حیدر علی آتش – غیرت مہر رشک ماہ ہو تم
غیرت مہر رشک ماہ ہو تم
خوب صورت ہو بادشاہ ہو تم
جس نے دیکھا تمہیں وہ مر ہی گیا
حسن سے تیغ بے پناہ ہو تم
کیوں کر آنکھیں نہ ہم کو دکھلاؤ
کیسے خوش چشم خوش نگاہ ہو تم
حسن میں آپ کے ہے شان خدا
عشق بازوں کے سجدہ گاہ ہو تم
ہر لباس آپ کو ہے زیبندہ
جامہ زیبوں کے بادشاہ ہو تم
فوق ہے سارے خوش جمالوں پر
وہ ستارے جو ہیں تو ماہ ہو تم
ہم سے پردہ وہی حجاب کا ہے
کوچہ گردوں سے رو براہ ہو تم
کیوں محبت بڑھائی تھی تم سے
ہم گناہ گار بے گناہ ہو تم
جو کہ حق وفا بجا لائے
شاہد اللہ ہے گواہ ہو تم
ہے تمہارا خیال پیش نظر
جس طرف جائیں سد راہ ہو تم
دونوں بندے اسی کے ہیں آتشؔ
خواہ ہم اس میں ہوویں خواہ ہو تم
Users Today : 15
Users Yesterday : 63
Users Last 7 days : 387
Users Last 30 days : 1420
Users This Month : 1014
Users This Year : 6220
Total Users : 25939
Views Today : 28
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 765
Views Last 30 days : 2546
Views This Month : 1906
Views This Year : 11895
Total views : 60510
Who's Online : 0