غزل

سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا– شہر یار

سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا

کہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا

برہنہ جسم بگولوں کا قتل ہوتا رہا

خیال بھی نہیں آیا کسی کو رونے کا

صلہ کوئی نہیں پرچھائیوں کی پوجا کا

مآل کچھ نہیں خوابوں کی فصل بونے کا

بچھڑ کے تجھ سے مجھے یہ گمان ہوتا ہے

کہ میری آنکھیں ہیں پتھر کی جسم سونے کا

ہجوم دیکھتا ہوں جب تو کانپ اٹھتا ہوں

اگرچہ خوف نہیں اب کسی کے کھونے کا

گئے تھے لوگ تو دیوار قہقہہ کی طرف

مگر یہ شور مسلسل ہے کیسا رونے کا

مرے وجود پہ نفرت کی گرد جمتی رہی

ملا نہ وقت اسے آنسوؤں سے دھونے کا

Our Visitor

0 3 2 7 9 9
Users Today : 4
Users Yesterday : 101
Users Last 7 days : 571
Users Last 30 days : 2028
Users This Month : 1271
Users This Year : 13080
Total Users : 32799
Views Today : 4
Views Yesterday : 176
Views Last 7 days : 1201
Views Last 30 days : 4410
Views This Month : 2770
Views This Year : 26949
Total views : 75564
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.5
Server Time : 21/10/2026 12:59 AM
error: Content is protected !!