ایک پودا اور گھاس – اسماعیل مرٹھی
اتفاقاً ایک پودا اور گھاس
باغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاس
گھاس کہتی ہے کہ اے میرے رفیق
کیا انوکھا اس جہاں کا ہے طریق
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
اتفاقاً ایک پودا اور گھاس
باغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاس
گھاس کہتی ہے کہ اے میرے رفیق
کیا انوکھا اس جہاں کا ہے طریق
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی
Users Today : 56
Users Yesterday : 28
Users Last 7 days : 401
Users Last 30 days : 1437
Users This Month : 992
Users This Year : 6198
Total Users : 25917
Views Today : 103
Views Yesterday : 53
Views Last 7 days : 809
Views Last 30 days : 2601
Views This Month : 1866
Views This Year : 11855
Total views : 60470
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.7
Server Time : 20/07/2026 7:52 PM