حیدر علی آتش – حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے
حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے
پیش روزن پس دیوار لیے پھرتی ہے
اس مشقت سے اسے خاک نہ ہوگا حاصل
جان عبث جسم کی بیکار لیے پھرتی ہے
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے
پیش روزن پس دیوار لیے پھرتی ہے
اس مشقت سے اسے خاک نہ ہوگا حاصل
جان عبث جسم کی بیکار لیے پھرتی ہے
وحشی تھے بوئے گل کی طرح اس جہاں میں ہم
نکلے تو پھر کے آئے نہ اپنے مکاں میں ہم
ساکن ہیں جوش اشک سے آب رواں میں ہم
رہتے ہیں مثل مردم آبی جہاں میں ہم
تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں
رہی ہے ایک تصویر خیالی روبرو برسوں
ہوا مہمان آ کر رات بھر وہ شمع رو برسوں
رہا روشن مرے گھر کا چراغ آرزو برسوں
تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست
مثل تصویر نہالی میں ہوں ہم پہلوئے دوست
چہرۂ رنگیں کوئی دیوان رنگیں ہے مگر
حسن مطلع ہیں مسیں مطلع ہے صاف ابروئے دوست
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے
بخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا
غیرت مہر رشک ماہ ہو تم
خوب صورت ہو بادشاہ ہو تم
جس نے دیکھا تمہیں وہ مر ہی گیا
حسن سے تیغ بے پناہ ہو تم
یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا
رات بھر طالع بے دار نے سونے نہ دیا
خاک پر سنگ در یار نے سونے نہ دیا
دھوپ میں سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے
پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
رات بھر جو سامنے آنکھوں کے وہ مہ پارہ تھا
غیرت مہتاب اپنا دامن نظارہ تھا
بن گئے گرداب سیل اشک جائے گرد باد
ابر تر کی طرح میں جس دشت میں آوارہ تھا
مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا
طلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کا
ازل سے دشمنی طاؤس و مار آپس میں رکھتے ہیں
دل پر داغ کو کیوں کر ہے عشق اس زلف پیچاں کا
Users Today : 46
Users Yesterday : 101
Users Last 7 days : 529
Users Last 30 days : 2022
Users This Month : 1313
Users This Year : 13122
Total Users : 32841
Views Today : 87
Views Yesterday : 176
Views Last 7 days : 1057
Views Last 30 days : 4248
Views This Month : 2853
Views This Year : 27032
Total views : 75647
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.5
Server Time : 21/10/2026 1:34 PM