اصناف شاعری کا تعارفشہر آشوب

شہر آشوب : تعارف، پس منظر | مضمون نگار: مجید بیدار

 شہرآشوب کی معنویت

یہ لفظ فارسی سے استعمال ہونے والی ایسی ترکیب ہے، جس کے معنی ہلچل ، فتنہ و فساد کے علاوہ پریشانی وشور و غوغا کے لیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب آشوب کا لفظ کسی بکھیڑے، بلوے اور غدر کے علاوہ ہنگامی صورت حال کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی فارسی ترکیب آشوب سے آشوب اٹھانا کا فعل بھی مروج ہے، جس کے معنی فتنہ و فساد بر پا کرنے کے ہوتے ہیں۔ فارسی میں آشوب زمانہ اور آشوب روزگار کے ذکر کے ذریعہ زمانہ کے فتنے اور آشوب گاہ کی ترکیب کے ذریعہ فتنہ و فساد کے مقام کی معنویت ادا ہوتی ہے۔ غرض دو الفاظ کی ترکیب سے شاعری میں استعمال ہونے والی اصطلاح ”شہر آشوب کے ذریعہ کسی شہر کی تنظیمی بدحالی، عوام کی پریشانی، فوجی تباہی و بربادی کے علاوہ کسی ہنگامہ کے وقوع پذیر ہونے کی وجہ سے شہر یا گاؤں میں پیدا ہونے والی بدامنی کو شاعری میں بیان کرنے شعری انداز قرار پاتا ہے۔ یہ کیفیت کسی ، ملک شہر یا گاؤں میں اس وقت پیدا ہو سکتی ہے جب کہ کسی بیرونی فوج کا حملہ ہو یا پھر فوجی بد انتظامی کی وجہ سے عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہو، یا پھر شہر میں بسنے والے مختلف گروہوں میں اختلافات اور ناچاقی کی صورت حال پیدا ہو گئی یا پھر آپسی تناؤ یا فرقہ واری گروہ بندی کی وجہ سے بندوبست میں بدحالی عام ہو جائے۔ اس قسم کے حالات دور حاضر میں مختلف مسائل کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اور یہ مسائل، سیاسی ، سماجی اور معاشرتی ہونے کے علاوہ بیرونی مداخلت کا وسیلہ بھی ہو سکتے ہیں۔ غرض کوئی شاعر شہر کی ابتر حالت سے متاثر ہو کر شعر گوئی کے ذریعہ اس ابتر حالت کا ذکر کرتے ہوئے اپنی شاعری کو بدحالی اور بدامنی کے موضوعات سے وابستہ کر دے تو اس قسم کی شاعری کو ’’شہر آشوب“ کہا جاتا ہے۔

موضوعی صنف

(ماخوذ: اردو کی شعری و نثری اصناف)

Our Visitor

0 2 4 9 7 9
Users Today : 1
Users Yesterday : 53
Users Last 7 days : 357
Users Last 30 days : 1272
Users This Month : 54
Users This Year : 5260
Total Users : 24979
Views Today : 1
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 599
Views Last 30 days : 2706
Views This Month : 116
Views This Year : 10105
Total views : 58720
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.122
Server Time : 02/07/2026 1:50 AM
error: Content is protected !!