فتنہ خانقاہ : جوش ملیح آبادی
اک دن جو بہر فاتحہ اک بنتِ مہر و ماہ
پہنچی نظر جھکائے ہوئے سوئے خانقاہ
زُہاد نے اٹھائی جھجکتے ہوئے نگاہ
ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضرب لا اِلہ
برپا ضمیر زہد میں کہرام ہو گیا
ایماں، دلوں میں لرزہ بہ اندام ہو گیا
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
اک دن جو بہر فاتحہ اک بنتِ مہر و ماہ
پہنچی نظر جھکائے ہوئے سوئے خانقاہ
زُہاد نے اٹھائی جھجکتے ہوئے نگاہ
ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضرب لا اِلہ
برپا ضمیر زہد میں کہرام ہو گیا
ایماں، دلوں میں لرزہ بہ اندام ہو گیا
خورشید وہ دیکھو ڈوب گیا ظلمت کا نشاں لہرانے لگا
مہتاب وہ ہلکے بادل سے چاندی کے ورق برسانے لگا
وہ سانولے پن پر میداں کے ہلکی سی صباحت دوڑ چلی
تھوڑا سا ابھر کر بادل سے وہ چاند جبیں جھلکانے لگا
لو پھر وہ گھٹائیں چاک ہوئیں ظلمت کا قدم تھرانے لگا
پیوست ہے جو دل میں، وہ تیر کھینچتا ہوںاک ریل کے سفر کی تصویر کھینچتا ہوںگاڑی میں گنگناتا مسرور جا
Read Moreیہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں یہ وہ
Read Moreجھٹپٹے کا نرم رو دریا شفق کا اضطراب کھیتیاں میدان خاموشی غروب آفتاب دشت کے کام و دہن کو دن
Read Moreنظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے زلفیں ہٹا رہی ہے سحر کا تارا ہے زلزلے میں افق کی لو تھرتھرا
Read Moreکیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں
Read More
Users Today : 39
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 505
Users Last 30 days : 1962
Users This Month : 1205
Users This Year : 13014
Total Users : 32733
Views Today : 51
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1072
Views Last 30 days : 4281
Views This Month : 2641
Views This Year : 26820
Total views : 75435
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.5
Server Time : 20/10/2026 8:38 AM