شہر آشوب : تعارف، پس منظر | مضمون نگار: مجید بیدار
شاعری کے دوران عوام کی بدحالی، سپاہیوں کی لاپرواہی اور محکموں کی بے اعتدالی کے علاوہ شہر کی ابتر حالت کے ساتھ ساتھ تباہی و بربادی کا ذکر کیا جائے، جس کے اظہار کے لیے مختلف ہیئوں کو استعمال کیا جائے تو اس قسم کے شعری رویے کو ’’شہر آشوب“ کہا جاتا ہے۔ دو فارسی الفاظ سے وجود میں آنے والی یہ مرکب ترکیب محاسن کے بجائے معائب کی نمائندگی کرتی ہے۔ شہر آشوب مرکب ترکیب ہونے کے علاوہ ادبی اصطلاح کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ شاعری میں مستعمل اس فارسی اصطلاح میں دو کیفیتوں کی نمائندگی موجود ہے۔ عربی میں شہر کے معنی قمری مہینے کے لیے جاتی ہیں اور بعض اوقات ۲۹ یا ۳۰ دن پر مشتمل ایک مہینہ تصور کیا جاتا ہے، جو سال کے تعین میں مددگار ہوتا ہے۔ اسکے بجائے فارسی میں شہر کے معنی بڑی آبادی والا بلدہ یا نگر کے لیے جائیں گے۔ اس شہر جیسے لفظ کے ساتھ آشوب جیسی ترکیب کا استعمال بھی کئی معنی کی نمائندگی کرتا ہے۔
شہرآشوب کی معنویت
یہ لفظ فارسی سے استعمال ہونے والی ایسی ترکیب ہے، جس کے معنی ہلچل ، فتنہ و فساد کے علاوہ پریشانی وشور و غوغا کے لیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب آشوب کا لفظ کسی بکھیڑے، بلوے اور غدر کے علاوہ ہنگامی صورت حال کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی فارسی ترکیب آشوب سے آشوب اٹھانا کا فعل بھی مروج ہے، جس کے معنی فتنہ و فساد بر پا کرنے کے ہوتے ہیں۔ فارسی میں آشوب زمانہ اور آشوب روزگار کے ذکر کے ذریعہ زمانہ کے فتنے اور آشوب گاہ کی ترکیب کے ذریعہ فتنہ و فساد کے مقام کی معنویت ادا ہوتی ہے۔ غرض دو الفاظ کی ترکیب سے شاعری میں استعمال ہونے والی اصطلاح ”شہر آشوب کے ذریعہ کسی شہر کی تنظیمی بدحالی، عوام کی پریشانی، فوجی تباہی و بربادی کے علاوہ کسی ہنگامہ کے وقوع پذیر ہونے کی وجہ سے شہر یا گاؤں میں پیدا ہونے والی بدامنی کو شاعری میں بیان کرنے شعری انداز قرار پاتا ہے۔ یہ کیفیت کسی ، ملک شہر یا گاؤں میں اس وقت پیدا ہو سکتی ہے جب کہ کسی بیرونی فوج کا حملہ ہو یا پھر فوجی بد انتظامی کی وجہ سے عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہو، یا پھر شہر میں بسنے والے مختلف گروہوں میں اختلافات اور ناچاقی کی صورت حال پیدا ہو گئی یا پھر آپسی تناؤ یا فرقہ واری گروہ بندی کی وجہ سے بندوبست میں بدحالی عام ہو جائے۔ اس قسم کے حالات دور حاضر میں مختلف مسائل کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اور یہ مسائل، سیاسی ، سماجی اور معاشرتی ہونے کے علاوہ بیرونی مداخلت کا وسیلہ بھی ہو سکتے ہیں۔ غرض کوئی شاعر شہر کی ابتر حالت سے متاثر ہو کر شعر گوئی کے ذریعہ اس ابتر حالت کا ذکر کرتے ہوئے اپنی شاعری کو بدحالی اور بدامنی کے موضوعات سے وابستہ کر دے تو اس قسم کی شاعری کو ’’شہر آشوب“ کہا جاتا ہے۔
موضوعی صنف
