میر تقی میر – متاع دل اس عشق نے سب جلا دی
متاع دل اس عشق نے سب جلا دی
کوئی دن ہی میں خاک سی یاں اڑا دی
دلیل اس بیاباں میں دل ہی ہے اپنا
نہ خضر و بلد یاں نہ رہبر نہ ہادی
مزاجوں میں یاس آ گئی ہے ہمارے
نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی شادی
نہ پوچھو کہ چھاتی کے جلنے نے آخر
عجب آگ دل میں جگر میں لگا دی
وفا لوگ آپس میں کرتے تھے آگے
یہ رسم کہن آہ تم نے اٹھا دی
جدا ان غزالان شہری سے ہو کر
پھرے ہم بگولے سے وادی بہ وادی
صبا اس طرف کو چلی جل گئے ہم
ہوا یہ سبب اپنے مرنے کا بادی
وہ نسخہ جو دیکھا بڑھا روگ دل کا
طبیب محبت نے کیسی دوا دی
ملے قصر جنت میں پیر مغاں کو
ہمیں زیر دیوار مے خانہ جا دی
نہ ہو عشق کا شور تا میرؔ ہرگز
چلے بس تو شہروں میں کریے منادی
Users Today : 15
Users Yesterday : 63
Users Last 7 days : 387
Users Last 30 days : 1420
Users This Month : 1014
Users This Year : 6220
Total Users : 25939
Views Today : 29
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 766
Views Last 30 days : 2547
Views This Month : 1907
Views This Year : 11896
Total views : 60511
Who's Online : 0