ہمدردی – علامہ اقبال
ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی
اڑنے چگنے میں دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشیاں تک
ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا
سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
(شامل نصاب : این سی ای آرٹی کی اردو کتاب ستار برائے تیسری جماعت)
Users Today : 20
Users Yesterday : 114
Users Last 7 days : 937
Users Last 30 days : 2409
Users This Month : 307
Users This Year : 9713
Total Users : 29432
Views Today : 22
Views Yesterday : 179
Views Last 7 days : 1598
Views Last 30 days : 5431
Views This Month : 500
Views This Year : 19763
Total views : 68378
Who's Online : 0