حیدر علی آتش – غیرت مہر رشک ماہ ہو تم
غیرت مہر رشک ماہ ہو تم
خوب صورت ہو بادشاہ ہو تم
جس نے دیکھا تمہیں وہ مر ہی گیا
حسن سے تیغ بے پناہ ہو تم
کیوں کر آنکھیں نہ ہم کو دکھلاؤ
کیسے خوش چشم خوش نگاہ ہو تم
حسن میں آپ کے ہے شان خدا
عشق بازوں کے سجدہ گاہ ہو تم
ہر لباس آپ کو ہے زیبندہ
جامہ زیبوں کے بادشاہ ہو تم
فوق ہے سارے خوش جمالوں پر
وہ ستارے جو ہیں تو ماہ ہو تم
ہم سے پردہ وہی حجاب کا ہے
کوچہ گردوں سے رو براہ ہو تم
کیوں محبت بڑھائی تھی تم سے
ہم گناہ گار بے گناہ ہو تم
جو کہ حق وفا بجا لائے
شاہد اللہ ہے گواہ ہو تم
ہے تمہارا خیال پیش نظر
جس طرف جائیں سد راہ ہو تم
دونوں بندے اسی کے ہیں آتشؔ
خواہ ہم اس میں ہوویں خواہ ہو تم
Users Today : 48
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 514
Users Last 30 days : 1971
Users This Month : 1214
Users This Year : 13023
Total Users : 32742
Views Today : 69
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1090
Views Last 30 days : 4299
Views This Month : 2659
Views This Year : 26838
Total views : 75453
Who's Online : 0