غزل – ناصر کاظمی
گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ
دلی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگ
سارا سارا دن گلیوں میں پھرتے ہیں بے کار
راتوں اٹھ اٹھ کر روتے ہیں اس نگری کے لوگ
سہمے سہمے سے بیٹھے ہیں راگی اور فن کار
بھور بھئے اب ان گلیوں میں کون سنائے جوگ
جب تک ہم مصروف رہے یہ دنیا تھی سنسان
دن ڈھلتے ہی دھیان میں آئے کیسے کیسے لوگ
ناصرؔ ہم کو رات ملا تھا تنہا اور اداس
وہی پرانی باتیں اس کی وہی پرانا روگ
Users Today : 60
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 526
Users Last 30 days : 1983
Users This Month : 1226
Users This Year : 13035
Total Users : 32754
Views Today : 88
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1109
Views Last 30 days : 4318
Views This Month : 2678
Views This Year : 26857
Total views : 75472
Who's Online : 0