میر تقی میر – سحر گہہ عید میں دور سبو تھا
سحر گہہ عید میں دور سبو تھا
پر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا
غلط تھا آپ سے غافل گزرنا
نہ سمجھے ہم کہ اس قالب میں تو تھا
چمن کی وضع نے ہم کو کیا داغ
کہ ہر غنچہ دل پر آرزو تھا
گل و آئینہ کیا خورشید و مہ کیا
جدھر دیکھا تدھر تیرا ہی رو تھا
کرو گے یاد باتیں تو کہو گے
کہ کوئی رفتۂ بسیار گو تھا
جہاں پر ہے فسانے سے ہمارے
دماغ عشق ہم کو بھی کبھو تھا
مگر دیوانہ تھا گل بھی کسو کا
کہ پیراہن میں سو جاگا رفو تھا
کہیں کیا بال تیرے کھل گئے تھے
کہ جھونکا باؤ کا کچھ مشکبو تھا
نہ دیکھا میرؔ آوارہ کو لیکن
غبار اک ناتواں سا کو بہ کو تھا
Users Today : 15
Users Yesterday : 63
Users Last 7 days : 387
Users Last 30 days : 1420
Users This Month : 1014
Users This Year : 6220
Total Users : 25939
Views Today : 29
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 766
Views Last 30 days : 2547
Views This Month : 1907
Views This Year : 11896
Total views : 60511
Who's Online : 0