اصناف شاعری کا تعارفمرثیہ نگاری

مرثیہ: ایک تعارف | مجاور حسین رضوی

مرثیہ کی تہذیبی اور تمدنی اہمیت کے علاوہ اس کی ادبی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مرثیہ کی مقبولیت کا راز جہاں مذہب سے وابستگی ہے وہیں تہذیبی اخلاقی اور ادبی محاسن میں بھی مضمر ہے۔ اس کی مقبولیت کے کئی اسباب ہیں جن میں سے زیادہ موثر اور مقبول عام سبب مرثیہ کی جذباتی اور مذہبی نوعیت ہے ۔ مرثیہ گویوں  خصوصاً انیس و دبیر نے اپنی بے پناہ تخلیقی قوت سے مرثیہ کو اعلیٰ و عظیم شاعری کی صف میں لاکھڑا کیا ہے ۔ جس کی مثال عالمی ادب میں بھی نہیں مل سکتی ۔ ان ہی مرثیہ نگاروں نے انسانی رشتوں جذبات و احساسات کی آفاقیت، جمالی اقدار اور شعر کے جملہ محاسن کو پیش نظر رکھا ، جس کی وجہ سے ادبی ذوق کی بھی تسکین ہوتی ہے ۔

مسدس مرثیے کی انتہائی ترقی یافتہ شکل ہے۔ ابتدا میں مرثیہ دو بیتی، مثلث، مربع اور مخمس میں بھی لکھا گیا ۔ سودا نے مرثیہ کو مسدس کی شکل میں روشناس کروایا۔ سودا سے قبل بھی مسدس کے فارم میں مرثیے لکھے گئے ۔ میر تقی میر سکندر پنجابی، احمد اور حیدر دکھنی نے کچھ مریثے مسدس ہی میں لکھے تھے۔ سودا کے بعد بھی مرثیے کے لیے دیگر ہیئتیں استعمال کی گئیں ۔ مثلاً غالب نے عارف کے مرثیے میں غزل کا فارم اختیار کیا۔ حالی نے غالب کا مرثیہ لکھا تو ترکیب بند میں اور اقبال نے والدہ کا مرثیہ مثنوی کی شکل میں لکھا۔ محمد علی جوہر سیماب اکبر آبادی اور حفیظ جالندھری نے مرثیے کے لیے غزل قطعات اور مخمس کی راہیں اختیار کیں ۔ ان مثالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرثیے کے لیے کوئی ہیئت مخصوص نہیں، لیکن انیس اور دبیر کے مرثیوں کی مقبولیت کی وجہہ سے مسدس کے فارم کو مرثیہ سے مخصوص سمجھا جانے لگا ہے۔

وه دشت وہ نسیم کے جھونکے وہ سبزہ زار

پھولوں پر جا بہ جا وہ گہر ہائے آبدار

اٹھنا وہ جھوم جھوم کے شاخوں کا بار بار

بالائے نخل ایک جو بلبل تو گل ہزار

خواہاں تھے زیب گلشن زہرا جو آپ کے

شبنم نے پھر دیے تھے کٹورے گلاب کے

آئینہ کہا رخ کو تو کچھ بھی نہ ثنا کی

صنعت وہ سکندر کی یہ صنعت ہے خدا کی

گر آنکھ کو نرگس کہوں ہے عین حقارت

نرگس میں نہ پلکیں ہیں، نہ تتلی نہ بصارت

دنیا ہو اک طرف تو لڑائی کو سر کروں

آئے غضب خدا کا اُدھر رخ جدھر کروں

بے جبرئیل کار قضا و قدر کروں

 انگلی کے اک اشارے میں شق القمر کروں

طاقت اگر دکھاؤں رسالت مآب کی

رکھ دوں زمیں پہ چیر کے ڈھال آفتاب کی

نیزے ہلے، وہ چل گئیں چوٹیں کہ الاماں

ہر طعن قہر کی تھی ، قیامت کی ہر تکاں

چنگاریاں اڑیں جو سناں سے لڑیں سناں

دو اژد ہے گتھے تھے نکالے ہوئے زباں

پھیلے شرر پرندوں کی جانیں ہوا ہوئیں

 شمعوں کی تھیں لویں کہ ملیں اور جدا ہوئیں

 شہادت

حضرت یہ کہتے تھے کہ چلا خلق سے پسر

اتنی زبان ہلی کہ خدا حافظ اے پسر

ہچکی جو آئی تھام لیا ہاتھ سے جگر

انگڑائی لے کے رکھ دیا شہ کے قدم پر سر

آباد گھر لٹا شہ والا کے سامنے

بیٹے کا دم نکل گیا بابا کے سامنے

پیاسی جو تھی سپاہ خدا تین رات کی

 ساحل سے سر چکتی تھیں موجیں فرات کی

صنعت غیر منقوط کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے :

حر حملہ ور ہوا کہ اسد حملہ ور ہوا

وہ حملہ ور ادھر ادھر اسلام ور ہوا

سرگرم معرکہ سرا اعدا اگر ہوا

وہ گل کھلا کہ لالہ کہسار سر ہوا

اہل حسد کو درس ادھر آہ آہ کا

حورو ملک کو درد اُدھر واہ واہ کا

مری بی بی کی امیرانہ سواری ہوگی

ناقے پر عرش کے مانند عماری ہوگی

مسند نور پہ کسری کی وہ پیاری ہوگی

گہنا سب تحفہ تو پوشاک بھی بھاری ہوگی

فوجیں حوروں کی سواری میں پیادہ ہوں گی

بیرقیں نور کی ہاتھوں میں کشادہ ہوں گی

مسند آراستہ کی سبط پیمبر کے لیے

کشتیاں لا کے رکھیں عزت حیدر کے لیے

جھولا دالان میں ڈالا علی اصغر کے لیے

لا کے گلدستے برابر رکھے اکبر کے لیے

جام شربت کے بھرے ابن حسن کی خاطر

گہنا پھولوں کا منگا رکھا دلھن کی خاطر

قرنا میں نہ دم ہے نہ جلا جل میں صدا ہے

بوق و دہل و کوس کی بھی سانس ہوا ہے

ہر دل کے دھڑکنے کا مگر شور بپا ہے

باجا جو سلامی کا اسے کہیے بجا ہے

سکتے میں جو آواز ہے نقارہ و دف کی

نوبت ہے درود خلف شاہ نجف کی

میں یہ نہیں کہتی کہ عماری میں بٹھا دو

بابا مجھے فضہ کی سواری میں بٹھا دو

عمریں قلیل اور ہوس منصب جلیل

اچھا نکالو قد کے بھی بڑھنے کی کچھ سبیل

ماں صدقے جائے گرچہ یہ ہمت کی ہے دلیل

یاں اپنے ہمسنوں میں تمہارا نہیں عدیل

لازم ہے سوچے، غور کرے، پیش و پس کرے

جو ہو سکے نا کیوں بشر اس کی ہوس کرے

ماخوذ : ایم اے اردو دوسرا پرچہ(مانو)

Our Visitor

0 2 2 4 3 0
Users Today : 35
Users Yesterday : 30
Users Last 7 days : 228
Users Last 30 days : 843
Users This Month : 532
Users This Year : 2711
Total Users : 22430
Views Today : 89
Views Yesterday : 185
Views Last 7 days : 568
Views Last 30 days : 1688
Views This Month : 1105
Views This Year : 4812
Total views : 53427
Who's Online : 1
Your IP Address : 216.73.217.110
Server Time : 18/04/2026 12:02 PM
error: Content is protected !!