مرزا غالب – نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریں
ساقیا آ شراب ناب کہاں
چند کے پیالے میں آفتاب کہاں
پیا باج پیالا پیا جائے نا
پیا باج یک تل جیا جائے نا
حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے
پیش روزن پس دیوار لیے پھرتی ہے
اس مشقت سے اسے خاک نہ ہوگا حاصل
جان عبث جسم کی بیکار لیے پھرتی ہے
وحشی تھے بوئے گل کی طرح اس جہاں میں ہم
نکلے تو پھر کے آئے نہ اپنے مکاں میں ہم
ساکن ہیں جوش اشک سے آب رواں میں ہم
رہتے ہیں مثل مردم آبی جہاں میں ہم
تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں
رہی ہے ایک تصویر خیالی روبرو برسوں
ہوا مہمان آ کر رات بھر وہ شمع رو برسوں
رہا روشن مرے گھر کا چراغ آرزو برسوں
تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست
مثل تصویر نہالی میں ہوں ہم پہلوئے دوست
چہرۂ رنگیں کوئی دیوان رنگیں ہے مگر
حسن مطلع ہیں مسیں مطلع ہے صاف ابروئے دوست
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے
بخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا
غیرت مہر رشک ماہ ہو تم
خوب صورت ہو بادشاہ ہو تم
جس نے دیکھا تمہیں وہ مر ہی گیا
حسن سے تیغ بے پناہ ہو تم
Users Today : 16
Users Yesterday : 9
Users Last 7 days : 200
Users Last 30 days : 974
Users This Month : 517
Users This Year : 3620
Total Users : 23339
Views Today : 20
Views Yesterday : 12
Views Last 7 days : 355
Views Last 30 days : 2189
Views This Month : 1017
Views This Year : 6727
Total views : 55342
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.10
Server Time : 17/05/2026 6:16 PM