اردو کے بیشتر ناقدین نے شہر آشوب کو ایک موضوعی صنف قرار دیا ہے اور اس قسم کی شاعری کے توسط سے کسی ملک یا شہر کی تباہی و بربادی یا زمین کے کسی خطہ پر اثر انداز ہونے والے غیر یقینی حالات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے اظہار کے لیے بلاشبہ کسی قسم کی ہیئت کی پابندی لازم نہیں، بلکہ شاعر اپنی مرضی سے غزل کی ہیئت میں یا مثنوی ، قصیدہ کے علاوہ ہنس ، مسدس اور مثلث کی ہیئت میں بھی اظہار خیال کر سکتا ہے۔
شہرآشوب کی ہیئت
روایتی انداز سے اردو شاعری میں لکھے ہوئے شہر آشوب بیشتر مخمس کی ہیئت کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس قسم کی شاعری کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر کی حساس طبیعت نہ صرف تباہی و بربادی پر افسردہ ہے، بلکہ اسے پیش کرنے کے دوران شاعر کا دردمندانہ اندازعوام کومتاثر کیے بغیر نہیں رہتا۔ اردو کے بیشتر شعراء نے شہر آشوب لکھنے کے دوران مخمس کے علاوہ مسدس کی ہیئت کا استعمال بھی کیا ہے۔ ان دونوں بیٹوں میں آخری ایک یا دو مصرعے اظہار کی کیفیاتی خصوصیت کو نمایاں کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اس لیے اردو شاعروں نے مثلث اور مربع کے علاوہ مسمط کی شعری حیثیتوں کو شہر آشوب کے لیے استعمال نہیں کیا گیا، کیوں کہ شہر آشوب کے ذریعہ تاثر پیدا کرنے میں ہر بند کا آخری مصرع یا دو مصرعے تاثر کو اُبھارنے کا حق ادا کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اردو کے بیشتر شعراء نے شہر آشوب کی صنف کو فروغ دینے کے لیے مخمس اور مسدس کا طرز اختیار کر کے اس فن کی بھر پور نمائندگی کی۔ غرض شعری ادب میں شہر آشوب کا ذخیرہ بہت کم ہے لیکن جن شاعروں نے اس صنف شاعری پر توجہ دی، اس کے مطالعہ سے اس عہد کی بد حالی اور شاعر کے افکار سے ٹپکنے والی دردمندی محسوس کی جاسکتی ہے، اس لیے شہر آشوب کی صنف کو شاعری میں اپنے عہد کی موثر نمائندگی والی شعری صنف میں شمار کیا جاتا ہے۔
فنی پس منظر
شہر آشوب اردو شاعری کی ایک ایسی شعری صنف ہے، جس میں کسی معاشرہ اور سماج میں پیدا شدہ بد حالی کی کیفیتوں کو بیان کیا جاتا ہے۔ اس صنف کے ذریعہ ایک جانب بد نظمی، پریشان حالی، تباہی اور مصیبت کے علاوہ فتنہ و فساد کے احوال بیان کیے جاتے ہیں تو دوسری جانب ان سے انسانی زندگی پر مرتب ہونے والے برے اثرات کا ذکر بھی جاری و ساری رہتا ہے، اس اعتبار سے آج کے جمہوری دور میں شہر آشوب کی صنف کو جمہوری عہد کی نمائندہ صنف شاعری کا موقف حاصل ہو جاتا ہے۔ اس قسم کی شاعری کے ذریعہ شاعر صرف شہر کے حالات اور واقعات کے بیان پر ہی خصوصی توجہ نہیں دیتا ، بلکہ اس کے ساتھ ہی شاعر کی فطری اور فکری صلاحیت پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ شہر کی تباہی پر شاعر کے حساس خیالات اور ملک کی بد حالی پر اس کے دل میں پیدا ہونی والے دردو کمک اور تباہی و بربادی کے اظہار کے دوران شاعر کا دردمندانہ اسلوب ہی ایسے اوصاف ہیں جن کی وجہ سے شہر آشوب کی فنی خصوصیت واضح ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ شہر آشوب کے ذریعہ صرف فتنہ و فساد اور مصیبتوں کے ذکر پر اکتفا نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ اس شعری صنف کے ذریعہ شاعر کا دھڑکتا ہوا دل بھی زیریں رو کے ساتھ شاعری کا حصہ بنتا جاتا ہے۔ ہے۔ اس طرح شہر اور علاقہ کے نا گفتہ بہ حالات اور بے یقینی کی کیفیات سے متاثر ہونے جو شاعری کرتا ہے وہی نظم ” شہر آشوب‘‘ہے، جس میں زبان و بیان اور اظہار کے پیرایے کے ذریعہ بد حالی کا ذکر کرنا لازمی ہے۔ اس بد حالی کے پیدا ہونے پر شاعر کے دل کی تڑپ اور کسک کو بھی شہر آشوب میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ کسی مخصوص ہیئت کو اختیار بغیر شہر آشوب لکھنا شاعر کے لیے اس لیے دشوار ہے کہ ایک دردمند دل رکھنے والے شاعر کے توسط سے ہی شہر آشوب کا اظہار ممکن ہے۔ اس قسم کی شاعری میں رومانوی ، عاشقانہ اور حسن پرستانہ خیالات کے اظہار کا کوئی موقع نہیں، بلکہ حقیقی حالات کا دردمندانہ انداز ہی شہر آشوب کا قیمتی اظہار ہے۔ اردو کے بیشتر شاعر ہمیشہ رنگین مزاجی ، عاشقانہ طبیعت، رومان پروری اور مبالغہ آرائی کے ساتھ ساتھ حقیقت سے گریز کے علمبردار رہے، اسی دور میں اردو شاعروں کی جانب لکھے گئے شہر آشوب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ شعری اظہارات میں کیفیاتی فضا کو نمایاں کرنے میں شہر آشوب جیسی صنف کا کسی دوسری صنف شاعری سے تقابل نہیں کیا جاسکتا۔
شہر آشوب کی وجوہات
فطری طور پر شاعر حساس مزاج واقع ہوتا ہے اور فطرت کے خلاف ہونے والے تمام ہنگاموں سے وہ نہ صرف تکلیف محسوس کرتا ہے، بلکہ اس کے اظہار کے لیے شعری حسن کو بروئے کار بھی لاتا ہے، فطری طور پر شعری حسن سے زیادہ شہر آشوب میں تباہی و بربادی، بے چینی و بے قراری کے علاوہ عوامی اور فوجی کیفیت کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ایسے بدحالی کے موقف میں شعری حسیت پیدا کرنا شاعر کے لیے سخت دشوار ہوتا ہے۔ شہر آشوب لکھنے والے اردو کے شاعروں نے اس دشوار مرحلہ کو بھی بڑی آسانی کے ساتھ حل کر لیا۔ شاعروں کے دور میں پیش ہونے والے غیر یقینی حالات اور واقعات بلاشبہ عام انسانوں کے لیے نا قابل برداشت تھے، جنہیں برداشت کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسوآ جانا ایک عام بات تھی لیکن اس کے خاتمہ کی تدبیر کا سوچنا سخت دشوار تھا۔ غرض شہر آشوب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس قسم کی شاعری کے ذریعہ اردو شاعروں نے حالات کے بیان اور اس پر افسردگی کے اظہار کا رویہ ضرور اختیار کیا لیکن کوئی لائحہ عمل یا مدادا، علاج یا پھر روک تھام کی تجویز کو اپنی شاعری میں نمایاں نہ کر سکے، کیوں کہ اس دور کی شاعری میں مداوایا تدبیر کی گنجائش نہیں تھی۔ اگر شہر آشوب میں اس قسم کے خیالات کی پیشکشی کا موقع مل جاتا تو شاید ایسی شاعری نعرہ بازی کی دلیل بن جاتی ، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شہر آشوب ایسا انداز شاعری ہے جس میں دکھ، درد کا ذکر ضرور ہوتا ہے، لیکن اس کے مداوا کی کوئی صورت ظاہر نہیں کی جاتی، عصر حاضر میں لکھی جانے والی شاعری اپنی مقصدیت اور مدادا ، تدبیر اور چارہ جوئی کی وجہ سے اہمیت حاصل کرتی جارہی ہے، اس لیے بعض ناقدین کی نظر میں یہ سوال ابھر سکتا ہے کہ شہر آشوب کی شاعری اس دور کے حالات و واقعات کے اظہار کا بہترین نمونہ ہے لیکن اس میں کسی تدبیر یا علاج کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا۔ اس کا مناسب جواب یہی ہو سکتا ہے کہ روایتی شاعروں کے کلام میں عصری حسیت کو تلاش تو کیا جا سکتا ہے لیکن اس کی چارہ جوئی کا امکان نہیں۔ یہی کیا کم ہے کہ شہر آشوب جیسی شعری صنف کو پڑھنے کے بعد اس دور کے تباہ حال معاشرے اور انسانوں کی بدحالی کی کیفیت سے آگاہی ہو جاتی ہے، سماجی، سیاسی اور معاشرتی شہر آشوب کے مطالعہ کے بعد ہر انسان کا دل حد درجہ متاثر اور افسردہ ہو جاتا ہے۔ یہ تمام تر کمال در حقیقت ان شاعروں کا ہے جنہوں نے شہر آشوب لکھتے وقت صرف لفظوں کو اظہار کا وسیلہ نہیں بنایا، بلکہ کیفیتوں کو نظم کر کے غم زدہ ماحول تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ہر شہر آشوب کے مطالعہ کے بعد آنکھوں میں نمی اور دل میں ہمدردی کا احساس کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اس لیے شہر آشوب کو اس کی فنی خصوصیت کی بنیاد پر ایک بہترین اور جمہوریت کی نمائندہ صنف شاعری کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ شہر آشوب خود ایک موضوعاتی صنف شاعری ہے، اس لیے اس کی قسموں میں سیاسی ، سماجی اور معاشرتی شہر آشوب کے علاوہ پیشہ وروں کے شہر آشوب کی حیثیت حاصل ہوگی۔
تاریخی پس منظر
دنیا کے کسی خطہ میں بھی جب سماجی ابتری ، معاشی و معاشرتی بدحالی اور فوجی و سیاسی بے اعتدالی کے علاوہ انتظامی بدامنی اور اخلاقی گراوٹ کا سلسلہ دراز ہو تو ایسے وقت شاعر صرف اور صرف شہر آشوب کی صنف کو اظہار کا وسیلہ بناتا ہے۔ یہ صنف قدیم دور سے جاری و ساری ہے۔ موجودہ معاشرہ میں سیاسی اور سماجی حالات حد درجہ دگرگوں ہیں اور ایسے حالات قدیم دور میں کبھی بھی پیدانہیں ہوئے تھے۔ پرانے دور میں کسی شہر کی تباہ حالت ، طوفان و باد باراں یا بارش کی کمی یا پھر قحط سالی کی وجہ سے ہو سکتی تھی، اس کے علاوہ بادشاہوں کی فوج کشی اور آپسی رقابت یا نا اتفاقی کی وجہ سے بھی قدیم دور میں حالات پیچیدہ ہو جاتے تھے۔ ایسے وقت شاعروں کی زبان سے اظہار خیال کا نمونہ شہر آشوب کی صورت میں ظاہر ہوتا تھا۔ اردو شعر و ادب کی تاریخ کا پس منظر دکن کی سرزمین سے وابستہ ہے۔ دکن کے شعری سرمایہ پر جس انداز سے تحقیقی کام انجام دیا جانا چاہیے، اس کی آج تک بھی تکمیل نہیں ہو سکی۔ اس کے علاوہ سرزمین دکن میں کسی وقت بھی خانہ جنگی کے حالات پیدا نہیں ہوئے۔بادشاوں کی جنگوں کے اثرات بھی عوام کی زندگی کو متاثر کرنے کا سبب نہیں بن سکے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ تیرہویں صدی سے لے کر اٹھارہویں صدی تک دکن کے بہت بڑے علاقہ پرمسلمان بادشاہ کا اثر و تسلط جاری رہا اور مسلمان بادشاہوں نے امن وامان کی فضا کے لیے اسلامی مزاج کو اختیار کر کے ہر قسم کی بدامنی کا خاتمہ کر دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمنی دور سے لے کر قطب شاہی اور عادل شاہی دور اور پھر اور نگ زیب عالمگیر کی آمد سے مغلیہ دور کے خاتمہ کے بعد آصف جاہی دور تک بھی دکن کی شاعری میں کسی بھی شاعر کی جانب سے لکھے ہوئے شہر آشوب کا ذکر نہیں ملتا۔