البیلی صبح – جوش ملیح آبادی
نظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے زلفیں ہٹا رہی ہے سحر کا تارا ہے زلزلے میں افق کی لو تھرتھرا
Read Moreیونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
نظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے زلفیں ہٹا رہی ہے سحر کا تارا ہے زلزلے میں افق کی لو تھرتھرا
Read Moreاے انفس و آفاق میں پیدا تری آیات حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایندہ تری ذات میں کیسے
Read Moreایک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد اس خطا پر سن رہا ہوں طعنہ ہائے دل خراش
Read Moreتتلیاں ناچتی ہیں پھول سے پھول پہ یوں جاتی ہیں جیسے اک بات ہے جو کان میں کہنی ہے خاموشی
Read Moreدیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پر کبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پر کبھی جھیلوں
Read Moreسلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں سبا ویراں، سبا آسیب کا مسکن سبا آلام کا انبار بے پایاں! گیاہ
Read Moreہمراز یہ فسانۂ آہ و فغاں نہ پوچھ دو دن کی زندگی کا غم این و آں نہ پوچھ کیا
Read Moreمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے
سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے
کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں
Read More
Users Today : 1
Users Yesterday : 81
Users Last 7 days : 410
Users Last 30 days : 1332
Users This Month : 135
Users This Year : 5341
Total Users : 25060
Views Today : 2
Views Yesterday : 145
Views Last 7 days : 700
Views Last 30 days : 2829
Views This Month : 262
Views This Year : 10251
Total views : 58866
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.17
Server Time : 03/07/2026 1:04 AM