مرثیہ: ایک تعارف | مجاور حسین رضوی
رثاء عربی لفظ ہے۔ جس کے معنی میت پر رونے کے ہیں۔ اس سے مرثیہ لفظ بنا ہے۔ چنانچہ مرثیہ کا اطلاق ایسی ہی نظموں پر ہوتا تھا جن میں رثائی وصف ہولیکن اب بالخصوص اردو میں مرثیہ اس نظم کو کہتے ہیں جس کا موضوع واقعات کربلا ہوں ۔ مرثیہ میں اگر کسی شخص خاص یا اشخاص کا تذکرہ ہو اور وہ واقعات کر بالا یا محمد یا آل محمد سے متعلق نہ ہو تو اسے تعزیتی نظم [شخصی مرثیہ]کہتے ہیں۔
مرثیہ اردو کی ایک مقبول صنف سخن ہے جس کا شمار شاعری کی مقبول و معروف موضوعی اصناف میں ہوتا ہے ۔ زمانہ قدیم میں دو بیتی مربع مثلث اور مخمس کے فارم میں بھی مرثیے رائج رہے ہیں۔ آج بھی غزل کے فارم کو شخصی مرثیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ مرثیہ کو مسدس کی معروف شکل میں سب سے پہلے سودا نے استعمال کیا۔ انیس اور دبیر کے مرثیوں کی بے پناہ مقبولیت کے سبب مرثیوں کے ساتھ مسدس کی بیت مخصوص ہوگئی ہے۔
مرثیہ کی تہذیبی اور تمدنی اہمیت کے علاوہ اس کی ادبی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مرثیہ کی مقبولیت کا راز جہاں مذہب سے وابستگی ہے وہیں تہذیبی اخلاقی اور ادبی محاسن میں بھی مضمر ہے۔ اس کی مقبولیت کے کئی اسباب ہیں جن میں سے زیادہ موثر اور مقبول عام سبب مرثیہ کی جذباتی اور مذہبی نوعیت ہے ۔ مرثیہ گویوں خصوصاً انیس و دبیر نے اپنی بے پناہ تخلیقی قوت سے مرثیہ کو اعلیٰ و عظیم شاعری کی صف میں لاکھڑا کیا ہے ۔ جس کی مثال عالمی ادب میں بھی نہیں مل سکتی ۔ ان ہی مرثیہ نگاروں نے انسانی رشتوں جذبات و احساسات کی آفاقیت، جمالی اقدار اور شعر کے جملہ محاسن کو پیش نظر رکھا ، جس کی وجہ سے ادبی ذوق کی بھی تسکین ہوتی ہے ۔
مسدس مرثیے کی انتہائی ترقی یافتہ شکل ہے۔ ابتدا میں مرثیہ دو بیتی، مثلث، مربع اور مخمس میں بھی لکھا گیا ۔ سودا نے مرثیہ کو مسدس کی شکل میں روشناس کروایا۔ سودا سے قبل بھی مسدس کے فارم میں مرثیے لکھے گئے ۔ میر تقی میر سکندر پنجابی، احمد اور حیدر دکھنی نے کچھ مریثے مسدس ہی میں لکھے تھے۔ سودا کے بعد بھی مرثیے کے لیے دیگر ہیئتیں استعمال کی گئیں ۔ مثلاً غالب نے عارف کے مرثیے میں غزل کا فارم اختیار کیا۔ حالی نے غالب کا مرثیہ لکھا تو ترکیب بند میں اور اقبال نے والدہ کا مرثیہ مثنوی کی شکل میں لکھا۔ محمد علی جوہر سیماب اکبر آبادی اور حفیظ جالندھری نے مرثیے کے لیے غزل قطعات اور مخمس کی راہیں اختیار کیں ۔ ان مثالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرثیے کے لیے کوئی ہیئت مخصوص نہیں، لیکن انیس اور دبیر کے مرثیوں کی مقبولیت کی وجہہ سے مسدس کے فارم کو مرثیہ سے مخصوص سمجھا جانے لگا ہے۔
