 5426
Views This Month : 495
Views This Year : 19758
Total views : 68373
Who's Online : 0