مصحفی غلام ہمدانی – غم دل کا بیان چھوڑ گئے
غم دل کا بیان چھوڑ گئے
ہم یہ اپنا نشان چھوڑ گئے
تری دہشت سے باغ میں صیاد
مرغ سب آشیان چھوڑ گئے
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
غم دل کا بیان چھوڑ گئے
ہم یہ اپنا نشان چھوڑ گئے
تری دہشت سے باغ میں صیاد
مرغ سب آشیان چھوڑ گئے
کون اس باغ سے اے باد صبا جاتا ہے
رنگ رخسار سے پھولوں کے اڑا جاتا ہے
شعلہ شمع میں گرمی یہ کہاں سے آئی
اس کی گرمی سے تو فانوس جلا جاتا ہے
کم فرصتیٔ گل جو کہیں کوئی نہ مانے
ایسے گئے ایام بہاراں کہ نہ جانے
تھے شہر میں اے رشک پری جتنے سیانے
سب ہو گئے ہیں شور ترا سن کے دوانے
میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوں
اک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں
لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر
میں ورنہ وہی خلوتیٔ راز نہاں ہوں
سحر گہہ عید میں دور سبو تھا
پر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا
غلط تھا آپ سے غافل گزرنا
نہ سمجھے ہم کہ اس قالب میں تو تھا
رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے
دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے
پاس ناموس عشق تھا ورنہ
کتنے آنسو پلک تک آئے تھے
متاع دل اس عشق نے سب جلا دی
کوئی دن ہی میں خاک سی یاں اڑا دی
دلیل اس بیاباں میں دل ہی ہے اپنا
نہ خضر و بلد یاں نہ رہبر نہ ہادی
کچھ نہ پوچھو بہک رہے ہیں ہم
عشق کی مے سے چھک رہے ہیں ہم
سوکھ غم سے ہوئے ہیں کانٹا سے
پر دلوں میں کھٹک رہے ہیں ہم
عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں
اس سے آنکھیں لگیں تو خواب کہاں
بیکلی دل ہی کی تماشا ہے
برق میں ایسے اضطراب کہاں
اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لوہو آتا ہے جب نہیں آتا
ہوش جاتا نہیں رہا لیکن
جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا
Read More
Users Today : 2
Users Yesterday : 53
Users Last 7 days : 358
Users Last 30 days : 1273
Users This Month : 55
Users This Year : 5261
Total Users : 24980
Views Today : 2
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 600
Views Last 30 days : 2707
Views This Month : 117
Views This Year : 10106
Total views : 58721
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.122
Server Time : 02/07/2026 2:57 AM