ایک پودا اور گھاس – اسماعیل مرٹھی
اتفاقاً ایک پودا اور گھاس
باغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاس
گھاس کہتی ہے کہ اے میرے رفیق
کیا انوکھا اس جہاں کا ہے طریق
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
اتفاقاً ایک پودا اور گھاس
باغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاس
گھاس کہتی ہے کہ اے میرے رفیق
کیا انوکھا اس جہاں کا ہے طریق
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی
Users Today : 36
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 502
Users Last 30 days : 1959
Users This Month : 1202
Users This Year : 13011
Total Users : 32730
Views Today : 45
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1066
Views Last 30 days : 4275
Views This Month : 2635
Views This Year : 26814
Total views : 75429
Who's Online : 1
Your IP Address : 216.73.217.5
Server Time : 20/10/2026 6:57 AM