غزل

علامہ اقبال – ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں

یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں

قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر

چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں

اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم

مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا

کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں

یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں

Our Visitor

0 3 2 7 3 5
Users Today : 41
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 507
Users Last 30 days : 1964
Users This Month : 1207
Users This Year : 13016
Total Users : 32735
Views Today : 60
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1081
Views Last 30 days : 4290
Views This Month : 2650
Views This Year : 26829
Total views : 75444
Who's Online : 0
Your IP Address : 57.141.4.40
Server Time : 20/10/2026 9:45 AM
error: Content is protected !!