مرثیے کے اجزائے ترکیبی
مرثیہ چونکہ واقعات کربلا پر مبنی ہے اس لیے اس میں واقعات کربلا کی تفصیل بیان ہوتی ہے ۔ مثلاً جاں نثاران حسین اور خانوادہ حسین کی سیرت و شخصیت، کردار جذبات، احساسات اعزہ سے رخصتی میدان کارزار میں ان بے سروساماں فدائیاں حسین کی آمد آلات حرب جنگ کا منظر، گھوڑوں کی تیزی، تلواروں و نیزوں کی چمک دمک ،فرات کے کناروں پر یزیدیوں کے پہرے پیاسوں کی شہادت اور پھر ان کی زخم خوردہ لاشوں پر بین و بکا وغیرہ ۔ ان واقعات و بیانات میں ایک منطقی ربط و تسلسل قائم رکھنے کی خاطر مرثیے کے لیے آٹھ اجزائے ترکیبی وضع کیے گئے :
(1) چیره (2) سراپا (3) رخصت (4) آمد (5)رجز (6) رزم (7) شہادت اور (8) بین
مرثیے میں اجزائے ترکیبی کا یہ تعین استادِ دبیر میر ضمیر نے کیا ۔ لیکن اس کی پابندی پوری طرح نہیں ہوسکی۔ خود ضمیر اور بعد میں انیس و دبیر کے یہاں بھی اس کی پابندی نہیں ہو سکی ۔ مثلاً مرزا سلامت علی دبیر کا ایک مشہور مرثیہ ہے "کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے ۔‘‘۔یہ مرثیہ آمد سے شروع ہوتا ہے۔
چہرہ
مرثیے میں چہرہ ، قصیدہ کی تشبیب کی طرح ہوتا ہے جس میں شاعر حمد نعت منقبت حضرت علی و امام حسین کے علاوہ مکہ سے سفر سفر کے پُر خطر حالات گرمی کا موسم، صبح کا موسم بیان کرتا یا پھر اپنی شاعرانہ عظمت، قادر الکلامی ثنا خوان حسین ہونے پر فخر کا اظہار کرتا ہے۔ کبھی پیاس کی کیفیت بھی بیان کرتا ہے ۔ عموماً موسم کے بیان میں گرمی کی شدت، صبح کا منظر’ چڑیوں کی چہچہاہٹ، شبنم کا پھولوں پر گہر آبدار بن کر چکنا وغیرہ قسم کے مناظر تشبیبہ واستعارے اور صنائع بدائع کی زرتابی کے ساتھ قلم بند کرتے ہیں ۔ انیس کے ایک مشہور مرثیے میں صبح کا منظر اس طرح بیان کیا گیا ہے :
وه دشت وہ نسیم کے جھونکے وہ سبزہ زار
پھولوں پر جا بہ جا وہ گہر ہائے آبدار
اٹھنا وہ جھوم جھوم کے شاخوں کا بار بار
بالائے نخل ایک جو بلبل تو گل ہزار
خواہاں تھے زیب گلشن زہرا جو آپ کے
شبنم نے پھر دیے تھے کٹورے گلاب کے
سراپا
عموما یہ ایک طرح سے انصار حسینی کا تعارف ہوتا ہے۔ کبھی کبھی لشکر یزید کے ساتھیوں کا بھی سرا پا لکھا گیا ہے ۔ سراپا لکھنے میں شاعر اپنا زور قلم صرف کر دیتا ہے جس سے شاعر کی اپنی محبت و عقیدت کا بھر پور اظہار ہوتا ہے تو دوسری طرف باطل یعنی یزیدیوں سے تنفر کا احساس ہوتا ہے۔ سراپا بیان کرتے وقت تشبیہات و استعارات سے مدد لی جاتی ہے ۔ صنائع بدائع کے خزانے لٹا دیے جاتے ہیں ۔ دبیر نے ایک مرثیے میں بالکلیہ ہی علاحدہ انداز میں تصویر کشی کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تشبیہ کہاں سے لاؤں جو حسن حسینی کی تابش کو سہار سکے۔ کہتے ہیں کہ رُخ کو آئینہ کہوں تو سمجھو کہ میں نے کچھ بھی ثنا نہیں کی، آنکھ کو نرگس کہوں تو ان آنکھوں کے لیے کسر شان ہے کیونکہ نرگس میں نہ پلکیں ہیں نہ پیتلی نہ بصارت –
