البیلی صبح – جوش ملیح آبادی
نظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے زلفیں ہٹا رہی ہے
سحر کا تارا ہے زلزلے میں افق کی لو تھرتھرا رہی ہے
روش روش نغمۂ طرب ہے چمن چمن جشن رنگ و بو ہے
طیور شاخوں پہ ہیں غزل خواں کلی کلی گنگنا رہی ہے
ستارۂ صبح کی رسیلی جھپکتی آنکھوں میں ہیں فسانے
نگار مہتاب کی نشیلی نگاہ جادو جگا رہی ہے
طیور بزم سحر کے مطرب لچکتی شاخوں پہ گا رہے ہیں
نسیم فردوس کی سہیلی گلوں کو جھولا جھلا رہی ہے
کلی پہ بیلے کی کس ادا سے پڑا ہے شبنم کا ایک موتی
نہیں یہ ہیرے کی کیل پہنے کوئی پری مسکرا رہی ہے
سحر کو مد نظر ہیں کتنی رعایتیں چشم خوں فشاں کی
ہوا بیاباں سے آنے والی لہو میں سرخی بڑھا رہی ہے
شلوکا پہنے ہوئے گلابی ہر اک سبک پنکھڑی چمن میں
رنگی ہوئی سرخ اوڑھنی کا ہوا میں پلو سکھا رہی ہے
فلک پہ اس طرح چھپ رہے ہیں ہلال کے گرد و پیش تارے
کہ جیسے کوئی نئی نویلی جبیں سے افشاں چھڑا رہی ہے
کھٹک یہ کیوں دل میں ہو چلی پھر چٹکتی کلیو؟ ذرا ٹھہرنا
ہوائے گلشن کی نرم رو میں یہ کسی کی آواز آ رہی ہے؟
Users Today : 50
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 516
Users Last 30 days : 1973
Users This Month : 1216
Users This Year : 13025
Total Users : 32744
Views Today : 71
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1092
Views Last 30 days : 4301
Views This Month : 2661
Views This Year : 26840
Total views : 75455
Who's Online : 2