چلی ڈگر پر کبھی نہ چلنے والا میں– راجندر منچندا بانی
چلی ڈگر پر کبھی نہ چلنے والا میں
نئے انوکھے موڑ بدلنے والا میں
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
چلی ڈگر پر کبھی نہ چلنے والا میں
نئے انوکھے موڑ بدلنے والا میں
زماں مکاں تھے مرے سامنے بکھرتے ہوئے
میں ڈھیر ہو گیا طول سفر سے ڈرتے ہوئے
میں دیر سے دھوپ میں کھڑا ہوں
سایہ سایہ پکارتا ہوں
تری صدا کا ہے صدیوں سے انتظار مجھے
مرے لہو کے سمندر ذرا پکار مجھے
میں اپنے گھر کو بلندی پہ چڑھ کے کیا دیکھوں
عروج فن مری دہلیز پر اتار مجھے
گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ
دلی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگ
یہ شب یہ خیال و خواب تیرے
کیا پھول کھلے ہیں منہ اندھیرے
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
Read Moreصبر وحشت اثر نہ ہو جائے
Read Moreآئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
حسرت نے لا رکھا تری بزم خیال میں
گلدستۂ نگاہ سویدا کہیں جسے
کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر
آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
سرگرم نالہ ہائے شرربار دیکھ کر
Users Today : 3
Users Yesterday : 53
Users Last 7 days : 331
Users Last 30 days : 1253
Users This Month : 56
Users This Year : 5262
Total Users : 24981
Views Today : 3
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 556
Views Last 30 days : 2685
Views This Month : 118
Views This Year : 10107
Total views : 58722
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.122
Server Time : 02/07/2026 5:36 AM