مس سیمیں بدن – اکبر الہ آبادی
ایک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد
اس خطا پر سن رہا ہوں طعنہ ہائے دل خراش
کوئی کہتا ہے کہ بس اس نے بگاڑی نسل قوم
کوئی کہتا ہے کہ یہ ہے بد خصال و بد معاش
دل میں کچھ انصاف کرتا ہی نہیں کوئی بزرگ
ہو کے اب مجبور خود اس راز کو کرتا ہوں فاش
ہوتی تھی تاکید لندن جاؤ انگریزی پڑھو
قوم انگلش سے ملو سیکھو وہی وضع تراش
جگمگاتے ہوٹلوں کا جا کے نظارہ کرو
سوپ و کری کے مزے لو چھوڑ کر یخنی و آش
لیڈیوں سے مل کے دیکھو ان کے انداز و طریق
ہال میں ناچو کلب میں جاکے کھیلو ان سے تاش
بادۂ تہذیب یورپ کے چڑھاؤ خم کے خم
ایشیا کے شیشۂ تقویٰ کو کر دو پاش پاش
جب عمل اس پر کیا پریوں کا سایہ ہو گیا
جس سے تھا دل کی حرارت کو سراسر انتعاش
سامنے تھیں لیڈیاں زہرہ وش و جادو نظر
یاں جوانی کی امنگ اور ان کو عاشق کی تلاش
اس کی چتون سحر آگیں اس کی باتیں دل ربا
چال اس کی فتنہ خیز اس کی نگاہیں برق پاش
وہ فروغ آتش رخ جس کے آگے آفتاب
اس طرح جیسے کہ پیش شمع پروانے کی لاش
جب یہ صورت تھی تو ممکن تھا کہ اک برق بلا
دست سیمیں کو بڑھاتی اور میں کہتا دور باش؟
دونوں جانب تھا رگوں میں جوش خون فتنہ زا
دل ہی تھا آخر نہیں تھی برف کی یہ کوئی قاش
بار بار آتا ہے اکبرؔ میرے دل میں یہ خیال
حضرت سید سے جاکر عرض کرتا کوئی کاش
‘درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ ای
‘باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش’
Users Today : 39
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 505
Users Last 30 days : 1962
Users This Month : 1205
Users This Year : 13014
Total Users : 32733
Views Today : 51
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1072
Views Last 30 days : 4281
Views This Month : 2641
Views This Year : 26820
Total views : 75435
Who's Online : 0