غزل

حیدر علی آتش – غیرت مہر رشک ماہ ہو تم

غیرت مہر رشک ماہ ہو تم

خوب صورت ہو بادشاہ ہو تم

جس نے دیکھا تمہیں وہ مر ہی گیا

حسن سے تیغ بے پناہ ہو تم

کیوں کر آنکھیں نہ ہم کو دکھلاؤ

کیسے خوش چشم خوش نگاہ ہو تم

حسن میں آپ کے ہے شان خدا

عشق بازوں کے سجدہ گاہ ہو تم

ہر لباس آپ کو ہے زیبندہ

جامہ زیبوں کے بادشاہ ہو تم

فوق ہے سارے خوش جمالوں پر

وہ ستارے جو ہیں تو ماہ ہو تم

ہم سے پردہ وہی حجاب کا ہے

کوچہ گردوں سے رو براہ ہو تم

کیوں محبت بڑھائی تھی تم سے

ہم گناہ گار بے گناہ ہو تم

جو کہ حق وفا بجا لائے

شاہد اللہ ہے گواہ ہو تم

ہے تمہارا خیال پیش نظر

جس طرف جائیں سد راہ ہو تم

دونوں بندے اسی کے ہیں آتشؔ

خواہ ہم اس میں ہوویں خواہ ہو تم

Our Visitor

0 2 2 4 2 9
Users Today : 34
Users Yesterday : 30
Users Last 7 days : 227
Users Last 30 days : 842
Users This Month : 531
Users This Year : 2710
Total Users : 22429
Views Today : 87
Views Yesterday : 185
Views Last 7 days : 566
Views Last 30 days : 1686
Views This Month : 1103
Views This Year : 4810
Total views : 53425
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.110
Server Time : 18/04/2026 11:58 AM
error: Content is protected !!