آئینہ کہا رخ کو تو کچھ بھی نہ ثنا کی
صنعت وہ سکندر کی یہ صنعت ہے خدا کی
گر آنکھ کو نرگس کہوں ہے عین حقارت
نرگس میں نہ پلکیں ہیں، نہ تتلی نہ بصارت
رخصت
میدان جنگ میں جانے کے لیے خیمہ حسین سے ایک بعد دیگرے جانباز سر پر کفن باندھ کر نکلتے ہیں تو خیمے میں مکیں، متعلقین اور مستورات انہیں بہ دل بریاں’ بہ چشم گریاں’ بہ لب لرزاں مگر بھر پور قوت ایمانی کے ساتھ رخصت کرتے ہیں۔ اہلِ خیمہ کو یقین ہے کہ یہ اب زندہ واپس نہیں آئیں گے ۔ اس موقع پر وداع کرنے والے عزیزوں اور پیاروں کے جذبات محبت اور قوت ایمانی کے جو مرقعے مرثیوں میں کھینچے گئے ہیں وہ پڑھنے کے لائق ہیں ۔
آمد
میدان جنگ میں آمد کا منظر زیادہ طویل نہیں ہوتا ۔ یہ بند رخصت اور رجز سے جڑا ہوا ہوتا ہے ۔ کبھی کبھی آمد کے موقع پر گھوڑے کی تعریف بھی کی جاتی ہے ۔
رجز
عربوں میں رواج تھا کہ دو حریف جب میدان جنگ میں آمنے سامنے ہوتے تو جنگ شروع ہونے سے قبل ایک دوسرے کو للکارتے اپنی اور اپنے آبا واجداد کی شجاعت، طاقت اور خاندانی عظمت دین داری وقوت ایمانی وغیرہ کا ذکر کرتے تھے، جس میں جوش ، غضب اور ولولہ ہوتا تھا ۔ اس اظہار کو جو فصاحت و بلاغت کا مرقع ہوتا ہے اصطلاحاً "رجز” کہتے ہیں ۔ سبھی مرثیہ نگاروں نے اس حصے میں بلاغت و فصاحت کے دریا بہا دیے ہیں ۔ انیس کے ایک مرثیے سے رجز کا ایک بند ملاحظہ ہو ۔ یہ رجز حضرت امام حسین کی زبانی ہے۔
دنیا ہو اک طرف تو لڑائی کو سر کروں
آئے غضب خدا کا اُدھر رخ جدھر کروں
بے جبرئیل کار قضا و قدر کروں
انگلی کے اک اشارے میں شق القمر کروں
طاقت اگر دکھاؤں رسالت مآب کی
رکھ دوں زمیں پہ چیر کے ڈھال آفتاب کی
رزم
یہ مرثیے کا نہایت ہی اہم حصہ ہوتا ہے جس میں شاعر میدان جنگ کی تیاری، فوجوں کے ساز و سامان، گھوڑوں کی تعریف ان کا غیض و غضب براق کی سی تیز رفتاری تلواروں کی چمک نیزوں کی کڑک سپاہیوں کی پھرتی ، بے جگری سے لڑائی جاں توڑ مقابلہ وغیرہ ان تمام حالتوں اور کیفیتوں کو بڑی خوبی سے بیان کرتا ہے جس سے اُس کی بلندی خیال اور قوت اظہار کا پتہ چلتا ہے۔ یہ اشعار دیکھیے جن میں میدان جنگ کی تصویر ہو بہو سامنے آجاتی ہے ۔
نیزے ہلے، وہ چل گئیں چوٹیں کہ الاماں
ہر طعن قہر کی تھی ، قیامت کی ہر تکاں
چنگاریاں اڑیں جو سناں سے لڑیں سناں
