مومن خان مومن
صبر وحشت اثر نہ ہو جائے
کہیں صحرا بھی گھر نہ ہو جائے
رشک پیغام ہے عناں کش دل
نامہ بر راہبر نہ ہو جائے
دیکھو مت دیکھیو کہ آئینہ
غش تمہیں دیکھ کر نہ ہو جائے
ہجر پردہ نشیں میں مرتے ہیں
زندگی پردۂ در نہ ہو جائے
کثرت سجدہ سے وہ نقش قدم
کہیں پامال سر نہ ہو جائے
میرے تغییر رنگ کو مت دیکھ
تجھ کو اپنی نظر نہ ہو جائے
میرے آنسو نہ پونچھنا دیکھو
کہیں دامان تر نہ ہو جائے
بات ناصح سے کرتے ڈرتا ہوں
کہ فغاں بے اثر نہ ہو جائے
اے قیامت نہ آئیو جب تک
وہ مری گور پر نہ ہو جائے
مانع ظلم ہے تغافل یار
بخت بد کو خبر نہ ہو جائے
غیر سے بے حجاب ملتے ہو
شب عاشق سحر نہ ہو جائے
رشک دشمن کا فائدہ معلوم
مفت جی کا ضرر نہ ہو جائے
اے دل آہستہ آہ تاب شکن
دیکھ ٹکڑے جگر نہ ہو جائے
مومنؔ ایماں قبول دل سے مجھے
وہ بت آزردہ گر نہ ہو جائے
Users Today : 91
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 557
Users Last 30 days : 2014
Users This Month : 1257
Users This Year : 13066
Total Users : 32785
Views Today : 159
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1180
Views Last 30 days : 4389
Views This Month : 2749
Views This Year : 26928
Total views : 75543
Who's Online : 0