یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے- ناصر کاظمی
یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے
جیسے بلقیس سلیماں کے محل میں آئے
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے
جیسے بلقیس سلیماں کے محل میں آئے
کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے
سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا
کہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا
پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات
یوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں رات
چلی ڈگر پر کبھی نہ چلنے والا میں
نئے انوکھے موڑ بدلنے والا میں
زماں مکاں تھے مرے سامنے بکھرتے ہوئے
میں ڈھیر ہو گیا طول سفر سے ڈرتے ہوئے
میں دیر سے دھوپ میں کھڑا ہوں
سایہ سایہ پکارتا ہوں
تری صدا کا ہے صدیوں سے انتظار مجھے
مرے لہو کے سمندر ذرا پکار مجھے
میں اپنے گھر کو بلندی پہ چڑھ کے کیا دیکھوں
عروج فن مری دہلیز پر اتار مجھے
گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ
دلی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگ
Users Today : 67
Users Yesterday : 53
Users Last 7 days : 395
Users Last 30 days : 1317
Users This Month : 120
Users This Year : 5326
Total Users : 25045
Views Today : 117
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 670
Views Last 30 days : 2799
Views This Month : 232
Views This Year : 10221
Total views : 58836
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.122
Server Time : 02/07/2026 6:41 PM