غزل

سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا– شہر یار

سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا

کہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا

برہنہ جسم بگولوں کا قتل ہوتا رہا

خیال بھی نہیں آیا کسی کو رونے کا

صلہ کوئی نہیں پرچھائیوں کی پوجا کا

مآل کچھ نہیں خوابوں کی فصل بونے کا

بچھڑ کے تجھ سے مجھے یہ گمان ہوتا ہے

کہ میری آنکھیں ہیں پتھر کی جسم سونے کا

ہجوم دیکھتا ہوں جب تو کانپ اٹھتا ہوں

اگرچہ خوف نہیں اب کسی کے کھونے کا

گئے تھے لوگ تو دیوار قہقہہ کی طرف

مگر یہ شور مسلسل ہے کیسا رونے کا

مرے وجود پہ نفرت کی گرد جمتی رہی

ملا نہ وقت اسے آنسوؤں سے دھونے کا

Our Visitor

0 2 2 4 2 9
Users Today : 34
Users Yesterday : 30
Users Last 7 days : 227
Users Last 30 days : 842
Users This Month : 531
Users This Year : 2710
Total Users : 22429
Views Today : 87
Views Yesterday : 185
Views Last 7 days : 566
Views Last 30 days : 1686
Views This Month : 1103
Views This Year : 4810
Total views : 53425
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.110
Server Time : 18/04/2026 12:00 PM
error: Content is protected !!