غزل – خلیل الرحمن اعظمی
تری صدا کا ہے صدیوں سے انتظار مجھے
مرے لہو کے سمندر ذرا پکار مجھے
میں اپنے گھر کو بلندی پہ چڑھ کے کیا دیکھوں
عروج فن مری دہلیز پر اتار مجھے
ابلتے دیکھی ہے سورج سے میں نے تاریکی
نہ راس آئے گی یہ صبح زر نگار مجھے
کہے گا دل تو میں پتھر کے پاؤں چوموں گا
زمانہ لاکھ کرے آ کے سنگسار مجھے
وہ فاقہ مست ہوں جس راہ سے گزرتا ہوں
سلام کرتا ہے آشوب روزگار مجھے
Users Today : 72
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 538
Users Last 30 days : 1995
Users This Month : 1238
Users This Year : 13047
Total Users : 32766
Views Today : 112
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1133
Views Last 30 days : 4342
Views This Month : 2702
Views This Year : 26881
Total views : 75496
Who's Online : 0