غزل

زماں مکاں تھے مرے سامنے بکھرتے ہوئے- راجندر منچندا بانی

زماں مکاں تھے مرے سامنے بکھرتے ہوئے

میں ڈھیر ہو گیا طول سفر سے ڈرتے ہوئے

دکھا کے لمحۂ خالی کا عکس لاتفسیر

یہ مجھ میں کون ہے مجھ سے فرار کرتے ہوئے

بس ایک زخم تھا دل میں جگہ بناتا ہوا

ہزار غم تھے مگر بھولتے بسرتے ہوئے

وہ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کا حسن آخر تھا

کہ چپ سی لگ گئی دونوں کو بات کرتے ہوئے

عجب نظارا تھا بستی کا اس کنارے پر

سبھی بچھڑ گئے دریا سے پار اترتے ہوئے

میں ایک حادثہ بن کر کھڑا تھا رستے میں

عجب زمانے مرے سر سے تھے گزرتے ہوئے

وہی ہوا کہ تکلف کا حسن بیچ میں تھا

بدن تھے قرب تہی لمس سے بکھرتے ہوئے

Our Visitor

0 2 5 9 6 0
Users Today : 36
Users Yesterday : 63
Users Last 7 days : 408
Users Last 30 days : 1441
Users This Month : 1035
Users This Year : 6241
Total Users : 25960
Views Today : 59
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 796
Views Last 30 days : 2577
Views This Month : 1937
Views This Year : 11926
Total views : 60541
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.7
Server Time : 21/07/2026 5:12 PM
error: Content is protected !!