دو اژد ہے گتھے تھے نکالے ہوئے زباں
پھیلے شرر پرندوں کی جانیں ہوا ہوئیں
شمعوں کی تھیں لویں کہ ملیں اور جدا ہوئیں
شہادت
مرثیوں میں یہ حصہ بھی بڑا جاندار ہوتا ہے کیوں کہ اسی بیان پر بین کی شدت کا انحصار ہوتا ہے ۔ اس حصے میں فوج حسینی کے شہید کی میدان میں جرأت بہادری اور فن سپاہ گری کے کمالات بیان کرتے ہوئے زخموں سے چور چور نڈھال ہو کر گر جانے اور شہادت پانے کا ذکر آتا ہے۔ یہ مرثیہ کا بڑا دلدوز حصہ ہوتا ہے ۔ حضرت علی اکبر کی شہادت پر امام حسین کا حال زار اور کیفیت انیس اس طرح بیان کرتے ہیں :
حضرت یہ کہتے تھے کہ چلا خلق سے پسر
اتنی زبان ہلی کہ خدا حافظ اے پسر
ہچکی جو آئی تھام لیا ہاتھ سے جگر
انگڑائی لے کے رکھ دیا شہ کے قدم پر سر
آباد گھر لٹا شہ والا کے سامنے
بیٹے کا دم نکل گیا بابا کے سامنے
بین
مرثیے کا آخری جزو بین ہوتا ہے، جس میں مجاہد کی شہادت اور لاش کو خیمے میں لانے، خواتین کے رنج و الم اور بین و بکا کے جذبات کی عکاسی کی جاتی ہے ۔ یہی دراصل مرثیے کا مقصد و منشا ہوتا ہے ۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ اس حصے کو اتنا پر اثر اور جاندار بنادے کہ مجلس برپا ہو جائے ۔
مرثیے کی ادبی اہمیت
کہنے کو مرثیہ شہدائے کربلا اور واقعات کربلا کے حالات بیان کرنے لکھا جاتا ہے، لیکن مرثیہ گو کی شان تخلیق اور قوت اظہار سے مرثیہ ایک ادبی شہکار بن جاتا ہے۔ اس ادبی شہکار میں وحدت میں کثرت کے جلوے نظر آتے ہیں ۔ اس میں قصیدے کی شان و شکوہ جلالت و بلاغت ہوتی ہے۔ مثنوی کی سادگی و سلاست اور قصہ پین’ منظر نگاری جذبات نگاری واقعہ نگاری کردار نگاری سراپا نگاری، مکالمہ نگاری محاکات کے جاندار وسیع و ہمہ گیر مرقعے نظر آتے ہیں ۔ کردار نگاری میں عموماً انہیں نے اس بات کا لحاظ رکھا ہے کہ مکالمے کردار سے مطابقت رکھتے ہوں۔ صغری، سکینہ، عون ومحمد بچے ہیں تو وہ بچوں کی سی باتیں کرتے ہیں ۔ حضرت عباس غصہ ور جوان ہیں تو وہ جو شیلی گفتگو کرتے ہیں، عورتیں اپنے لب و لہجے روز مرہ و محاوروں کا استعمال کرتی ہیں ۔ مرثیوں سے تشبیہ و استعارے کے خزانے میں بیش بہا اضافہ ہوا ہے ۔ زندگی میں بعض مواقع آتے ہیں کہ آدمی کی قوت گویائی ساتھ نہیں دیتی ۔ مرثیہ گویوں نے ایسے نازک موقعوں پر الفاظ کے موتی لٹا دیے ہیں حسن تعلیل کی ایک خوبصورت مثال دیکھیے :
پیاسی جو تھی سپاہ خدا تین رات کی
ساحل سے سر چکتی تھیں موجیں فرات کی
صنعت غیر منقوط کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے :
حر حملہ ور ہوا کہ اسد حملہ ور ہوا
وہ حملہ ور ادھر ادھر اسلام ور ہوا
سرگرم معرکہ سرا اعدا اگر ہوا
