ایک پودا اور گھاس – اسماعیل مرٹھی
اتفاقاً ایک پودا اور گھاس
باغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاس
گھاس کہتی ہے کہ اے میرے رفیق
کیا انوکھا اس جہاں کا ہے طریق
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
اتفاقاً ایک پودا اور گھاس
باغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاس
گھاس کہتی ہے کہ اے میرے رفیق
کیا انوکھا اس جہاں کا ہے طریق
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی
Users Today : 37
Users Yesterday : 21
Users Last 7 days : 193
Users Last 30 days : 909
Users This Month : 58
Users This Year : 4046
Total Users : 23765
Views Today : 65
Views Yesterday : 23
Views Last 7 days : 332
Views Last 30 days : 1722
Views This Month : 88
Views This Year : 7487
Total views : 56102
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.36
Server Time : 02/06/2026 11:12 PM