چلی ڈگر پر کبھی نہ چلنے والا میں– راجندر منچندا بانی
چلی ڈگر پر کبھی نہ چلنے والا میں
نئے انوکھے موڑ بدلنے والا میں
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
چلی ڈگر پر کبھی نہ چلنے والا میں
نئے انوکھے موڑ بدلنے والا میں
زماں مکاں تھے مرے سامنے بکھرتے ہوئے
میں ڈھیر ہو گیا طول سفر سے ڈرتے ہوئے
میں دیر سے دھوپ میں کھڑا ہوں
سایہ سایہ پکارتا ہوں
تری صدا کا ہے صدیوں سے انتظار مجھے
مرے لہو کے سمندر ذرا پکار مجھے
میں اپنے گھر کو بلندی پہ چڑھ کے کیا دیکھوں
عروج فن مری دہلیز پر اتار مجھے
گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ
دلی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگ
یہ شب یہ خیال و خواب تیرے
کیا پھول کھلے ہیں منہ اندھیرے
ہوا خیمہ زن کاروان بہار
ارم بن گیا دامن کوہسار
گل و نرگس و سوسن و نسترن
شہید ازل لالہ خونیں کفن
سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثات
سلسلۂ روز و شب اصل حیات و ممات
سلسلۂ روز و شب تار حریر دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات
سلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاں
جس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکنات
جبرئیل
ہمدم دیرینہ کیسا ہے جہان رنگ و بو
ابلیس
سوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزو
جبرئیل
ہر گھڑی افلاک پر رہتی ہے تیری گفتگو
کیا نہیں ممکن کہ تیرا چاک دامن ہو رفو
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماں
چشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!
حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجود
دل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!
سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!
کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!
Users Today : 85
Users Yesterday : 101
Users Last 7 days : 568
Users Last 30 days : 2061
Users This Month : 1352
Users This Year : 13161
Total Users : 32880
Views Today : 152
Views Yesterday : 176
Views Last 7 days : 1122
Views Last 30 days : 4313
Views This Month : 2918
Views This Year : 27097
Total views : 75712
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.5
Server Time : 21/10/2026 10:51 PM