وہ گل کھلا کہ لالہ کہسار سر ہوا
اہل حسد کو درس ادھر آہ آہ کا
حورو ملک کو درد اُدھر واہ واہ کا
تہذیبی اہمیت
آج بھی لکھنؤ دبستان کا ذکر آتا ہے تو وہاں کے عیش و عشرت طوائف بازی مرغ بازی کبوتر بازی کھیل کود میلے ٹھیلوں کا تذکرہ اس طرح آتا ہے جیسے لکھنو میں اور کچھ نہیں تھا سوائے بازار عیش کے ۔ اسی اعتبار سے لکھنو کے شعری سرمایہ کو خارجیت سے مملو ہونے کا بہتان تراشا گیا ہے۔ پاکیزگی دردمندی دل سوزی جیسے وہاں کی شاعری میں عنقا ہو ۔ لکھنو کا مذہبی ماحول مجلس عزا کی کثرت اور اس کے ساتھ عوام و خواص کی قدردانی بھی لکھنؤ کی تہذیب میں شامل ہے۔ مرثیہ نگاروں نے لکھنوی تہذیب کی بہترین عکاسی کی ہے ۔ وہاں آداب اخلاق رہن سہن، طور طریق خواتین کے لباس ان کی زبان ‘ زیورات لباس وغیرہ کی دل نشیں اور دلچسپ تصویریں پیش کر دی ہیں، مثال کے طور پر دبیر کے مرثیے سے ایک بند پیش ہے جس میں بی بی کی سواری کا منظر کھینچا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ کیسی پوشاک تھی، کیسے زیور تھے اور کیسی سواری تھی ۔
مری بی بی کی امیرانہ سواری ہوگی
ناقے پر عرش کے مانند عماری ہوگی
مسند نور پہ کسری کی وہ پیاری ہوگی
گہنا سب تحفہ تو پوشاک بھی بھاری ہوگی
فوجیں حوروں کی سواری میں پیادہ ہوں گی
بیرقیں نور کی ہاتھوں میں کشادہ ہوں گی
تصویر کی اسی لطافت نے عملی صورت بھی اختیار کر لی ۔ استقبال کسی عظیم ہستی کا کس طرح ہوتا ہے دیکھیے :
مسند آراستہ کی سبط پیمبر کے لیے
کشتیاں لا کے رکھیں عزت حیدر کے لیے
جھولا دالان میں ڈالا علی اصغر کے لیے
لا کے گلدستے برابر رکھے اکبر کے لیے
جام شربت کے بھرے ابن حسن کی خاطر
گہنا پھولوں کا منگا رکھا دلھن کی خاطر
اسی طرح اُس زمانے میں استعمال ہونے والے ساز، باجے، نوبت، نقارے ،طبل، بوق، کوس، دف، قرنا ، جلاجل وغیرہ کا ذکر آتا ہے جن میں سے آج کے نام بھی ہم نہیں جانتے مثلاً
قرنا میں نہ دم ہے نہ جلا جل میں صدا ہے
بوق و دہل و کوس کی بھی سانس ہوا ہے
ہر دل کے دھڑکنے کا مگر شور بپا ہے
باجا جو سلامی کا اسے کہیے بجا ہے
سکتے میں جو آواز ہے نقارہ و دف کی
نوبت ہے درود خلف شاہ نجف کی
ان اشعار کے مطالعے سے اوزار و ہتھیار آداب جنگ، فنون حرب سے ہم اچھی طرح متعارف ہوتے ہیں ۔ ان سب سے بڑھ کر مرثیوں میں رشتوں کی پاسداری کا احساس ہوتا ہے جس کی ہر زمانے میں بڑی اہمیت رہی ہے۔
مرثیوں میں رشتوں کی تہذیبی اہمیت
