ایک پودا اور گھاس – اسماعیل مرٹھی
اتفاقاً ایک پودا اور گھاس
باغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاس
گھاس کہتی ہے کہ اے میرے رفیق
کیا انوکھا اس جہاں کا ہے طریق
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
اتفاقاً ایک پودا اور گھاس
باغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاس
گھاس کہتی ہے کہ اے میرے رفیق
کیا انوکھا اس جہاں کا ہے طریق
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی
Users Today : 26
Users Yesterday : 30
Users Last 7 days : 219
Users Last 30 days : 834
Users This Month : 523
Users This Year : 2702
Total Users : 22421
Views Today : 76
Views Yesterday : 185
Views Last 7 days : 555
Views Last 30 days : 1675
Views This Month : 1092
Views This Year : 4799
Total views : 53414
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.110
Server Time : 18/04/2026 10:28 AM