خواجہ میر درد – ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریں
مٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمائیاں
ہم آئنے کے سامنے جب آ کے ہو کریں
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہم
پر یہ کہاں مجال جو کچھ گفتگو کریں
ہر چند آئنہ ہوں پر اتنا ہوں ناقبول
منہ پھیر لے وہ جس کے مجھے رو بہ رو کریں
نے گل کو ہے ثبات نہ ہم کو ہے اعتبار
کس بات پر چمن ہوس رنگ و بو کریں
ہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدان شہر
اے دردؔ آ کے بیعت دست سبو کریں
Users Today : 32
Users Yesterday : 114
Users Last 7 days : 949
Users Last 30 days : 2421
Users This Month : 319
Users This Year : 9725
Total Users : 29444
Views Today : 40
Views Yesterday : 179
Views Last 7 days : 1616
Views Last 30 days : 5449
Views This Month : 518
Views This Year : 19781
Total views : 68396
Who's Online : 0