اسکولاین سی ای آرٹی

پھول والوں کی سیر (اپنی زبان 7)

پھول والوں کی سیر دہلی کا ایک مشہور تاریخی اور ثقافتی میلہ ہے جو ہندو مسلم اتحاد، محبت اور بھائی چارے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ آباد ہیں اور یہ میلہ ان کے درمیان ہم آہنگی اور یکجہتی کو فروغ دیتا ہے۔ اس میلے کی ابتدا مغل بادشاہ اکبر شاہ ثانی کے زمانے میں ہوئی۔ روایت کے مطابق بادشاہ کی ایک بیگم نے اپنے بیٹے کی سلامتی اور واپسی کے لیے منت مانی تھی۔ جب اس کی مراد پوری ہوئی تو اس نے مہرولی میں واقع خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کی درگاہ پر پھولوں کا پنکھا چڑھایا۔ بعد میں یہ رسم ایک بڑے میلے کی شکل اختیار کر گئی۔

اس میلے میں رنگ برنگے پھولوں سے خوبصورت پنکھے تیار کیے جاتے تھے اور جلوس کی صورت میں درگاہ اور یوگ مایا مندر تک لے جائے جاتے تھے۔ شہر بھر میں جشن کا سماں ہوتا، بازار سجائے جاتے، لوگ نئے کپڑے پہنتے اور مختلف تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔ موسیقی، رقص، کھیل تماشے اور دیگر ثقافتی پروگرام اس میلے کا حصہ ہوتے تھے۔ بادشاہ خود بھی اس تقریب میں شریک ہوتا اور عوام کے ساتھ خوشیاں مناتا تھا۔

پھول والوں کی سیر کئی برسوں تک بڑے جوش و خروش سے منائی جاتی رہی، لیکن 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد یہ سلسلہ رک گیا۔ بعد ازاں آزاد ہندوستان میں اس تاریخی اور ثقافتی روایت کو دوبارہ زندہ کیا گیا۔ آج بھی یہ میلہ ہر سال منعقد ہوتا ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے لوگ اس میں شرکت کرتے ہیں۔

یہ میلہ ہمیں محبت، رواداری، مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا درس دیتا ہے۔ پھول والوں کی سیر اس بات کی روشن مثال ہے کہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ باہمی احترام اور بھائی چارے کے ساتھ مل جل کر رہ سکتے ہیں۔

جواب: ہندوستان کے مذہبی تہوار عید،کرسمس،دیوالی،گروپرب ہیں۔ اس کے غلاوہ اور بھی تہوار ہیں جو ملک کے الگ الگ حصّوں میں منائے جانتے ہیں

جواب: پھول والوں کی سیر کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں ہندو مسلم بھائی چارے کے ساتھ پھولوں کا پنکھامہرولی میں جوگ مایا کے مندر اور خواجہ بختیار کاکی کے مزار پر چڑھانے کے لیے لے کر جاتے ہیں۔

جواب: انگریز ہمارے ملک میں تجارت کی غرض سے آئے تھے لیکن یہاں آکر انہوں نے لوگوں میں پھوٹ ڈالی اور بہت سے علاقوں میں قابض ہو گئے۔اور تجارت کے ساتھ ساتھ حکومت کو اپنا مقصد بنا لیا۔

جواب: پرانے زمانے میں رتھ،بیل گاڑی،گھوڑے اور پالکیاں استعمال ہوتی تھی۔ 

جواب: میلے کے اہتمام میں بادشاہ کُشتیاں دیکھتے تھے اور مرغے اور تیتر لڑاتے تھے۔گھوڑوں اور اونٹوں کی دوڑ بھی ہوتی تھی۔

جواب:  جوگ مایا کا مندر اور خواجہ بختیار کاکیؒ کی درگاہ دہلی کے مہرولی میں واقع ہے۔

جواب:  آخری مغل بادشاہ کا نام مرزا جہانگیر تھا۔

جواب: آزادی کہ بعد پھول والوں کی سیر ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے شروع کروائی تھی۔ 

جواب: پھول والوں کی سیر کا میلہ ہمیں آپسی بھائی چارہ کا سبق سکھاتا ہے۔ اس میلہ میں ہندو ، مسلم، سکھ، عیسائی  سبھی شریک ہوتے ہیں اور آپسی بھائی چارے اور عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ میلہ دہلی میں آپسی بھائی چارے کی ایک خاص تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے۔۔

پھول والوں کی سیرسبھی مذہب کے لوگ مناتے ہیں۔

انگریزوں نے شہزادے کو قید کردیا۔

خواجہ بختیار کاکیؒ کا مزار مہرولی میں ہے۔

بیل گاڑی پر بیٹھ کر لوگ مہرولی جاتے تھے۔

پھول والوں کی سیر بھادو کے موسم میں ہوتا تھا۔

پھول والوں کی سیر مہینے کی چودھویں رات کو منایا جاتا تھا۔

پہلے دن پھولوں کا پنکھا جوگ مایا کے مندر پر چڑھایا جاتا تھا۔

دوسرے دن پھولوں کا پنکھا خواجہ بختیار کاکیؒ کی درگاہ پر چڑھایا جاتا تھا۔

جوش وخروشہندوستان میں سبھی تیوہار جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں۔
دخلدوسروں کے کام میں دخل نہ دیں۔ 
قید  اورنگ زیب نے شاہ جہاں کو قید میں ڈال دیا۔ 
دارالسلطنت دہلی ہندوستان کا دارالسلطنت ہے۔ 
فروغ  ہمیں اردو زبان کا فروغ کرنا چاہیے۔
آپسی بھائی چارے کو فروغ دیا جانا چاہیے۔
احترام ہمیں اپنے بڑوں کا احترام کرنا چاہیے۔ 
غول شیر نے ہرنوں کے غول پر حملہ کردیا۔ 
پرساد مندروں میں پرساد بٹ رہے تھے۔ 
مذاہبمذہب
علاقہعلاقوں
انگریزوںانگریز
گاڑیگاڑیاں
پنکھوںپنکھا
پالکیپالکیاں
حویلیحویلیاں
کڑھائیکڑھائیاں
بادشاہفقیر
قیدآزاد
بربادآباد
رونقبے رونق
پسندناپسند

Our Visitor

0 2 4 9 8 0
Users Today : 2
Users Yesterday : 53
Users Last 7 days : 358
Users Last 30 days : 1273
Users This Month : 55
Users This Year : 5261
Total Users : 24980
Views Today : 2
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 600
Views Last 30 days : 2707
Views This Month : 117
Views This Year : 10106
Total views : 58721
Who's Online : 0
Your IP Address : 213.180.203.237
Server Time : 02/07/2026 2:47 AM
error: Content is protected !!