غزل

عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں – میر تقی میر

عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں

اس سے آنکھیں لگیں تو خواب کہاں

بیکلی دل ہی کی تماشا ہے

برق میں ایسے اضطراب کہاں

خط کے آئے پہ کچھ کہے تو کہے

ابھی مکتوب کا جواب کہاں

ہستی اپنی ہے بیچ میں پردہ

ہم نہ ہوویں تو پھر حجاب کہاں

گریۂ شب سے سرخ ہیں آنکھیں

مجھ بلانوش کو شراب کہاں

عشق ہے عاشقوں کے جلنے کو

یہ جہنم میں ہے عذاب کہاں

داغ رہنا دل و جگر کا دیکھ

جلتے ہیں اس طرح کباب کہاں

محو ہیں اس کتابی چہرے کے

عاشقوں کو سر کتاب کہاں

عشق کا گھر ہے میرؔ سے آباد

ایسے پھر خانماں خراب کہاں

Our Visitor

0 2 9 4 4 4
Users Today : 32
Users Yesterday : 114
Users Last 7 days : 949
Users Last 30 days : 2421
Users This Month : 319
Users This Year : 9725
Total Users : 29444
Views Today : 40
Views Yesterday : 179
Views Last 7 days : 1616
Views Last 30 days : 5449
Views This Month : 518
Views This Year : 19781
Total views : 68396
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.30
Server Time : 04/09/2026 3:58 PM
error: Content is protected !!