غزل

مصحفی غلام ہمدانی – کون اس باغ سے اے باد صبا جاتا ہے

کون اس باغ سے اے باد صبا جاتا ہے

رنگ رخسار سے پھولوں کے اڑا جاتا ہے

شعلہ شمع میں گرمی یہ کہاں سے آئی

اس کی گرمی سے تو فانوس جلا جاتا ہے

دل کے دھڑکوں کا یہ عالم ہے کہ بے منت دست

پرزے ہو ہو کے گریبان اڑا جاتا ہے

ربط پہلے جو ترے یاد کبھی کرتا ہوں

بیٹھے بیٹھے مجھے افسوس سا آ جاتا ہے

پوچھتا کوئی نہیں کب سے ترے کوچے میں

دل کسی کا ہے کہ پامال ہوا جاتا ہے

گئے وے دن کہ تمنا ہمیں اک اشک کی تھی

اب تو ان آنکھوں سے دریا سا بہا جاتا ہے

شام کے وقت تو کوٹھے پہ جو آتا ہے کبھی

دیکھ کر تجھ کو یہ خورشید چھپا جاتا ہے

بے ادب کے تئیں مطلق نہیں صحبت کا شعور

شانہ کتنا تری زلفوں سے لگا جاتا ہے

یوں قدم رکھ نہ زمیں پر تری رفتار سے آہ

دل کسی کا ہے کہ ماٹی میں ملا جاتا ہے

مصحفیؔ عشق کی وادی میں گزر ہے کس کا

بھولا بھٹکا کوئی ایدھر کو بھی آ جاتا ہے

Our Visitor

0 2 5 9 3 9
Users Today : 15
Users Yesterday : 63
Users Last 7 days : 387
Users Last 30 days : 1420
Users This Month : 1014
Users This Year : 6220
Total Users : 25939
Views Today : 29
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 766
Views Last 30 days : 2547
Views This Month : 1907
Views This Year : 11896
Total views : 60511
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.7
Server Time : 21/07/2026 9:55 AM
error: Content is protected !!