کندن لال سہگل

سبق کا خلاصہ
یہ مضمون برصغیر کے عظیم گلوکار اور فلمی اداکار کنن لال سہگل کی زندگی، فن اور شخصیت پر روشنی ڈالتا ہے۔ کنن لال سہگل کا شمار ہندوستانی فلمی صنعت کے ابتدائی دور کے مقبول ترین فنکاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی آواز میں ایسی سوز و گداز، مٹھاس اور اثر انگیزی تھی کہ لوگ ان کے گانوں کے دیوانے تھے۔ مضمون میں بیان کیا گیا ہے کہ مشہور فلم ساز بی۔ این۔ سرکار نے سہگل کو فلمی دنیا میں متعارف کرایا اور انہیں اپنی فلم کمپنی میں کام کا موقع دیا۔
ابتدا میں سہگل کو فلموں میں اداکاری کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا تھا کیونکہ ان کی شکل و صورت روایتی ہیرو جیسی نہ تھی، لیکن ان کی غیر معمولی آواز نے سب کو متاثر کر دیا۔ بی۔ این۔ سرکار نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں موقع دیا۔ سہگل نے اپنی محنت، لگن اور فنکارانہ صلاحیتوں سے جلد ہی فلمی دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل کر لیا۔
مضمون میں فلم "محبت کے آنسو” کے ایک دلچسپ واقعے کا ذکر ہے۔ فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک منظر میں سہگل کو رونا تھا، مگر وہ قدرتی انداز میں رونے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ہدایت کار اور دوسرے لوگ پریشان تھے، لیکن جب موسیقی بجائی گئی تو سہگل کے جذبات بیدار ہوگئے اور وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ یوں منظر کامیابی سے فلم بند ہو گیا۔ اس واقعے سے ان کی حساس طبیعت اور موسیقی سے گہری وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔
سہگل کی مقبولیت کا راز صرف ان کی خوبصورت آواز ہی نہیں تھا بلکہ ان کی سادگی، عاجزی، خود اعتمادی اور فن سے بے پناہ محبت بھی تھی۔ وہ اپنے کام میں پوری دیانت داری اور محنت سے حصہ لیتے تھے۔ ان کے گائے ہوئے گانے عوام میں بے حد مقبول ہوئے اور آج بھی موسیقی کے شائقین انہیں شوق سے سنتے ہیں۔
مضمون کے مطابق کنن لال سہگل نے اپنی فنی زندگی میں بے شمار یادگار گیت اور فلمیں دیں۔ ان کی شہرت پورے برصغیر میں پھیل گئی اور وہ موسیقی کی دنیا کے ایک روشن ستارے بن گئے۔ 16 جنوری 1932ء کو ریلیز ہونے والی فلم "محبت کے آنسو” نے ان کے فنی سفر کو مزید کامیاب بنایا۔ بعد میں انہوں نے کئی مشہور گانے گائے جنہوں نے انہیں لازوال شہرت عطا کی۔
یہ مضمون کنن لال سہگل کی فنی عظمت، موسیقی سے والہانہ عشق، محنت، خود اعتمادی اور سادگی کو اجاگر کرتا ہے۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ مسلسل جدوجہد، لگن اور اپنی صلاحیتوں پر یقین انسان کو کامیابی اور دائمی شہرت کی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔
سوچیے اور بتائیے
1. شرت چند چٹرجی کے ناول پر بنی پہلی فلم کا کیا نام تھا اور وہ کس زبان میں تھی؟
جواب: شرت چند چٹرجی کے ناول پر بنی پہلی فلم کا نام ‘دنیا پاونا’ تھا اور یہ بنگالی زبان میں تھی۔
2.بی این سرکار نے اپنی دوسری فلم کس زبان میں بنائی؟
جواب: این سرکار نے اپنی دوسری فلم ہندوستانی زبان میں بنائی۔
3. کے ایل سہگل نے اپنی کس خوبی سے سرکار صاحب اور بورال دا کو متاثر کیا؟
جواب:کے ایل سہگل نے اپنے گانے سےسرکار صاحب اور بورال کو متاثر کیا۔
4. ماتھا کی شکنیں گہری ہونے سے کیا مراد ہے؟
جواب: ماتھے کی شکنیں گہری ہونے سے مراد ہے کسی بات کا پسند نہ آنا، کسی سوچ میں ڈوبے ہونا یا کسی بات پر ناراض ہونا۔
5. کے ایل سہگل صاحب کو دیکھ کر آترتھی صاحب نے کیا کہا؟
جواب: کے ایل صاحب صاحب کو دیکھ کر آترتھی صاحب نے کہا”اس لمبے سوکھے بدن کے ساتھ کیا خاک ایکٹنگ کریں گے۔دیکھنے سے لگتا ہے جیسے بانس پر کپڑے لٹکا دیے گئے ہوں۔نہ صورت نہ صحت۔”