مرثیه انسانی رشتوں کی شاعری ہے ۔ جب انسانی رشتے وجود میں آتے ہیں تو وہ کسی سماج یا سوسائٹی کی بیئت اجتماعی کا پتہ دیتے ہیں اور کسی بھی سماج میں جتنے زیادہ رشتے ہوں گے ان رشتوں کے درمیان حفظ مراتب کا جتنا تصور رہے گا اتنا ہی وہ سماج مہذب اور ترقی یافتہ کہلائے گا۔ اس کی وضاحت کے لیے یہ پہلو قابل غور ہے کہ مغرب میں اتنے رشتے نہیں ہوتے جتنے رشتے مشرق میں ہوتے ہیں ۔ مغرب میں خاندان کا تصور محدود ہے ان کے پاس رشتوں کے لیے الفاظ بھی نہیں ہیں ۔ ایک لفظ انکل چچا ، ماموں پھوپھا خالو سب کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن اردو میں ایسا نہیں ہے ۔ یہاں ہر رشتہ کا بیان بھی ہے اس کی الگ معنویت بھی ہے اور رشتے کے اعتبار سے اس کا مرتبہ اور اس کی قدر کا تعین بھی ہے ۔
شعر و ادب میں صرف ایک رشتہ جو یقینا بہت اہم ہے بار بار آتا ہے یا مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور وہ رشتہ عورت اور مرد کے درمیان جذبات کی بنیادوں پر مادی خواہشات کا رشتہ ہوتا ہے ۔ یہ رشتہ عشق ہے، عاشقی ہے محبوب ہے محبوبہ ہے لیکن اس سے قطع نظر دوسرے رشتے مشکل سے نظر آتے ہیں ۔ عالمی ادب کے شاہ کاروں میں بھی فردوسی اپنے شاہنامہ میں شجاعت و بہادری کے قصے بیان کر کے صرف باپ بیٹے کے رشتے تک محدود رہ گیا۔ یہ فخر و امتیاز ہندوستان کی دو عظیم رزمیہ شاعری کے شاہکاروں رامائن اور مہا بھارت کو حاصل ہوا ۔ بھائی کی بھائی سے محبت (رام، لکشمن ، بھرت) (یدو شٹر ارجن ، بھیم) پھر ماں کی اطاعت باپ کی اطاعت سوتیلی ماں کے جذبات اور لڑکے کی فرمانبرداری کے واقعات ملتے ہیں ۔
ان دونوں عظیم کارناموں میں بھی ہر سن و سال کے افراد نہیں ملتے ۔ ان میں بچے نہیں ہیں کوئی چھوٹی لڑکی نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ بہت سارے رشتے جیسے پھوپھی، چچی ان کا کوئی تصور ان عظیم کارناموں میں بھی نہیں ملتا ۔ دوستی اور دوستی کی بنیاد پر رشتے کی استواری کا کوئی تصور تفصیل سے اور واقعات کی نزاکت کے ساتھ کم ملتا ہے ۔ یہ درست ہے کہ کچھ کردار ہیں لیکن یہ اپنے رشتوں کی تمام تر عظمتوں عقیدتوں اور وابستگیوں کو سامنے نہیں لاتے ۔اردو مرثیوں میں یہ تمام رشتے موجود ہیں ۔ ایک خاندان ہے جس میں بیمار بیٹی سے بچھڑنے کی کیفیت بھی ملتی ہے ۔ تقاضائے بشریت کے مطابق اس کا ساتھ چلنے پر اصرار بھی اس طرح نظر آتا ہے کہ
میں یہ نہیں کہتی کہ عماری میں بٹھا دو
بابا مجھے فضہ کی سواری میں بٹھا دو
