مومن خان مومن
صبر وحشت اثر نہ ہو جائے
کہیں صحرا بھی گھر نہ ہو جائے
رشک پیغام ہے عناں کش دل
نامہ بر راہبر نہ ہو جائے
دیکھو مت دیکھیو کہ آئینہ
غش تمہیں دیکھ کر نہ ہو جائے
ہجر پردہ نشیں میں مرتے ہیں
زندگی پردۂ در نہ ہو جائے
کثرت سجدہ سے وہ نقش قدم
کہیں پامال سر نہ ہو جائے
میرے تغییر رنگ کو مت دیکھ
تجھ کو اپنی نظر نہ ہو جائے
میرے آنسو نہ پونچھنا دیکھو
کہیں دامان تر نہ ہو جائے
بات ناصح سے کرتے ڈرتا ہوں
کہ فغاں بے اثر نہ ہو جائے
اے قیامت نہ آئیو جب تک
وہ مری گور پر نہ ہو جائے
مانع ظلم ہے تغافل یار
بخت بد کو خبر نہ ہو جائے
غیر سے بے حجاب ملتے ہو
شب عاشق سحر نہ ہو جائے
رشک دشمن کا فائدہ معلوم
مفت جی کا ضرر نہ ہو جائے
اے دل آہستہ آہ تاب شکن
دیکھ ٹکڑے جگر نہ ہو جائے
مومنؔ ایماں قبول دل سے مجھے
وہ بت آزردہ گر نہ ہو جائے
Users Today : 35
Users Yesterday : 63
Users Last 7 days : 407
Users Last 30 days : 1440
Users This Month : 1034
Users This Year : 6240
Total Users : 25959
Views Today : 56
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 793
Views Last 30 days : 2574
Views This Month : 1934
Views This Year : 11923
Total views : 60538
Who's Online : 1