بنت لمحات – اخترالایمان
تمہارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہے
اسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہ
غنیم نور کا حملہ کہو اندھیروں پر
دیار درد میں آمد کہو مسیحا کی
رواں دواں ہوئے خوشبو کے قافلے ہر سو
خلائے صبح میں گونجی سحر کی شہنائی
یہ ایک کہرا سا، یہ دھند سی جو چھائی ہے
اس التہاب میں، اس سرمگیں اجالے میں
سوا تمہارے مجھے کچھ نظر نہیں آتا
حیات نام ہے یادوں کا، تلخ اور شیریں
بھلا کسی نے کبھی رنگ و بو کو پکڑا ہے
شفق کو قید میں رکھا صبا کو بند کیا
ہر ایک لمحہ گریزاں ہے، جیسے دشمن ہے
نہ تم ملو گی نہ میں، ہم بھی دونوں لمحے ہیں
وہ لمحے جا کے جو واپس کبھی نہیں آتے!
Users Today : 28
Users Yesterday : 114
Users Last 7 days : 945
Users Last 30 days : 2417
Users This Month : 315
Users This Year : 9721
Total Users : 29440
Views Today : 32
Views Yesterday : 179
Views Last 7 days : 1608
Views Last 30 days : 5441
Views This Month : 510
Views This Year : 19773
Total views : 68388
Who's Online : 0