رشتوں کی نزاکت اور سن و سال کے اعتبار سے ان کا رابطہ وابستگی، تعلق خاطر اور ان کی باہمی محبتیں ان کا انفرادی تشخص، انیس ہی کے مرثیہ ” جب کربلا میں داخلہ شاہ دیں ہوا ‘‘میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ رشتوں میں نازک مرحلہ اس وقت آتا ہے جب دو چاہنے والے برابر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان میں تصادم بھی نہ ہو اور مراتب کا لحاظ بھی ہو ۔ اس لیے کہ عام طور پر لوگ یہی کہتے اور سمجھتے ہیں کہ اس میں تصادم کیسے نہیں ہوگا ۔ لیکن مرثیوں کی دنیا کچھ اور کہتی ہے ۔ حضرت علی اکبر کو ان کی پھوپھی نے پالا ہے اور پالنے والی کا مرتبہ ماں کے برابر ہوتا ہے ۔ دوسری طرف ان کی والدہ گرامی کا حق ہے ! لیکن پھوپھی اور ماں دونوں کے رشتوں کا توازن برقرار رکھا گیا ہے ۔
ایک موقع اور ہے۔ ماں کم عمری میں بچوں کی نفسیات سے باخبر ہے ۔ بچے جوش ولولہ حوصلہ اور عزم رکھتے ہیں وہ خاندانی شرف اور امتیاز کی بنا پر یہ چاہتے ہیں کہ ان کی شجاعت و بہادری کے اعتراف میں انہیں اپنے نانا اور دادا کا منصب ملے ۔لیکن بہادر ماں انہیں دل شکتہ بھی نہیں ہونے دینا چاہتی اور ساتھ ہی ساتھ بچوں کو سمجھاتی بھی ہے ۔ بھائی کے استحقاق کا خیال بھی ہے۔ موقع وہ ہے کہ حضرت عباس کو منصب علمداری عطا ہو چکا ہے اور حضرت عون و محمد کو اس کا ملال ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ انہیں علم مانا چاہیے ۔ صرف ایک بند درج کیا جاتا ہے :
عمریں قلیل اور ہوس منصب جلیل
اچھا نکالو قد کے بھی بڑھنے کی کچھ سبیل
ماں صدقے جائے گرچہ یہ ہمت کی ہے دلیل
یاں اپنے ہمسنوں میں تمہارا نہیں عدیل
لازم ہے سوچے، غور کرے، پیش و پس کرے
جو ہو سکے نا کیوں بشر اس کی ہوس کرے
یہ جو مثالیں پیش کی گئیں اور جن انسانی رشتوں کا ذکر کیا گیا وہ سارے رشتے عالمی ادب کی کسی صنف میں ایک جگہ نہیں ملتے۔ اردو میں بھی مرثیہ کے علاوہ رشتوں کی یہ تفصیلات اور کسی صنف میں نہیں ہیں۔ اس لیے کہ غزل کا عاشقانہ مزاج ، قصیدہ کی در بارداری اور مثنوی کا داستانی رنگ سماجیات کے اس نازک پہلو کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا ۔ مگر مرثیے میں وہ سارے انسانی اقدار موجود ہیں جو کاروانِ تہذیب کو آگے بڑھاتے ہیں ۔ کیا مجال کہ مرثیہ نگار کے قلم کو ہلکی سی لغزش بھی ہو جائے ۔ مرثیے کی اہمیت اور انفرادیت کے اسباب میں سے یہ بھی ایک سبب ہے کہ مرثیہ نگار اپنے اوپر خوبصورت تہذیبی پابندیاں عائد کر لیتا ہے اور پھر ان کے حصار سے باہر قدم نہیں نکالتا۔
ماخوذ : ایم اے اردو دوسرا پرچہ(مانو)

Users Today : 35
Users Yesterday : 30
Users Last 7 days : 228
Users Last 30 days : 843
Users This Month : 532
Users This Year : 2711
Total Users : 22430
Views Today : 89
Views Yesterday : 185
Views Last 7 days : 568
Views Last 30 days : 1688
Views This Month : 1105
Views This Year : 4812
Total views : 53427
Who's Online : 1