بنت لمحات – اخترالایمان
تمہارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہے
اسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہ
غنیم نور کا حملہ کہو اندھیروں پر
دیار درد میں آمد کہو مسیحا کی
رواں دواں ہوئے خوشبو کے قافلے ہر سو
خلائے صبح میں گونجی سحر کی شہنائی
یہ ایک کہرا سا، یہ دھند سی جو چھائی ہے
اس التہاب میں، اس سرمگیں اجالے میں
سوا تمہارے مجھے کچھ نظر نہیں آتا
حیات نام ہے یادوں کا، تلخ اور شیریں
بھلا کسی نے کبھی رنگ و بو کو پکڑا ہے
شفق کو قید میں رکھا صبا کو بند کیا
ہر ایک لمحہ گریزاں ہے، جیسے دشمن ہے
نہ تم ملو گی نہ میں، ہم بھی دونوں لمحے ہیں
وہ لمحے جا کے جو واپس کبھی نہیں آتے!
Users Today : 50
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 516
Users Last 30 days : 1973
Users This Month : 1216
Users This Year : 13025
Total Users : 32744
Views Today : 71
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1092
Views Last 30 days : 4301
Views This Month : 2661
Views This Year : 26840
Total views : 75455
Who's Online : 2