میر تقی میر – متاع دل اس عشق نے سب جلا دی
متاع دل اس عشق نے سب جلا دی
کوئی دن ہی میں خاک سی یاں اڑا دی
دلیل اس بیاباں میں دل ہی ہے اپنا
نہ خضر و بلد یاں نہ رہبر نہ ہادی
مزاجوں میں یاس آ گئی ہے ہمارے
نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی شادی
نہ پوچھو کہ چھاتی کے جلنے نے آخر
عجب آگ دل میں جگر میں لگا دی
وفا لوگ آپس میں کرتے تھے آگے
یہ رسم کہن آہ تم نے اٹھا دی
جدا ان غزالان شہری سے ہو کر
پھرے ہم بگولے سے وادی بہ وادی
صبا اس طرف کو چلی جل گئے ہم
ہوا یہ سبب اپنے مرنے کا بادی
وہ نسخہ جو دیکھا بڑھا روگ دل کا
طبیب محبت نے کیسی دوا دی
ملے قصر جنت میں پیر مغاں کو
ہمیں زیر دیوار مے خانہ جا دی
نہ ہو عشق کا شور تا میرؔ ہرگز
چلے بس تو شہروں میں کریے منادی
Users Today : 60
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 526
Users Last 30 days : 1983
Users This Month : 1226
Users This Year : 13035
Total Users : 32754
Views Today : 88
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1109
Views Last 30 days : 4318
Views This Month : 2678
Views This Year : 26857
Total views : 75472
Who's Online : 1