ہمدردی – علامہ اقبال
ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی
اڑنے چگنے میں دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشیاں تک
ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا
سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
(شامل نصاب : این سی ای آرٹی کی اردو کتاب ستار برائے تیسری جماعت)
Users Today : 47
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 513
Users Last 30 days : 1970
Users This Month : 1213
Users This Year : 13022
Total Users : 32741
Views Today : 68
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1089
Views Last 30 days : 4298
Views This Month : 2658
Views This Year : 26837
Total views : 75452
Who's Online : 0