چوں کہ اس صنف سے ہی ظاہر ہے کہ اس کا وجود بے سکونی اور بدامنی کے دور میں ممکن ہے۔ اس قسم کے حالات ہندوستان میں اس وقت پیدا ہوئے جب کہ مغلیہ سلطنت تباہ و تاراج ہو گئی اور انگریزوں کی سازش کی وجہ سے ہندوستانی حکمرانوں کو غیر یقینی حالات کا سامنا کرنا پڑا، اسی لیے ملک میں سیاسی صورت حال بگڑنے لگی اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوتا گیا، جس کے نتیجہ میں اردو کی شعری صنف شہر آشوب کی روایت کو محکم ہونے کا موقع فراہم ہو گیا۔ تاریخی پس منظر میں عہد شاہ جہاں اور اور نگ زیب کے عہد میں بھی کسی قسم کے شہر آشوب کا ثبوت نہیں ملتا۔ اور نگ زیب کے انتقال کے بعد مغلیہ سلطنت کے زوال اور دہلی کی تباہی و بربادی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے شاعروں کو شہرآشوب لکھنے کی طرف مائل کیا۔ اس طرح شعری حیثیت سے شہر آشوب کی روایت سب سے پہلے دبستان دہلی کا وسیلہ بنتی ہے۔ دہلی کے متقدمین شعراء کے کلام میں شہر آشوب کی کیفیت دکھائی نہیں دیتی، کیوں کہ اس دور میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی حالات پر آشوب نہیں ہوئے تھے، جب کہ شعرائے دہلی کے متوسطین کے قافلہ میں ایسے شعراء پیدا ہوئے جنہوں نے سیاسی، معاشی اور معاشرتی حالات کی بے چینی کو بطور خاص محسوس کیا، جنہیں شعر گوئی کے توسط سے بیان کرنے کی طرف خصوصی توجہ دی۔ اس دور کے سب سے نمائندہ شہر آشوب گو شاعر کی حیثیت سے میرتقی میر کا مقام کافی بلند ہے۔ میر نے دہلی کی تباہی اور دربانوں کی بد حالی کے علاوہ فوجوں کی بد نظمی اور سیاستی بے چینی کو خود محسوس کیا تھا ، اس لیے شہر آشوب کی صنف کو نمائندگی دینے والے شاعروں میں سودا اور میر کے نام کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ سودا اور میر کے شہر آشوب مخمس کی شکل میں موجود ہیں، جن سے نہ صرف اس دور کے معاشی حالات کا پتہ چلتا ہے، بلکہ فوجی لشکروں کی بری حالت اور رہن سہن میں تکلیف کے علاوہ عام انسانوں کی بے چینی اور روزگار کے بند ہونے کے واقعات کا ذکر ان کے لکھے ہوئے شہر آشوب میں بطور خاص موجود ہے۔ دبستان دہلی سے شہر آشوب کی روایت ترقی کرتی ہوئی دبستان لکھنو میں پہنچی۔ لکھنو کے شاعروں نے بادشاہوں کی عیش پرستی اور رنگین مزاجی کے علاوہ انتظامی امور سے لا پرواہی کو شہر آشوب کے روپ میں بیان کر کے اس صنف شاعری میں اظہا ر احق ادا کیا ۔ سب سے اہم لکھنوی شاعر کی حیثیت سے نظیر اکبر آبادی کے کلام کو پیش کیا جا سکتا ہے، جنہوں نے مخمس کی ہیئت میں شہر آشوب لکھ کر اس صنف کی آبیاری کی طرف توجہ دی۔ شہر آشوب نگار شاعروں میں نظیر اکبر آبادی پہلے شاعر ہیں جن کے شہر آشوب میں ۷۲ پیشوں کا ذکر موجود ہے اور ان تمام پیشرووں کے کاروبار تباہ و تاراج ہونے کو بڑے ہی شاندار انداز میں بیان کیا ہے۔ لکھنو اوراودھ کے ابتر حالات کے نتیجہ میں وہاں کے بے شمار شعراء نے شہر آشوب لکھ کر اپنے دل کا غبار نکالا۔ شہر آشوب کی شاعری میں نا گفتہ بہ حالات و واقعات پیش کرنے کے علاوہ حکومت ، عوام اور فوج کی بد حالی کے ذکر کو بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اس رویہ میں شاعر کے دل کی بھڑاس بھی اس صنف میں اظہار کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ الغرض شہر آشوب کی صنف دبستان دہلی سے سفر کرتے ہوئے لکھنو پہنچی، جس کے بعد مختلف علاقوں میں اردو کے فروغ کی وجہ سے رام پور عظیم آباد اور بھوپال کے شاعروں نے شہر آشوب کی روایت کو اپنی شاعری میں استعمال کیا۔ حیدر آباد دکن کے کسی شاعر کے کلام میں شہر آشوب اس لیے موجود نہیں ہے کہ جنوبی ہند میں حکمران بادشاہوں کا دور پر سکون رہا، جہاں بدامنی کے خاتمہ پر خاص توجہ دی گئی۔ ۱۸۵۷ء کے غدر کے واقعات پر دہلی اور لکھنو میں لکھے گئے شہر آشوب اپنی انفرادیت رکھتے ہیں۔ اسی دور میں شہر حیدرآباد میں انگریز فوج پر حملہ کرنے والے ہندوستانی افراد اور دکن کے اہم تاریخی شہر اورنگ آباد میں انگریزی فوج پر حملہ کرنے کی پاداش میں ۲۱ مسلمانوں کو سولی پر چڑھانے کے واقعات رونما ہوئے ، جو بدامنی کی مثال نہیں تھے، اس لیے دکن کے علاقہ میں شہر آشوب تحریر کرنے پر توجہ نہیں دی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ جنوبی ہند کے بادشاہوں نے رواداری کا سلوک اختیار کرتے ہوئے ہر قسم کی بدامنی کے خاتمہ کو خصوصی اہمیت دی تھی۔ غرض ہندوستان کی جدو جہد آزادی کے دوران اور پھر آزادی کے بعد بھی مختلف حالات نا گفتہ بہ رہے جن پر اردو شعراء نے شہر آشوب لکھے۔ عصر حاضر میں ساری دنیا کو عالم کاری گلوبل و پیچ کا موقف حاصل ہو گیا ہے اور اردو کا شاعر عصری تناظر میں دنیا کے ممالک کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے شاعری کو گلوبل کے طور پر استعمال کرنے لگا ہے، جس کے نتیجہ میں شاعروں نے ترقی پسندی اور جدیدیت کے علاوہ مابعد جدیدیت تصورات سے شعر و ادب کی دنیا کو روشن کیا۔ ان شاعروں نے بھی دنیا کے مختلف ممالک کی بد حالی اور بدانتظامی کو شاعری کا وسیلہ بنا کر شہر آشوب کی صنف پر خصوصی توجہ دی۔ فیض احمد فیض کی شاعری میں بھی اس صنف کا وجود ہے۔ مشہور ترقی پسند شاعر علی سردار جعفری نے افغانستان کے سیاسی حالات پر العطش، نظم لکھی، جس کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ عصری تناظر میں بھی شہر آشوب کی صنف تمام روایتی خصوصیات کی حامل ہے جسے قدیم دور میں اردو شاعری میں شہر کی تباہ حالت سے وابستہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح اردو شاعری میں شہر آشوب کا ورثہ اٹھارہویں صدی سے شروع ہو کر عصر حاضر تک دراز ہوتا چلا گیا ہے۔
(ماخوذ: اردو کی شعری و نثری اصناف)

Users Today : 7
Users Yesterday : 14
Users Last 7 days : 192
Users Last 30 days : 977
Users This Month : 457
Users This Year : 3560
Total Users : 23279
Views Today : 9
Views Yesterday : 38
Views Last 7 days : 418
Views Last 30 days : 2238
Views This Month : 929
Views This Year : 6639
Total views : 55254
Who's Online : 1