الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا – میر تقی میر
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کو بالے تک
اس کو فلک چشم مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے
جان و دل سیں میں گرفتار ہوں کن کا ان کا
بندۂ بے زر و دینار ہوں کن کا ان کا
صبر کے باغ کے منڈوے سے جھڑا ہوں جیوں پھول
اب تو لاچار گلے ہار ہوں کن کا ان کا
خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی
شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباس برہنگی
نہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی
میں نے جب لکھنا سیکھا تھا
پہلے تیرا نام لکھا تھا
یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے
جیسے بلقیس سلیماں کے محل میں آئے
کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے
سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا
کہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا
پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات
یوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں رات
Users Today : 2
Users Yesterday : 53
Users Last 7 days : 358
Users Last 30 days : 1273
Users This Month : 55
Users This Year : 5261
Total Users : 24980
Views Today : 2
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 600
Views Last 30 days : 2707
Views This Month : 117
Views This Year : 10106
Total views : 58721
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.122
Server Time : 02/07/2026 4:17 AM