کچھ نہ پوچھو بہک رہے ہیں ہم – میر تقی میر
کچھ نہ پوچھو بہک رہے ہیں ہم
عشق کی مے سے چھلک رہے ہیں ہم
سوکھ غم سے ہوئے ہیں کانٹا سے
پر دلوں میں کھٹک رہے ہیں ہم
وقفۂ مرگ اب ضروری ہے
عمر طے کرتے تھک رہے ہیں ہم
کیونکے گرد علاقہ بیٹھ سکے
دامن دل جھٹک رہے ہیں ہم
کون پہنچے ہے بات کی تہ کو
ایک مدت سے بک رہے ہیں ہم
ان نے دینے کہا تھا بوسۂ لب
اس سخن پر اٹک رہے ہیں ہم
نقش پا سی رہی ہیں کھل آنکھیں
کس کی یوں راہ تک رہے ہیں ہم
دست دے گی کب اس کی پابوسی
دیر سے سر پٹک رہے ہیں ہم
بے ڈھب اس پاس ایک شب تھے گئے
سو کئی دن سرک رہے ہیں ہم
خام دستی نے ہائے داغ کیا
پوچھتے کیا ہو پک رہے ہیں ہم
میرؔ شاید لیں اس کی زلف سے کام
برسوں سے تو لٹک رہے ہیں ہم
Users Today : 39
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 505
Users Last 30 days : 1962
Users This Month : 1205
Users This Year : 13014
Total Users : 32733
Views Today : 51
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1072
Views Last 30 days : 4281
Views This Month : 2641
Views This Year : 26820
Total views : 75435
Who's Online : 0