اسکولاین سی ای آرٹی

جی آیا صاحب – منٹو

یہ سبق ایک محنتی اور فرمانبردار لڑکے قاسم کی کہانی ہے جو ایک انسپکٹر صاحب کے گھر کام کرتا تھا۔ قاسم برتن صاف کرتا، جوتے پالش کرتا، گھر کی صفائی کرتا اور ہر کام نہایت ایمانداری اور دلجمعی سے انجام دیتا تھا۔ وہ ہر بات کے جواب میں ادب سے "جی آیا صاحب” کہتا تھا، اسی وجہ سے سب اسے پسند کرتے تھے۔

ایک دن انسپکٹر صاحب نے دیکھا کہ قاسم کے ہاتھ زخمی ہیں اور اس کے باوجود وہ مسلسل کام کر رہا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے ہاتھ میں زخم ہونے کے باوجود وہ برتن دھوتا، جوتے پالش کرتا اور دوسرے کام انجام دیتا رہا۔ انسپکٹر صاحب اس کی محنت اور ذمہ داری سے بہت متاثر ہوئے۔

چند روز بعد قاسم کی طبیعت خراب ہوگئی۔ جب اسے اسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ زخم خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔ یہ سن کر سب افسردہ ہوگئے، لیکن قاسم نے بڑی ہمت اور صبر کا مظاہرہ کیا۔

آخرکار قاسم کا آپریشن ہوا اور اس کا ایک ہاتھ کاٹنا پڑا۔ اس کے باوجود اس نے حوصلہ نہیں ہارا اور زندگی کا سامنا بہادری سے کیا۔ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ محنت، فرض شناسی، صبر اور ہمت انسان کو عظیم بناتے ہیں۔

یہ سبق محنت، ذمہ داری، فرمانبرداری، صبر اور قربانی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ قاسم کا کردار ہمیں سکھاتا ہے کہ مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دینے چاہئیں۔

  • محنت اور دیانت داری کامیابی کی کنجی ہیں۔
  • کام کو پوری ذمہ داری سے انجام دینا چاہیے۔
  • بیماری یا مشکل میں صبر اور حوصلے کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
  • دوسروں کی خدمت اور فرمانبرداری اچھی عادت ہے۔

1۔ انسپکٹر صاحب کا رویہ قاسم کے ساتھ کیسا تھا؟

جواب: انسپکٹر صاحب کا رویہ قاسم  کے ساتھ  اچھا نہیں تھا۔

2۔  قاسم ، انسپکٹر صاحب کے ہر حکم پر کیا کہتا تھا؟

جواب: قاسم انسپکٹر صاحب کے ہر حکم پر جی آیا صاحب اور بہت اچھا صاحب کی گردان کرتا۔

3۔ گھر کا کام قاسم کس ڈھنگ سے کرتا تھا؟

جواب: قاسم گھر کا کام بہت سلیقے سے دل لگا کر کرتا تھا۔

4۔ قاسم کی نیند کس وجہ سے پوری نہیں ہوتی تھی؟

جواب: قاسم کو بہت زیادہ کام کرنا پڑتا تھا ۔ اسے اپنی عمر سے زیادہ کام کرنا پڑتا۔

5۔ قاسم نے پہلی بار کام سے بچنے کے لیے کیا کیا؟

جواب: کام سے بچنے کے لیے قاسم نے تیز دھار چاقو سے اپنی انگلی کاٹ لی تاکہ زخمی انگلی دیکھ کر اسے کام کے لیے نہیں کہا جائے اور وہ کچھ دن آرام کر سکے۔

6۔ چاقو سے انگلی کٹنے کے بعد قاسم کیوں مسکرایا؟

جواب: قاسم کو اپنی نیند صاف نظر آرہی تھی اور وہ اس بات سے خوش تھا کہ اب وہ اپنی نیند پوری کر سکے گا۔

7۔ انسپکٹر صاحب نے آخری مرتبہ انگلی کاٹنے پر اس کے ساتھ کیا کیا؟

جواب: آخری بار انگلی کاٹنے کے بعد انسپکٹر صاحب نے قاسم کو گھر سے نکال دیا اور اس کی بقایہ تنخواہ بھی نہیں دی۔

8۔ ڈاکٹروں نے قاسم کے زخم کے بارے میں کیا رائے دی؟

جواب: ڈاکٹروں نے کہا کہ زخم خطرناک صورت اختیار کر گیا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔

9۔ چارپائی سے لٹکے ہوئے چوبی تختے پر کیا لکھا تھا؟

جواب: نام محمد قاسم ولد عبد الرحمٰن مرحوم

فاصلےفاصلہ
لمحاتلمحہ
حرکتحرکات
گدھوںگدھا
دواادویات
کروٹیںکروٹ
تختہتختے
ناقابلقابل
خفاراضی
سیاہسفید
تیزکند
فتحشکست
غلیظ صاف ستھرا 
مشغول(مصروف، کام میں لگا ہوا)قاسم اپنے کام میں مشغول رہتا۔
جنبش(حرکت، ہلنا) وہ اپنی جگہ سے جنبش بھی نہ کر سکا۔ 
لمحات یہ لمحات خوشگوار تھے۔ 
انتھک  قاسم انتھک محنت کرتا۔ 
غلیظ(گندا) اس کے کپڑے غلیظ تھے۔ 
خفگی(ناراضگی) میڈم نے خفگی سے دیکھا۔ 
نوخیز  قاسم نوخیز لڑکا تھا۔ 

Our Visitor

0 2 6 7 8 2
Users Today : 51
Users Yesterday : 51
Users Last 7 days : 480
Users Last 30 days : 1804
Users This Month : 51
Users This Year : 7063
Total Users : 26782
Views Today : 104
Views Yesterday : 144
Views Last 7 days : 1119
Views Last 30 days : 3619
Views This Month : 104
Views This Year : 13723
Total views : 62338
Who's Online : 1
Your IP Address : 185.191.171.16
Server Time : 01/08/2026 5:57 PM
error: Content is protected !!