غزل

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے- پروین شاکر

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے

موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے

بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں

کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس

سورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئے

بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب

دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے

سورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میں

زلف شب فراق کے پیچاک ہو گئے

جب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئی

لہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے

Our Visitor

0 3 2 7 8 8
Users Today : 94
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 560
Users Last 30 days : 2017
Users This Month : 1260
Users This Year : 13069
Total Users : 32788
Views Today : 166
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1187
Views Last 30 days : 4396
Views This Month : 2756
Views This Year : 26935
Total views : 75550
Who's Online : 2
Your IP Address : 216.73.217.5
Server Time : 20/10/2026 9:35 PM
error: Content is protected !!