6. آتھرتی کی باتوں کا سہگل پر کیا اثر ہوا؟
جواب: آترتھی کی باتوں سے سہگل کی حالت خراب ہوگئی تھی۔ آترتھی کا ایک ایک لفظ ان کے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا۔ پہلے وہ یہ سوچ کر خوش تھے کہ انہیں اپنی منزل مل گئی لیکن اب لگا کہ جسے وہ اپنی منزل سمجھ رہے تھے وہ محض ایک چھلاوہ تھا۔
7. موسیقی تو ایک مسلسل ہنر ہے بیٹے’ یہ آواز سہگل نے کب محسوس کی؟
جواب: جب سہگل کی خود اعتمادی ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھی تب انہوں نےجموں کے پیر بابا کی یہ آواز محسوس کی۔
8. سہگل میں خود اعتمادی کیسے لوٹی؟
جواب: جموں کے پیر بابا کی یہ آواز کہ موسیقی تو ایک مسلسل ہنر ہے بیٹے اور اس میں منزل نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ اگر کچھ ہوتا ہے تو بس ریاض اور ذکر جس کا کوئی خاتمہ نہیں۔ آخر دم تک اسے نبھانا پڑتا ہے۔ اگر تم یہ کر سکے تو تمہاری روح کو سکون ملے گا۔ سلمان پیر کی یہ بات یاد آتے ہی سہگل کو سچ مچ بہت سکون ملا اور ان کی خود اعتمادی جو ذرا دیر پہلے ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھی پھر سے لوٹ آئی۔
9. آترتھی صاحب سہگل سے کیوں مطمئین ہو گئے؟
جواب:سہگل کی خود اعتمادی اور آرتھر صاحب کو دیے گئے ان کے اس جواب کو سن کر آترتھی صاحب مطمئیں ہوگئے کہ ”آپ تو پارس ہیں لوہے کو چھولیں تو سونا بن جائے۔پھر میں آپ کی فلم کا ہیرو کیوں نہیں بن سکتا۔آپ ہی بتائیے۔میرے سر پر آپ کا ہاتھ ہوگا تو میں آسمان کو زمین پر اتار لاؤں گا۔“
11. سہگل کے رونے کی کیا وجہ تھی؟
جواب:جب کیمرے کا سامنا ہوا تو سہگل گھبرا گئے اور ان سے بار بار غلطی ہو تی گئی۔آٹھ نو بار ری ٹیک ہوچکا تھا اور آترتھی صاحب بھی غصّے میں اسٹوڈیو سے باہر نکل گئے۔ یہ دیکھ کر سہگل رونے لگے۔
11. آترتھی کن خوبیوں کے مالک تھے؟
جواب: آترتھی ایک بہت اچھے ڈائریکٹر تھے۔وہ نفسیات کے ماہر تھے اور بہت ہی صبر سے کام لیتے تھے۔
12. کے ایل سہگل کو کن وجہوں سے شہرت حاصل ہوئی؟
جواب: سہگل کو ان کی آواز اور اداکاری کے دم پر زبردست شہرت حاصل ہوئی۔
صحیح جملوں کے سامنے صحیح اور غلط کے سامنے غلط کا نشان لگائیے۔
1. کے ایل سہگل کی پہلی فلم کا نام ماں کے آنسو تھا۔(غلط)
2. ہیرو کے رول کے لیے مناسب کردار موجود تھا۔(غلط)
3. کے ایل سہگل بہت اچھا گاتے تھے۔(صحیح)
4. کے ایل سہگل ایک تندرست جسم کے مالک تھے۔(غلط)
5. سلمان پیر کی بات سے سہگل کو سچ مچ بہت دکھ ہوا۔(غلط)
نیچے لکھے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔
دقیانوسی(پرانے زمانے کا): سہگل کے ماں باپ دقیانوسی خیالات کے مالک تھے۔
انتخاب(چننا): وہ صدارتی انتخاب میں کمیاب ہوگیا۔
مکالمہ: فلموں کے لیے مکالمہ لکھنا آسان نہیں ہوتا۔
پارس: پارس اگر لوہے کو چھو لے تو وہ سونا بن جاتا ہے۔
توازن: اس کا دماغی توازن بگڑ گیا۔
حوصلہ افزائی: استاد ہمیشہ اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
تناؤ: امتحان کے دنوں میں بچّے تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔
نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے۔
| توازن | غیر متوازن |
| احساس کمتری | احساس برتری |
| مناسب | ۔نامناسب |
| سکون | بے سکون |
| مطمئین | غیرمطمئین |
| اعتماد | بےاعتماد |

Users Today : 4
Users Yesterday : 59
Users Last 7 days : 492
Users Last 30 days : 1816
Users This Month : 63
Users This Year : 7075
Total Users : 26794
Views Today : 6
Views Yesterday : 208
Views Last 7 days : 1229
Views Last 30 days : 3729
Views This Month : 214
Views This Year : 13833
Total views : 62448
Who's Online : 0