حیدر علی آتش – یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا
یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا
رات بھر طالع بے دار نے سونے نہ دیا
خاک پر سنگ در یار نے سونے نہ دیا
دھوپ میں سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا
رات بھر طالع بے دار نے سونے نہ دیا
خاک پر سنگ در یار نے سونے نہ دیا
دھوپ میں سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے
پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
رات بھر جو سامنے آنکھوں کے وہ مہ پارہ تھا
غیرت مہتاب اپنا دامن نظارہ تھا
بن گئے گرداب سیل اشک جائے گرد باد
ابر تر کی طرح میں جس دشت میں آوارہ تھا
مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا
طلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کا
ازل سے دشمنی طاؤس و مار آپس میں رکھتے ہیں
دل پر داغ کو کیوں کر ہے عشق اس زلف پیچاں کا
غم دل کا بیان چھوڑ گئے
ہم یہ اپنا نشان چھوڑ گئے
تری دہشت سے باغ میں صیاد
مرغ سب آشیان چھوڑ گئے
کون اس باغ سے اے باد صبا جاتا ہے
رنگ رخسار سے پھولوں کے اڑا جاتا ہے
شعلہ شمع میں گرمی یہ کہاں سے آئی
اس کی گرمی سے تو فانوس جلا جاتا ہے
کم فرصتیٔ گل جو کہیں کوئی نہ مانے
ایسے گئے ایام بہاراں کہ نہ جانے
تھے شہر میں اے رشک پری جتنے سیانے
سب ہو گئے ہیں شور ترا سن کے دوانے
میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوں
اک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں
لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر
میں ورنہ وہی خلوتیٔ راز نہاں ہوں
سحر گہہ عید میں دور سبو تھا
پر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا
غلط تھا آپ سے غافل گزرنا
نہ سمجھے ہم کہ اس قالب میں تو تھا
رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے
دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے
پاس ناموس عشق تھا ورنہ
کتنے آنسو پلک تک آئے تھے
Users Today : 2
Users Yesterday : 53
Users Last 7 days : 358
Users Last 30 days : 1273
Users This Month : 55
Users This Year : 5261
Total Users : 24980
Views Today : 2
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 600
Views Last 30 days : 2707
Views This Month : 117
Views This Year : 10106
Total views : 58721
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.122
Server Time : 02/07/2026 3:02 AM