مرزا غالب – دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا
مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں
جو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں
کھینچے ہے دور آپ کو میری فروتنی
افتادہ ہوں پہ سایۂ قد کشیدہ ہوں
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں
ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں
پاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیں
آ جائے ایسے جینے سے اپنا تو جی بتنگ
جیتا رہے گا کب تلک اے خضر مر کہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا
دی بادشہی حق نے تجھے حسن نگر کی
یو کشور ایراں میں سلیماں سوں کہوں گا
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریں
ساقیا آ شراب ناب کہاں
چند کے پیالے میں آفتاب کہاں
پیا باج پیالا پیا جائے نا
پیا باج یک تل جیا جائے نا
Users Today : 28
Users Yesterday : 101
Users Last 7 days : 511
Users Last 30 days : 2004
Users This Month : 1295
Users This Year : 13104
Total Users : 32823
Views Today : 42
Views Yesterday : 176
Views Last 7 days : 1012
Views Last 30 days : 4203
Views This Month : 2808
Views This Year : 26987
Total views : 75602
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.5
Server Time : 21/10/2026 10:40 AM